SHAWORDS
Ashutosh Dwivedi

Ashutosh Dwivedi

Ashutosh Dwivedi

Ashutosh Dwivedi

poet
1Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

آنکھوں میں ایک خاموشی ہے لب پر اک حرف دعا سائیں امید کا تنکا ہاتھ لئے دیکھو دل ڈوب رہا سائیں کسی عہد کے دام چکانا ہیں کسی قسم کی لاج رکھی ہوئی ہے ابھی جینے میں آسانی ہے میری مشکلیں اور بڑھا سائیں کچھ وحشت ہے درکار مجھے یہ رات نگلنا چاہے ہے میرا چاند آسیب زدہ سائیں میرا تارا ٹوٹ چکا سائیں ناخدا ہوں میں اپنی کشتی کا میرے ہاتھ نہیں ہیں یہ چپو ہیں میرے پاؤں دھنسے ہوئے دلدل میں میرے ہوش و حواس ہوا سائیں میں سر لئے آس بھری گگری کسی سوکھی ہوئی ندی کی طرف من ہی من میں پانی پانی کہتا ہوا بھاگ رہا سائیں

aankhon mein ek khaamoshi hai lab par ik harf-e-duaa saain

1 views

غزل · Ghazal

دل میں جو عشق عشق ہے شوشہ ہے عقل کا تیری جوانی دل کی بڑھاپا ہے عقل کا دیکھو کہ دل پذیر ہے پرکھو ہے دل شناس وحشت جنوں کے بیچ میں پردہ ہے عقل کا روکو اسے بتاؤ سہی راستہ کہ دل دل کا تو ٹھیک ٹھاک ہے کچا ہے عقل کا افسوس خود کو داؤ میں ہارے گا بد قمار نہلے پہ تیرے دل کے یہ دہلا ہے عقل کا مجنوں ہے تجھ میں رہتے ہیں جنات یاس کے حاصل پے کچھ نہیں ہے تو لیلیٰ ہے عقل کا آنکھوں کو لگ رہا ہے امیدوں کا پارجات پانی کا ایک صحرا ہے دھوکہ ہے عقل کا تو پھر کہاں تھا این محبت کے وقت دوست پہلا ہی حرف ع کا حجه ہے عقل کا

dil mein jo ishq ishq hai shosha hai aql kaa

غزل · Ghazal

اتنا زیادہ سر پہ چڑھانا ٹھیک نہیں خوابوں کو تعبیر دکھانا ٹھیک نہیں ٹھیک نہیں ہے جس کا نشانہ اس سے بچ کب لگ جائے اس کا نشانہ ٹھیک نہیں اس امید سے دل نہ لگانا تم مجھ سے اس دل سے امید لگانا ٹھیک نہیں

itnaa ziyaada sar pe chaDhaanaa Thiik nahin

غزل · Ghazal

ہر عشق کرنے والا یہ کہتا ہوا ملا پانی ملا پہ ریت پہ پھیلا ہوا ملا اک رنگ مسکراتی مصور کی لاش پر تصویر کے بغل میں سسکتا ہوا ملا مجھ کو دوا جو ڈھونڈھنا تھی مل گئی مجھے تجھ کو جو زخم ڈھونڈھنا تھا کیا ہوا ملا پہلے سے رو چکی ہوئیں آنکھیں ملیں مجھے یعنی کے خواب جو ملا ٹوٹا ہوا ملا لوٹے جو گھر منڈیر پہ سہما سا اک چراغ مجھ سے ہوائے شام سے بچتا ہوا ملا

har ishq karne vaalaa ye kahtaa huaa milaa

غزل · Ghazal

بندوق میں گولی بھی نہیں سر میں ہدف بھی اور بڑھتا چلا جاتا ہوں جنگل کی طرف بھی مجھ سے نہیں ہونا ہے کوئی معجزہ اس بار اٹھ کر چلی جانی ہے مری آخری صف بھی اب مجھ میں سمندر ہے سمندر میں خلا ہے موتی بھی مرا لے گیا مجھ سے وہ صدف بھی تم کو تو وفادار کہا جاتا رہا ہے حاصل ہے تمہیں چھوڑ کے جانے کا شرف بھی آنے کو تو آ جائے گا جینے کا سلیقہ تب تک پہ چلا جائے گا جینے کا شغف بھی پنجرے سے زیادہ رہا اڑنے کا مجھے ڈر زنجیر بھی ہوتا ہوں میں زنجیر بکف بھی

banduq mein goli bhi nahin sar mein hadaf bhi

غزل · Ghazal

کم ہو گئے جو اشک بھی آنکھوں کے پاس تب سچ ہو گیا کبھی جو تمہارا قیاس تب کچھ کچھ تو ساتھ دیں گے مگر ایک موڑ تک اور زندگی میں آئیں گے ایسے پچاس تب میں صبر کر رہا ہوں مگر پھل کا کیا ہوا آئے گا جب آ جائے گی من میں کھٹاس تب اس کا بھی رکھو پاس جو آیا ہے ننگے پاؤں کل کو ملو گے تم بھی دریدہ لباس تب بہتی ندی میں دیکھ جلی تیلیاں نہ پھینک صحرا ہو ریت ریت ہو لگ جائے پیاس تب روئی کے بھاؤ ملتے ہیں وہ بھی کہ جب غریب دھنتا ہے ایک عمر بدن کا کپاس تب

kam ho gae jo ashk bhi aankhon ke paas tab

Similar Poets