"tiri surat se hasin aur bhi mil ja.enge jis men sirat bhi tiri ho vo kahan se la.un"

Ashok Sawhny
Ashok Sawhny
Ashok Sawhny
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"zamane ne laga.in mujh pe lakhon bandishen lekin sar-e-mahfil miri nazron ne tum se guftugu kar li"
tiri surat se hasin aur bhi mil jaaeinge
jis mein sirat bhi tiri ho vo kahaan se laaun
zamaane ne lagaain mujh pe laakhon bandishein lekin
sar-e-mahfil miri nazron ne tum se guftugu kar li
Ghazalغزل
is ko ghurur-e-ishq ne kyaa kyaa banaa diyaa
اس کو غرور عشق نے کیا کیا بنا دیا پتھر بنا دیا کبھی شیشہ بنا دیا ہر زخم دل کو ہم نے سجایا ہے اس طرح جگنو بنا دیا کبھی تارا بنا دیا میں کس زباں سے شکر خدا کا ادا کروں جس نے مجھے فراق کا شیدا بنا دیا اب کس کے در پہ جاؤں میں انصاف کے لئے منصف نے قاتلوں کو مسیحا بنا دیا جب بھی ہمیں محاذ سے آواز دی گئی ہم نے لہو سے ہند کا نقشہ بنا دیا اس کو خلوص کیسے نظر آئے گا اشوکؔ دشمن کو انتقام نے اندھا بنا دیا
neki badi ki ab koi mizaan hi nahin
نیکی بدی کی اب کوئی میزان ہی نہیں ایماں کی بات یہ ہے کہ ایمان ہی نہیں اس دور بے ضمیر پہ کیا تبصرہ کروں لگتا ہے میرے عہد میں انسان ہی نہیں کیسے رفو کروں میں کہاں سے رفو کروں دل بھی ہے میرا چاک گریبان ہی نہیں روداد دل بھی ہے یہ غم کائنات بھی میری غزل نشاط کا سامان ہی نہیں برکت ہمارے رزق میں آئے گی کس طرح گھر میں ہمارے جب کوئی مہمان ہی نہیں لو وہ اذاں سے صبح کی تصدیق ہو گئی گویا اب اس کے آنے کا امکان ہی نہیں
manzil-e-sidq-o-safaa kaa raasta apnaaiye
منزل صدق و صفا کا راستہ اپنائیے کاروان زندگی کے رہنما بن جائیے ہم نے مانا ہر طرف تیرہ شبی کا راج ہے آپ سورج ہیں اگر تو روشنی پھیلائیے آئنہ پتھر سے ٹکرانا ضروری تو نہیں بات جب ہے آئنے سے آئنہ ٹکرائیے آپ کو تیرہ شبی سے اس قدر کیوں خوف ہے ہو سکے تو ایک جگنو ہی مقابل لائیے یہ تو سچ ہے زندگی زندہ دلی کا نام ہے زندگی کے نام پر اتنا بھی مت اترائیے گر یوں ہی کرتا رہا مجھ کو زمانہ پائمال آپ کو سب کیا کہیں گے غور تو فرمائیے یہ بھی اک سستا سا انداز سیاست ہے اشوکؔ کچھ نہ کیجے بیٹھ کر بس تبصرے فرمائیے
palkon pe intizaar kaa mausam sajaa liyaa
پلکوں پہ انتظار کا موسم سجا لیا اس سے بچھڑ کے روگ گلے سے لگا لیا کوئی تو ایسی بات تھی ہم کچھ نہ کر سکے سارے جہاں میں خود کو تماشہ بنا لیا اب یہ کسے بتائیں ہمیں کیا خوشی ملی جس دن ذرا سا بوجھ کسی کا اٹھا لیا میں عمر بھر نہ جانے بھٹکتا کہاں کہاں اچھا ہوا جو آپ نے اپنا بنا لیا کتنے سکوں سے کاٹ دی پرکھوں نے زندگی جو مل گیا نصیب سے چپ چاپ کھا لیا احباب کو نہ دیجئے الزام دوستو ہم نے تو دشمنوں کو بھی اپنا بنا لیا گزرے ہیں زندگی میں بہت تجربات سے لیکن اشوکؔ جینے کا انداز پا لیا
gulsitaan-e-zindagi mein zindagi paidaa karo
گلستان زندگی میں زندگی پیدا کرو مسکرا کر روح میں کچھ تازگی پیدا کرو مردنی چہرے بنا کر فائدہ جینے سے کیا کم سے کم اس زندگی میں زندگی پیدا کرو توڑ دو بڑھ کر اندھیری رات کے شڑینتر کو کچھ نہیں تو آرزوئے روشنی پیدا کرو وقت کے بے رحم ہاتھوں نے کچل ڈالا جنہیں ان خزاں دیدہ گلوں میں تازگی پیدا کرو دیکھ لینا یہ جہاں جنت نشاں بن جائے گا دشمنوں سے رسم و راہ زندگی پیدا کرو صرف آبادی بڑھانے سے کوئی حاصل نہیں جن میں ہو انسانیت وہ آدمی پیدا کرو کعبہ و کاشی علامت ہیں خدا کے نور کے تم غریبوں کے گھروں میں روشنی پیدا کرو زندگی بخشی گئی ہے درد دل کے واسطے زندگی میں درد دل اے ساہنیؔ پیدا کرو
jo zaruri hai kaar kar pahle
جو ضروری ہے کار کر پہلے شکر پروردگار کر پہلے غم کا ہر دم بیاں نہیں اچھا اپنی خوشیاں شمار کر پہلے عشق اک آگ کا سمندر ہے یہ سمندر تو پار کر پہلے مت اٹھا انگلیاں رقیبوں پر عیب اپنے شمار کر پہلے روشنی کی اگر تمنا ہے ظلمت شب پہ وار کر پہلے مات بھی اس میں جیت جیسی ہے عشق میں دیکھ، ہار کر پہلے سر بلندی ہے خاکساری میں انکسار اختیار کر پہلے دینے والا بڑائی بھی دے گا اس کے بندوں سے پیار کر پہلے





