SHAWORDS
A

Ashraf Raza Qadri

Ashraf Raza Qadri

Ashraf Raza Qadri

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

main jis se bhi ik lamhe ko mansub rahaa huun

میں جس سے بھی اک لمحے کو منسوب رہا ہوں یہ سچ ہے ہر اس شخص کا محبوب رہا ہوں اک دور تھا مجھ پر بھی بہت لوگ فدا تھے اک دور میں میں خوب بہت خوب رہا ہوں مجھ کو بھی میسر تھی فقیری کی یہ دولت اک عرصے تلک یار میں مجذوب رہا ہوں جن لوگوں سے ملنا ہی مرے بس میں نہیں تھا کچھ ایسے ہی لوگوں کا میں مطلوب رہا ہوں دریا کے تلاطم سے جو لایا تھا بچا کر اب اس کی عنایت سے ہی میں ڈوب رہا ہوں کچھ اور نیا ہو تو دکھا دے مجھے ورنہ دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوں یہ زندگی غربت میں گزاری ہے اے اشرفؔ تا عمر مگر صاحب اسلوب رہا ہوں

غزل · Ghazal

muskuraanaa tumhin se sikhaa hai

مسکرانا تمہیں سے سیکھا ہے ہر بہانہ تمہیں سے سیکھا ہے غم کے موسم میں ہنس کے دشمن کا دل جلانا تمہیں سے سیکھا ہے اپنے محبوب کی خوشی کے لئے ہار جانا تمہیں سے سیکھا ہے مجھ کو معلوم ہی نہ تھا کچھ بھی گنگنانا تمہیں سے سیکھا ہے چھوٹی چھوٹی سی بات پر اکثر روٹھ جانا تمہیں سے سیکھا ہے غم کا مجھ پر اثر نہیں ہوتا غم بھلانا تمہیں سے سیکھا ہے ہم تو نا اہل تھے مگر اشرفؔ دوستانہ تمہیں سے سیکھا ہے

غزل · Ghazal

meri nazron kaa intikhaab ho tum

میری نظروں کا انتخاب ہو تم عشق کی آخری کتاب ہو تم تم کو دیکھوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کھلتا ہوا گلاب ہو تم جس کو پڑھ کر گھٹن نہیں ہوتی یار وہ دل نشیں نصاب ہو تم دل میں جتنے سوال اٹھے تھے ان سوالات کے جواب ہو تم دیکھ کر چاند تم کو شرمائے حسن سے اتنا فیضیاب ہو تم کیا ہی کہنا ہے اس کی قسمت کا جس کسی کو بھی دستیاب ہو تم جو بھی ملتا ہے مجھ سے اے اشرفؔ بس یہ کہتا ہے کامیاب ہو تم

غزل · Ghazal

muqaddar aazmaanaa chhoD deinge

مقدر آزمانا چھوڑ دیں گے ہم اپنا ہر خزانہ چھوڑ دیں گے یہ وعدہ ہے اگر ہم تم سے بچھڑے تو اپنے گاؤں آنا چھوڑ دیں گے تعلق ہم سبھی رکھیں گے ان سے اگر وہ دل دکھانا چھوڑ دیں گے مرے جانے کی لگ جائے خبر تو یقینی ہے وہ کھانا چھوڑ دیں گے دلاسہ دوگے میرے لوٹنے کا تو وہ آنسو بہانا چھوڑ دیں گے سبھی دشمن بہت خوش ہوں گے اشرفؔ اگر ہم مسکرانا چھوڑ دیں گے

غزل · Ghazal

vo ik daanaa hai divaana nahin hai

وہ اک دانا ہے دیوانہ نہیں ہے اسے تو نے ابھی جانا نہیں ہے فریبی ہے ذرا بچ کر ہی رہنا اگر دھوکا تجھے کھانا نہیں ہے اشاروں ہی اشاروں میں سمجھ لو زباں سے کچھ بھی سمجھانا نہیں ہے جہاں سے آ گئے محروم ہو کر وہاں اب لوٹ کر جانا نہیں ہے بچھڑ جانا تو تیرا فیصلہ ہے ابھی تک میں نے یہ مانا نہیں ہے غزل میں جو لکھا ہے یاد رکھنا حقیقت ہے یہ افسانہ نہیں ہے

غزل · Ghazal

tiri yaadon mein hi gum-sum rahun ab ye nahin hogaa

تری یادوں میں ہی گم صم رہوں اب یہ نہیں ہوگا ترے ہی حسن کے قصے لکھوں اب یہ نہیں ہوگا انا کو روند کر خودداری کو پامال کر ڈالوں کسی بھی حسن پر میں مر مٹوں اب یہ نہیں ہوگا مرے بھی منتظر ہیں عیش و آرائش زمانے میں ترے ہی ہجر میں مرتا رہوں اب یہ نہیں ہوگا وہ جس نے چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہاتھ تھاما تھا اسے اپناؤں اور اس سے ملوں اب یہ نہیں ہوگا بھرم جس نے محبت کا سر بازار توڑا تھا میں اس کے واسطے آہیں بھروں اب یہ نہیں ہوگا ذرا بھی قدر جس نے کی نہیں میری محبت کی میں اس کی یاد میں در در پھروں اب یہ نہیں ہوگا اے اشرفؔ جو مری دنیا سے کافی دور جا بیٹھا میں ایسے شخص کو اپنا کہوں اب یہ نہیں ہوگا

Similar Poets