SHAWORDS
Asif Jamal

Asif Jamal

Asif Jamal

Asif Jamal

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں کیا جانئے میں کون سی مٹی سے بنا تھا کیا کیا نہ پریشانیٔ خاطر سے گزر آئے کیا کیا نہ پڑے رنج کہ دیکھا نہ سنا تھا نالے کو اسی دل میں اتر جانے کی حسرت اور نے کو اسی بھولنے والے کا گلا تھا آشفتگیٔ سر کی جو تہمت ہے غلط ہے میں اپنی ہی خوشبو سے پریشان پھرا تھا یہ کون دل و جاں سے ہم آہنگ ہوا ہے اس درجہ تو محسوس خدا بھی نہ ہوا تھا

saae ki tarah koi mire saath lagaa thaa

غزل · Ghazal

دل ہے کہ ہمیں پھر سے ادھر لے کے چلا ہے امید سے پھر رشتۂ جاں باندھ لیا ہے آہٹ پہ نہ چونکو کہ نہ آئے گی یہاں موت دستک پہ نہ جاؤ کہ یہ آوارہ ہوا ہے اب سنگ مداوا نہیں آشفتہ سری کا یاں سنگ سے بھی پھوڑ کے سر دیکھ لیا ہے کیا کیجیے ہر کاوش درماں ہوئی محدود ہر جادۂ امکاں ہے کہ مسدود ہوا ہے زندہ ہیں بہر طور کہ مرنا نہیں بس میں تا عمر ہمارے لیے جینے کی سزا ہے اے دل کبھی پتھر بھی کہیں موم ہوئے ہیں جو خواب میں دیکھا ہے کہیں سچ بھی ہوا ہے

dil hai ki hamein phir se udhar le ke chalaa hai

غزل · Ghazal

ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں ٹوٹتے ہوئے طلسم پھیلتا ہوا دھواں وہ بھی اپنے حسن سے بے خیال ہو چلا اور خواب بن گئیں میری سر گرانیاں قیس کی محبتیں کوہ کن کی چاہتیں اور یہ روایتیں بھولتی کہانیاں ہم سے پہلے اور بھی کر گئے وفا بہت خاک میں ملا چلے ہم بھی زندگانیاں اپنے سلسلے سے بھی کیا خیال آئے ہیں جاں کی قدر کچھ نہیں دل بدست دلبراں

ek sard jang hai ab mohabbatein kahaan

غزل · Ghazal

مگر نہیں تھا فقط میرؔ خوار میں بھی تھا کہ اہل درد میں آشفتہ کار میں بھی تھا صبا کی طرح اسے بھی نہ تھا ثبات کہیں نہ جانے کیا تھا بہت بے قرار میں بھی تھا پناہ لینی پڑی تھی مجھے بھی سائے میں رہین منت دیوار یار میں بھی تھا ہزار اپنی طبیعت پہ جبر کرتا تھا میں صبر کرتا تھا بے اختیار میں بھی تھا یہ کس نے دیکھا کہ مجھ بے نوا کے دامن میں محبتیں تھیں بہت سایہ دار میں بھی تھا

magar nahin thaa faqat 'mir' khvaar main bhi thaa

غزل · Ghazal

بھولے ہوئے ہیں سب کہ ہے کار جہاں بہت لیکن وہ ایک یاد ہے دل پر گراں بہت کچھ رفتگاں کے غم نے بھی رکھا ہمیں نڈھال کچھ صدمہ ہائے نو سے رہے نیم جاں بہت ہم کو نہ زلف یار نہ دیوار سے غرض ہم کو تو یاد یار کی پرچھائیاں بہت وہ سرد مہریاں کہ ہمیں راکھ کر گئیں سنتے ہیں پہلے ہم بھی تھے آتش بجاں بہت اک موج فتنہ سر کہ رواں ہر نفس میں ہے ہر دم یقیں سے پہلے اٹھے ہیں گماں بہت اب کے جنوں میں موج صبا کا بھی ہاتھ ہے موج صبا کہ اب کے اٹھی سرگراں بہت اب یہ خبر نہیں وہ سمندر ہے یا سراب اپنے یہاں ہے تشنگیٔ جسم و جاں بہت صحرا سے ورنہ اپنا علاقہ نہیں ہے کچھ آشفتگیٔ سر کی ہوا ہے یہاں بہت

bhule hue hain sab ki hai kaar-e-jahaan bahut

غزل · Ghazal

آنکھ بے خواب ہوئی ہے کیسی یہ ہوا اب کے چلی ہے کیسی تو مری یاد میں روتا تو نہیں یہ ہواؤں میں نمی ہے کیسی سایہ ہے اور کشیدہ کتنا دھوپ ہے اور کڑی ہے کیسی کیسا سویا ہے مقدر اپنا اور زمیں گھوم رہی ہے کیسی رسم دنیا ہے جسے جانا ہے ہم پہ افتاد پڑی ہے کیسی گنگ ہیں زندہ دلان لاہور رسم پرسش بھی اٹھی ہے کیسی

aankh be-khvaab hui hai kaisi

Similar Poets