amn-e-aalam ki khaatir
jang yugon se jaari hai

Aslam Habeeb
Aslam Habeeb
Aslam Habeeb
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
نظر کا فکر کا فن کا ایاغ روشن کر چراغ بعد میں پہلے دماغ روشن کر زمانے بھر کے سبھی راز کھل ہی جائیں گے ابھی تو جادۂ دل کا سراغ روشن کر یہ شمعیں کام نہیں آتیں رزم گاہوں میں یہاں تو اپنے لہو کے چراغ روشن کر گھنے اندھیرے میں ڈوبی ہے کائنات تری زمیں پہ لا کے فلک کے چراغ روشن کر یہی تو زیست کا سرمایہ ہیں اجال انہیں یہی ہیں عمر کا حاصل یہ داغ روشن کر
nazar kaa fikr kaa fan kaa ayaagh raushan kar
کسی کی یاد کا سایا تھا یا کہ جھونکا تھا مرے قریب سے ہو کر کوئی تو گزرا تھا عجب طلسم تھا اس شہر میں بھی اے لوگو پلک جھپکتے ہی اپنا جو تھا پرایا تھا مجھے خبر ہو جو اپنی تو تم کو لکھ بھیجوں ابھی تو ڈھونڈ رہا ہوں وہ گھر جو میرا تھا کسی نے مڑ کے نہ دیکھا کسی نے داد نہ دی لہولہان لبوں پر مرے بھی نغمہ تھا میں بچ کے جاتا تو کس سمت کس جگہ کہ مجھے کہیں زمیں نے کہیں آسماں نے گھیرا تھا ذرا پکار کے دیکھوں نہ ان دیاروں میں مرا خیال ہے اک شخص میرا اپنا تھا مہک لہو کی تھی یا تیرے پیرہن کی تھی مرے بدن سے ہیولیٰ سا ایک لپٹا تھا اداس گھڑیو ذرا یہ پتہ تو دے جاؤ کہاں گیا وہ خوشی کا جو ایک لمحہ تھا
kisi ki yaad kaa saayaa thaa yaa ki jhonkaa thaa
زیست کی دھوپ سے یوں بچ کے نکلتا کیوں ہے تو جو سورج ہے تو پھر سائے میں چلتا کیوں ہے تو جو پتھر ہے تو پھر پلکوں پہ آنسو کیسے تو سمندر ہے تو پھر آگ میں جلتا کیوں ہے میرے چہرے میں جو شائستہ نظر آتا ہے میری شریانوں میں وہ شخص ابلتا کیوں ہے کل تمہیں نے اسے یہ پیالہ دیا تھا یارو معترض کیوں ہو کہ وہ زہر اگلتا کیوں ہے میری سانسوں میں سسکنے کی صدا آتی ہے ایک مرگھٹ سا مرے سینے میں جلتا کیوں ہے جانے کن ذروں سے اس خوں کی شناسائی ہے پاؤں اس موڑ پہ ہی آ کے پھسلتا کیوں ہے محفل لغو سے تہذیب نے کیا لینا ہے ایسے شوریدہ سروں میں تو سنبھلتا کیوں ہے
ziist ki dhuup se yuun bach ke nikaltaa kyuun hai
سبک سا درد تھا اٹھتا رہا جو زخموں سے تو ہم بھی کرتے رہے چھیڑ چھاڑ اشکوں سے سبھی کو زخم تمنا دکھا کے دیکھ لیے خدا سے داد ملی اور نہ اس کے بندوں سے دھواں سا اٹھنے لگا فکر و فن کے ایواں میں لہو کی باس سی آنے لگی ہے شعروں سے اب ان سے دیکھیے کب منزلیں ہویدا ہوں اٹھا کے لایا ہوں کچھ نقش تیری راہوں سے بلک رہا ہے نگاہوں میں حسرتوں کا ہجوم لٹک رہی ہیں پتنگیں اداس کھمبوں سے اب اور کس سے ترے غم کا تذکرہ کرتے تمام رات رہی گفتگو ستاروں سے بس ایک جست میں افلاک سے نکل جاؤں پھلانگ جاؤں زمیں کو میں چار قدموں سے
subuk saa dard thaa uThtaa rahaa jo zakhmon se
کٹ گئیں ساری پتنگیں ڈور سے چلتی ہیں کیسے ہوائیں زور سے بے وفا سارے پرندے ہو گئے دوستی اپنی بھی تھی اک مور سے چند جذبے جنگ میں مشغول تھے رات بھر میں سو نہ پایا شور سے آخرش سورج اڑا کے لے گئے بھیک کب تک مانگتے ہم بھور سے اک نہ اک دن سرد جھونکے آئیں گے رابطہ رکھئے گھٹا گھنگھور سے قبر پہ آنسو بہا کے آئے ہیں باغ میں ملنے گئے تھے مور سے میں یہ سمجھا تھا قیامت آ گئی آدمی چیخا تھا اتنی زور سے
kaT gaiin saari patangein Dor se
آنکھ کو اشک بنا کے دیکھ پھر درشن کو جا کے دیکھ منزل کی قیمت مت پوچھ راہ میں دھکے کھا کے دیکھ پتھر بھی کھل اٹھیں گے ایک نظر مسکا کے دیکھ کعبہ کاشی دیکھ لئے میرے بھی گھر آ کے دیکھ دنیا میری مٹھی میں لوگوں کو بہکا کے دیکھ اندھیاروں کو جوت بنا خاموشی کو گا کے دیکھ کب تک پوجا غیروں کی خود پہ ایماں لا کے دیکھ
aankh ko ashk banaa ke dekh





