
Ashraf Ashar
Ashraf Ashar
Ashraf Ashar
Ghazalغزل
مرا وجود نہیں ہے فقط جہاں کے لئے مجھے خدا نے بنایا ہے لا مکاں کے لئے مرا وجود زمیں کی حدوں تلک ہی نہیں مرا سفر تو مسلسل ہے دو جہاں کے لئے یہ میرے تجربے ہی منزلوں کے رہبر ہیں میں سوچتا ہی نہیں میر کارواں کے لئے ہوائے گرم نے شاخیں تباہ کر ڈالیں لگائے تھے جو شجر ہم نے سائباں کے لئے اڑا دئے ہیں نہ جانے کہاں ہوا نے سب جو تنکے چن لئے تھے میں نے آشیاں کے لئے زمانے کے لئے رہبر سے کم نہیں ہے تو ترا وجود نہیں ہے فقط فغاں کے لئے وصال یار کی خواہش میں دل تڑپتا ہے زمین جیسے تڑپتی ہے آسماں کے لئے مری حیات تو کچھ بھی نہیں تمہارے بغیر تمہارا عشق ضروری ہے قلب و جاں کے لئے یہ رنگ و بو یہ گلستاں یہ خوش نما منظر تمہارا حسن ہی کافی ہے داستاں کے لئے میں اس جہاں میں ہوں لیکن پھر اک جہاں ہے اور یہ زندگی ہے حقیقت میں اس جہاں کے لئے تو رنگ و بو کے نظاروں میں کھو نہ جا اشہرؔ یہ رنگ و بو ہیں فقط تیرے امتحاں کے لئے
miraa vujud nahin hai faqat jahaan ke liye
حسن جاناں نے کیا ہے ہمیں مسحور ذرا دیدۂ شوق نے بھی کر دیا محصور ذرا جان پر میری بن آئی ہے خدا خیر کرے چشم قاتل کو کرے اب کوئی مستور ذرا شہر میں ہم سے کہاں پہلے کوئی واقف تھا نسبت یار سے ہم بھی ہوئے مشہور ذرا ہم نے دیکھا ہے وہ سر کاٹ دئے جاتے ہیں با خدا جو بھی یہاں ہوتے ہیں مغرور ذرا ہر کوئی جان ہتھیلی پہ یہاں رکھتا ہے شہر دل کا بخدا ہٹ کے ہے دستور ذرا ہم کو مت سہل سمجھنا ارے نادان کبھی بسکہ ہم وقت کے ہاتھوں ہوئے مجبور ذرا دیکھنا کیسے تمہارا یہ فتور اترے گا تم کہ طاقت کے نشے میں ہو ابھی چور ذرا ہر قدم سوچ کے ہم کو اب اٹھانا ہوگا بسکہ منزل ہے ہماری ابھی کچھ دور ذرا مشکلوں سے کبھی گھبراتے نہیں اشہرؔ ہم بسکہ حالات کے ہاتھوں ہوئے رنجور ذرا
husn-e-jaanaan ne kiyaa hai hamein mashur zaraa
تیرے جانے سے ہوا دل دشت ویراں کی طرح شہر سارا لگتا ہے اجڑے گلستاں کی طرح میں نے مانگا ہے دعاؤں میں تمہیں تقدیر سے تم دل و جاں میں بسے ہو جان جاناں کی طرح قلب مضطر میں ترے دیدار کی حسرت لئے بس تری دہلیز پر بیٹھا ہوں درباں کی طرح میں نے کیا کیا خواب دیکھے ہیں تمہاری دید کے بام پر آؤ کبھی تم ماہ تاباں کی طرح غیر کو بوسہ زنی کرتے ہوئے دیکھا ہے جب آئنہ تکتا رہا ہوں میں پشیماں کی طرح رسم الفت سے نہیں ہو آشنا تم بے وفا تم وفا بھی کرتے ہو تو ایک احساں کی طرح کیا بتاؤں کیسے سمجھاؤں مسائل کتنے ہیں زندگی الجھی ہوئی ہے زلف پیچاں کی طرح ہرسو رنج و غم کا عالم اور افرا تفری ہے شور برپا ہے یہاں شام غریباں کی طرح ساری دنیا دیکھی میں نے جستہ جستہ با خدا کوئی چہرہ ہی نہیں آیا نظر ماں کی طرح زندگی نے ایسی کروٹ لی ہے اشہرؔ کیا کہوں اب تو اپنے گھر میں بھی رہتا ہوں مہماں کی طرح
tere jaane se huaa dil dasht-e-viraan ki tarah
وہ پہلی سی رونق چمن میں کہاں ہے یہاں ہر طرف بس دھواں ہی دھواں ہے نہیں کوئی میرا یہاں ہم زباں ہے یہاں ہر کوئی مجھ سے بس بد گماں ہے مجھے آشیاں کی ضرورت کہاں ہے مرا آشیاں تو یہ سارا جہاں ہے تو ہی راہبر ہے تو ہی پاسباں ہے لٹیروں کی زد میں مرا کارواں ہے کڑی دھوپ میں جیسے وہ سائباں ہے مری ماں مری جان آرام جاں ہے حقیقت وہ مجھ سے چھپائے گی کب تک نگاہوں میں اس کی محبت عیاں ہے سفر کی طوالت کا مجھ کو نہیں ڈر ابھی حوصلہ میرا اشہرؔ جواں ہے
vo pahli si raunaq chaman mein kahaan hai
شعلہ دل سے جب اٹھے گا تو غزل ہو جائے گی زخم دل پر جو لگے گا تو غزل ہو جائے گی بے دلی میں دن ڈھلے گا تو غزل ہو جائے گی درد فرقت میں جلے گا تو غزل ہو جائے گی ہوش میں لکھنا کمال فن نہیں ہے بے خبر بے خودی میں جب لکھے گا تو غزل ہو جائے گی آنکھوں سے آنکھیں ملیں گی دھڑکنیں رک جائیں گی رخ سے پردہ جو ہٹے گا تو غزل ہو جائے گی آئنہ جب خندہ زن ہوگا تمہارے حال پر وقت جب تم پر ہنسے گا تو غزل ہو جائے گی رات دن اشہرؔ تفکر میں گزر جائیں تو کیا لذت گریہ چکھے گا تو غزل ہو جائے گی
sho'la dil se jab uThegaa to ghazal ho jaaegi
شب ظلمت میں بھی ہم روشنی کی بات کرتے ہیں غموں کے دور میں بھی ہم خوشی کی بات کرتے ہیں ہزاروں خواہشیں دل میں لئے چلتے ہیں ہر لمحہ اجل رقصاں مگر ہم زندگی کی بات کرتے ہیں ہمیں معلوم ہے اوقات اپنی کیا ہے دنیا میں مگر پھر بھی ہمیشہ ہم خودی کی بات کرتے ہیں غم دنیا کے مارے ہیں مقدر کے ستائے ہم مگر پھر بھی ہمیشہ دل لگی کی بات کرتے ہیں زمانہ دشمنی کی بات کرتے کرتے گزرا ہے چلو کچھ دیر اشہرؔ دوستی کی بات کرتے ہیں
shab-e-zulmat mein bhi ham raushni ki baat karte hain





