SHAWORDS
Ashok Mizaj Badr

Ashok Mizaj Badr

Ashok Mizaj Badr

Ashok Mizaj Badr

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ghazal mein dard ke ehsaas ko jagaae baghair

غزل میں درد کے احساس کو جگائے بغیر ہنر میں آتا نہیں دل پہ چوٹ کھائے بغیر تلاش کرتا ہوا پھر رہا ہوں برسوں سے کہاں گیا مرا بچپن مجھے بتائے بغیر نہ جانے کون سی دنیا میں لوگ جیتے ہیں خیال و خواب کی دنیا کوئی بسائے بغیر کئی ستارے بڑے بد نصیب ہوتے ہیں وہ ڈوب جاتے ہیں پلکوں پہ جھلملائے بغیر مجھے غزل بھی مری دادی ماں سی لگتی ہے نہیں سلاتی کہانی کوئی سنائے بغیر

غزل · Ghazal

kitni sachchaai kis khabar mein hai

کتنی سچائی کس خبر میں ہے یہ تو اخبار کی نظر میں ہے گھر میں رہنا تمہیں نہیں آتا ورنہ سارا سکون گھر میں ہے آسماں ایک سا ہے سب کے لئے فرق تیری مری نظر میں ہے زہر اتنا تو سانپ میں بھی نہیں زہر جتنا تمہارے ڈر میں ہے ہر قدم پر بھلے ہوں مے خانہ ایک مسجد بھی رہ گزر میں ہے میں جو چاہوں تو پھونک دوں دنیا آگ اتنی مرے جگر میں ہے میری خواہش ہے چاند چھونے کی یوجنا آج بھی ادھر میں ہے

غزل · Ghazal

ham log apni raah ki divaar ho gae

ہم لوگ اپنی راہ کی دیوار ہو گئے یعنی کہ مصلحت میں گرفتار ہو گئے اب تو بلند اور ذرا حوصلہ کرو پتھر جو میل کے تھے وہ دیوار ہو گئے طوفاں میں ہم کو چھوڑ کے جانے کا شکریہ اب اپنے ہاتھ پاؤں ہی پتوار ہو گئے گھر کو گرانے والے سیاسی مزاج تھے غم میں شریک ہو کے وہ غم خوار ہو گئے پردے کی بات پردے پہ کھل کر جو آ گئی بچے سمے سے پہلے سمجھ دار ہو گئے اتنی ذرا سی بات پہ حیران ہے مزاج کاغذ کے پھول کیسے مہک دار ہو گئے

غزل · Ghazal

mujh par inaayatein hain kai saahibaan ki

مجھ پر عنایتیں ہیں کئی صاحبان کی کچھ ہیں زمین والوں کی کچھ آسمان کی اپنے سفر کا تنہا مسافر نہیں ہوں میں عزت جڑی ہے مجھ سے مرے خاندان کی وہ مجھ کو آزما کے کڑی دھوپ میں رہا مجھ کو خزاں بہار لگی امتحان کی خسروؔ امیر کی یا برہمن کی ہو غزل محتاج کب رہی ہے کسی بھی زبان کی ہندی کی اپنی شان ہے اردو کی اپنی شان دونوں ہی آن بان ہیں ہندوستان کی

غزل · Ghazal

vasl ki to kabhi furqat ki ghazal likhte hain

وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں ہم تو شاعر ہیں محبت کی غزل لکھتے ہیں پڑھیے ان کو کسی کاغذ پہ نہیں سرحد پر اپنے خوں سے جو شہادت کی غزل لکھتے ہیں رہنما اپنے وطن کے بھی ہیں کتنے شاطر وہ شہادت پہ سیاست کی غزل لکھتے ہیں تم نے مزدور کے چھالے نہیں دیکھے شاید اپنے ہاتھوں پہ وہ محنت کی غزل لکھتے ہیں ملک ایسے بھی ہیں کچھ خاص پڑوسی اپنے سرحدوں پہ جو عداوت کی غزل لکھتے ہیں ہم سبھی چین سے سوتے ہیں مگر راتوں میں فوج والے تو حفاظت کی غزل لکھتے ہیں شوق لکھنے کا بہت ہم کو بھی ہے لیکن ہم سونے کے پین سے غربت کی غزل لکھتے ہیں

غزل · Ghazal

zindagi thaam liyaa karte hain baDh kar lamhe

زندگی تھام لیا کرتے ہیں بڑھ کر لمحے وقت آنے پہ بدلتے ہیں مقدر لمحے آ بھی جا تجھ کو بلاتے ہیں یہ کہہ کر لمحے پھر نہ آئیں گے بہاروں کے معطر لمحے ہر گھڑی ایک سا موسم بھی کہاں رہتا ہے ہیں کہیں پھول سے کومل کہیں پتھر لمحے سب میں یاری ہیں یہاں دوستی یاری سکھ دکھ کس نے دیکھے ہیں یہاں عمر سے بڑھ کر لمحے زندگی آج بھی مصروف بہت ہے لیکن ہم چلے آئے ترے پاس چرا کر لمحے ایک نا چیز کو فن کار بنا دیتے ہیں حاصل عمر ہوا کرتے ہیں دم بھر لمحے

Similar Poets