SHAWORDS
A

Ashraf Kamal Azami Nadvi

Ashraf Kamal Azami Nadvi

Ashraf Kamal Azami Nadvi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

vo dil-e-naazuk pe zakhmon ki giraani de gayaa

وہ دل نازک پہ زخموں کی گرانی دے گیا تا قیامت نہ مٹے ایسی نشانی دے گیا میری آنکھوں کے سمندر میں روانی دے گیا دل کو پیاسا رکھ کے چشم تر کو پانی دے گیا لاؤں میں صبر و شکیبائی کہاں سے دوستو اضطرابات جدائی جاودانی دے گیا حسن ظن رکھتا تھا پہلے وادیان عشق سے موسم گل رنگ بدلا بد گمانی دے گیا تھی وفا کی آس اس بے درد سے دل کو مگر درد بھی دل کو برائے مہربانی دے گیا پہلے آنکھوں میں وہ اشرفؔ پھر ہوا دل میں مقیم درد کے کچھ گل کھلا کر پاسبانی دے گیا

غزل · Ghazal

nahin hai Thiik dikhaave ki shaan rahne de

نہیں ہے ٹھیک دکھاوے کی شان رہنے دے تو رہ زمیں پہ فضا میں اڑان رہنے دے ترے محل کی ضرورت نہ تھی نہ ہے ہم کو ہمارے سر پہ کھلا آسمان رہنے دے نہ چھیڑ وصل کی باتیں نہ گل نہ گلشن کی غم فراق یہ آہ و فغان رہنے دے نگاہ شوق سے مت دیکھ سر بکف ہو کر سہا نہ جائے کرم مہربان رہنے دے ہے ترجمان جگر خوب چشم غمازی نہ کھول اپنی مبارک زبان رہنے دے تو میرے ہاتھ سے تلوار چھین لے اشرفؔ قلم کا تیر ورق کی کمان رہنے دے

غزل · Ghazal

sab ko qaail kar rahi hai khush-bayaani aap ki

سب کو قائل کر رہی ہے خوش بیانی آپ کی کیا قیامت ڈھائے ہے غنچہ دہانی آپ کی ہیں نگاہیں باز اور ذوق نظر میں شوخیاں دل میں رکھ چھوڑی ہے میں نے اک نشانی آپ کی آپ محسن ہیں ہمارے آپ کا احسان ہے ہم سفر اپنا بنایا مہربانی آپ کی آپ کی عشوہ طرازی آپ کا حسن نظر یاد ہیں کیا کیا مجھے باتیں پرانی آپ کی ہے تغافل آج ہم سے کل تلک تھے آشنا کیوں خفا نظریں ہوئیں ہیں ناگہانی آپ کی دل کے مسکن میں جگہ دی آپ نے مہمان کو شان رکھتی ہے انوکھی میزبانی آپ کی خوبصورت ہے کتاب زندگی کا ہر ورق جب سے اشرفؔ نے سنائی ہے کہانی آپ کی

غزل · Ghazal

hai TuuTaa dil miraa ab is jahaan se

ہے ٹوٹا دل مرا اب اس جہاں سے نہ آتا کاش میں آیا کہاں سے وہ ہم سے دور بھاگے اس طرح سے کہ شیطاں بھاگتا جیسے اذاں سے کیا فاقہ نہ بیچا گھر پرانا بہت ہے یاد وابستہ مکاں سے مرا دل ہی نہیں جب ساتھ میرے میں کیا امید رکھوں کارواں سے کتر دے گی اجل اک دن ترا پر نہ رکھ پرواز اونچی کہکشاں سے مرے دل کے قریب آ جاؤ ہمدم غلط فہمی ہٹا دو درمیاں سے غزل گوئی کی کوشش ہے یہ اشرفؔ محبت ہے مجھے اردو زباں سے

غزل · Ghazal

huaa nilaam ghar aur khaanmaan aahista-aahista

ہوا نیلام گھر اور خانماں آہستہ آہستہ چلے ہم چھوڑ کے اپنا مکاں آہستہ آہستہ مذمت کر رہا ہے اس بیان حق پہ ہر کوئی ہوا ہے دشمن جانی زماں آہستہ آہستہ حیا و شرم ہیں مانع اگرچہ لب کشائی سے نگاہ کرتی ہے لیکن سب بیاں آہستہ آہستہ بجھا دے تشنگی اے ابر باراں اب کے صحرا کی ہٹا رخ سے نقاب درمیاں آہستہ آہستہ وہ چشم بے مروت سے مجھے دیکھا کئے یارو لب و لہجے میں آئیں سختیاں آہستہ آہستہ دم رخصت مرے جذبات قابو سے رہے جاتے عیاں ہونے لگا راز نہاں آہستہ آہستہ شکست کارزار عشق کی لذت کو کیا کہنا میں اشرفؔ اور ہوتا ہوں جواں آہستہ آہستہ

غزل · Ghazal

haTi chehre se jab un ke naqaab aahista-aahista

ہٹی چہرے سے جب ان کے نقاب آہستہ آہستہ سوال آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ سنا ہے شوق کی سچائیاں وہ آزماتے ہیں رخ روشن سے اٹھتی ہے نقاب آہستہ آہستہ تری زلف پریشاں اس طرح چہرے پہ آتی ہے کہ جیسے چاند پر چھائے سحاب آہستہ آہستہ خزاں کا خوف ہے یا موسموں کی کج ادائی ہے بہاروں میں بھی مرجھائے گلاب آہستہ آہستہ گل و بلبل بہت نازاں تھے سب گلشن کی زینت پر مگر جاتا رہا آخر شباب آہستہ آہستہ جناب داغؔ کی اردو مری غزلوں کا آئینہ مرتب ہوگی غزلوں کی کتاب آہستہ آہستہ عجب انداز رکھتا ہے یہ انداز کرم اشرفؔ نگاہیں تیز ہیں لیکن خطاب آہستہ آہستہ

Similar Poets