
Asif Shafi
Asif Shafi
Asif Shafi
Ghazalغزل
کار دنیا سے گئے دیدۂ بے دار کے ساتھ ربط لازم تھا مگر نرگس بیمار کے ساتھ قیمت شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ واقعہ کچھ تو ہوا چشم خریدار کے ساتھ ہر کوئی جان بچانے کے لئے دوڑ پڑا کون تھا آخر دم قافلہ سالار کے ساتھ میں ترے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں دیکھ مجھ کو نہ پرکھ وقت کی رفتار کے ساتھ ظلم سے ہاتھ اٹھانا نہیں آتا ہے اگر کچھ رعایت ہی کرو اپنے گرفتار کے ساتھ قیمت حسن و ادا جان کی بازی ٹھہری لوگ آئے تھے وہاں درہم و دینار کے ساتھ حد سے بڑھ کر بھی تغافل نہیں اچھا ہوتا کچھ تعلق بھی تو رکھتے ہیں پرستار کے ساتھ
kaar-e-duniyaa se gae dida-e-bedaar ke saath
عمر ساری تری چاہت میں بتانی پڑ جائے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آگ بجھانی پڑ جائے میری اس خانہ بدوشی کا سبب پوچھتے ہو اپنی دیوار اگر تم کو گرانی پڑ جائے میرے اعدا سے کہو حد سے تجاوز نہ کریں یہ نہ ہو مجھ کو بھی شمشیر اٹھانی پڑ جائے کیا تماشا ہو اگر وقت کے سلطان کو بھی در انصاف کی زنجیر ہلانی پڑ جائے کاش پھر مجھ سے وہ پوچھیں مری وحشت کا سبب کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے دشت سے شہر میں کچھ سوچ کے آنا آصفؔ زندگی بھر کی ریاضت پہ نہ پانی پڑ جائے
umr saari tiri chaahat mein bitaani paD jaae
جہان حسن و نظر سے کنارہ کرنا ہے وجود شب کو مجھے استعارہ کرنا ہے مرے دریچۂ دل میں ٹھہر نہ جائے کہیں وہ ایک خواب کہ جس کو ستارہ کرنا ہے تمام شہر اندھیروں میں ڈوب جائے گا ہوا کو ایک ہی اس نے اشارہ کرنا ہے یہ قربتوں کے ہیں لمحے انہیں غنیمت جان انہی دنوں کو تو ہم نے پکارا کرنا ہے وہ دوستوں کو بتائے گا پیار کا قصہ اور اس نے ذکر بہت کم ہمارا کرنا ہے مری نگاہ میں جچتا نہیں کوئی آصفؔ وصال یار کو حاصل دوبارہ کرنا ہے
jahaan-e-husn-o-nazar se kinaara karnaa hai
یہ بھی کرنا پڑا محبت میں خود سے ڈرنا پڑا محبت میں دشت جاں کے مہیب رستوں سے پھر گزرنا پڑا محبت میں کتنے ملبوس زخم نے بدلے جب سنورنا پڑا محبت میں پار اترے تو پھر سمجھ آئی کیوں اترنا پڑا محبت میں خود بخود ہم سمٹ گئے دل میں جب بکھرنا پڑا محبت میں
ye bhi karnaa paDaa mohabbat mein
زمیں کہیں ہے مری اور آسمان کہیں بھٹک رہا ہوں خلاؤں کے درمیان کہیں مرا جنوں ہی مرا آخری تعارف ہے میں چھوڑ آیا ہوں اپنا ہر اک نشان کہیں اسی لیے میں روایت سے منحرف نہ ہوا کہ چھوڑ دے نہ مجھے میرا خاندان کہیں لکھی گئی ہے مری فرد جرم اور جگہ لیے گئے ہیں گواہان کے بیان کہیں ہوائے تند سے لڑنا مری جبلت ہے ڈبو ہی دے نہ مجھے یہ مری اڑان کہیں دل حزیں کا عجب حال ہے محبت میں کوئی غضب ہی نہ ڈھا دے یہ ناتوان کہیں میں داستان محبت اسے سنا آیا کہیں کا ذکر تھا لیکن کیا بیان کہیں ہوائے شہر تجھے راس ہی نہیں آصفؔ مثال قیس تو صحرا میں خاک چھان کہیں
zamin kahin hai miri aur aasmaan kahin
فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے زمیں کو بھی اسی رفتار پر رکھا ہوا ہے ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے ہے دیکھا مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے پلٹ کر آ ہی جائے گا کبھی بھولے سے شاید سو میں نے اک دیا دیوار پر رکھا ہوا ہے
falak ko kis ne ik parkaar par rakkhaa huaa hai





