
Asra Rizvi
Asra Rizvi
Asra Rizvi
Ghazalغزل
ایسا یہ درد ہے کہ بھلایا نہ جائے گا معیار عشق ان سے بڑھایا نہ جائے گا اس بار ان سے کہہ دو قدم سوچ کر رکھیں اجڑا جو پھر یہ شہر بسایا نہ جائے گا جو لوگ بغض دل میں چھپائے ہیں آج بھی ان سے مرے مکان میں آیا نہ جائے گا حق بات بولنے سے کیا جس کسی نے خوف محفل میں پھر کبھی بھی بلایا نہ جائے گا تھے متفق تو بات سے میری سبھی مگر شیوہ مرا خیال بنایا نہ جائے گا شاید اسی لیے نہیں آئے وہ میرے پاس جو آ گئے تو چھوڑ کے جایا نہ جائے گا گر احترام کر نہ سکے بزم ناز کا شرمندگی سے سر کو اٹھایا نہ جائے گا زہر آب میرے واسطے وہ لے تو آئے گا ساقی سے جام ہم کو پلایا نہ جائے گا اسریٰؔ بنا لو شوق کو اپنے جنوں کی آگ اک بار بجھ گئی تو جلایا نہ جائے گا
aisaa ye dard hai ki bhulaayaa na jaaegaa
1 views
بے سبب خوف سے دل میرا لرزتا کیوں ہے بات بے بات یوں ہی خود سے الجھتا کیوں ہے شور ایسے نہ کرے بزم میں خاموش رہے اک تواتر سے خدا جانے دھڑکتا کیوں ہے موم کا ہو کے بھی پتھر کا بنا رہتا تھا اب یہ جذبات کی حدت سے پگھلتا کیوں ہے ہجر کے جتنے بھی موسم تھے وہ کاٹے ہنس کر پھر سر شام ہی یادوں میں سسکتا کیوں ہے اس کے ہونے سے میں انکار کروں تو کیسے عکس اس کا مری آنکھوں میں جھلکتا کیوں ہے جب بھی خاموشی سے تنہائی میں بیٹھی جا کر کرب سا اس کی رفاقت کا چھلکتا کیوں ہے پھوٹ جائے یہ کسی طور کوئی ٹھیس لگے بن کے پھوڑا سا وہ اب دل میں ٹپکتا کیوں ہے جو مقدر میں لکھا تھا وہ ہوا ہے اسریٰؔ خواب کی باتوں سے اس طرح مچلتا کیوں ہے
be-sabab khauf se dil meraa laraztaa kyuun hai
رات پھر خواب میں آنے کا ارادہ کر کے چاند ڈبا ہے ابھی محو نظارہ کر کے تشنگی حد سے گزر جائے گی ساحل کے قریب فائدہ کیا ہے سمندر کا تقاضا کر کے حیرتی ہوں ابھی ٹوٹا ہے بھرم الفت کا دے گیا مات وہ پھر مجھ کو بہانا کر کے کرتا رہتا تھا مذاہاً وہ بہت سی باتیں اب رقم کرتے رہے اس کو فسانہ کر کے مات چھل شہہ تو فقط کھیل ہے اک اس کے لئے رکھ دیا میری محبت کو تماشہ کر کے چھوڑ جانے کو وہ کہتا تھا پہ معلوم نہ تھا یوں چلا جائے گا دم بھر میں پرایا کر کے آخر اسریٰؔ تری فطرت میں یہ عجلت کیوں ہے دیکھ لے رنج ابھی اور گوارا کر کے
raat phir khvaab mein aane kaa iraada kar ke
زندگی الجھی ہے بکھرے ہوئے گیسو کی طرح غم پیے جاتے ہیں امڈے ہوئے آنسو کی طرح آج وحشت کا یہ عالم ہے کہ ہر انساں ہے دشت تجرید کے بھاگے ہوئے آہو کی طرح ظلم کا آگ اگلتا ہوا سورج سر پر تپش درد سے ہر سانس ہے اب لو کی طرح ہے گلستاں میں تری گل بدنی کا شہرا کاش تو گزرے ادھر سے کبھی خوشبو کی طرح اسی امید پہ آئینۂ دل دھوتے ہیں منعکس ہو کوئی صورت مرے مہ رو کی طرح شب فرقت میں بھی تنہائی میسر نہ ہوئی لاکھ غم گھیرے رہے مجھ کو جفا جو کی طرح بے دلی شرط ملاقات ہے تو یوں ہی سہی ہم ترے شہر میں اب آئیں گے سادھو کی طرح ڈوبنے لگتی ہے جب رنگ کے سیلاب میں آنکھ یاد تب اس کی بچا لیتی ہے جادو کی طرح سرزنش بھی تری بنتی ہے سہارا میرا راہ دشوار میں پھیلے ہوئے بازو کی طرح لذت دہر میں گم ہوتا ہے جب دل اسریٰؔ تب کسک اٹھتا ہے وہ درد کے پہلو کی طرح
zindagi uljhi hai bikhre hue gesu ki tarah
پھر کوئی تازہ ستم وہ ستم ایجاد کرے کاش اس کرب تغافل سے اب آزاد کرے کہیں بنجر ہی نہ ہو جائے مرے دل کی زمیں لالۂ زخم سے اس کشت کو آباد کرے جانتا تھا کے ہر آواز پلٹ آئے گی پھر تواتر سے دعا کیوں دل ناشاد کرے اپنے لہجے کی ہی سختی کو تصور کر کے لوٹ آنے کی شب ہجر میں فریاد کرے گام در گام بدلتا ہے چلن ظالم کا جانے اس بار نئی کون سی بیداد کرے اس سے کہہ دے کوئی خاموش ہے ساز ہستی چھیڑ کر وصل کا نغمہ مرا دل شاد کرے لوگ انجام کی دہشت سے نکل آئے ہیں اب جو کر پائے تو اس شہر کو برباد کرے
phir koi taaza-sitam vo sitam-ijaad kare
خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا محسن اس کی الفت میں تم ہستی کو مٹا کر دیکھو ایک دن ہوگا خدا خود ہی تمہارا محسن کشتیاں پار لگانا ہے بھنور سے تم کو ڈوبتے لوگوں کو دینا ہے سہارا محسن اونچی اٹھتی ہوئی لہروں میں صدا دو اس کو ابھی مل جائے گا کشتی کو کنارا محسن صبح اس شوخ کے چہرے سے اٹھاتی ہے نقاب گیسوئے حسن کو راتوں نے سنوارا محسن
khud ko duniyaa mein na uljhaao khudaa-raa mohsin





