SHAWORDS
Asrar Danish

Asrar Danish

Asrar Danish

Asrar Danish

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

har phuul pe maali kaa ijaara nahin hotaa

ہر پھول پہ مالی کا اجارہ نہیں ہوتا ہر شاخ پہ چڑیوں کا بسیرا نہیں ہوتا آ جاتے تھے پہلے جو مداری نہیں آتے اب گاؤں کی گلیوں میں تماشا نہیں ہوتا اب تازہ گلابوں سے بھی خوشبو نہیں آتی موسم بھی بہاروں کا سہانا نہیں ہوتا مفلس پہ امیروں کی عنایت نہیں ہوتی مجلس میں غریبوں کا ٹھکانا نہیں ہوتا مل بیٹھ کے حقے کی روایت نہیں باقی اب گاؤں میں دکھ درد پہ چرچا نہیں ہوتا ہر بار میسر ہو سہولت نہیں ممکن آسانی سے ہر کام ہمیشہ نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

us shahr se aisaa koi rishta bhi nahin hai

اس شہر سے ایسا کوئی رشتہ بھی نہیں ہے فرصت بھی نہیں ہے مجھے جانا بھی نہیں ہے پینا ہے تو ہم جام شہادت ہی پئیں گے اب اس کے سوا دوسرا چارہ بھی نہیں ہے آئندہ کبھی بیٹھ کے کچھ بات کریں گے موسم بھی نہیں ہے ابھی موقع بھی نہیں ہے ملتا تھا بڑے شوق سے پہلے وہ سر شام اب دیکھ کے کٹ جاتا ہے آتا بھی نہیں ہے اس ملک میں مجرم ہے وہی ہاتھ میں جس کے ہتھیار بڑی چیز ہے تیشہ بھی نہیں ہے یہ گردش ایام کی وحشت ہے کہ دانشؔ بچہ کوئی اب شہر میں روتا بھی نہیں ہے

غزل · Ghazal

achaanak raah mein chalte hue patthar nikal aae

اچانک راہ میں چلتے ہوئے پتھر نکل آئے خیال و خواب کی دنیا سے ہم باہر نکل آئے مصیبت میں رہیں ہم صابر و شاکر تو ممکن ہے خدا کے حکم سے صورت کوئی بہتر نکل آئے پس پردہ بہت سے لوگ ایسے ہیں زمانے میں اگر چھو دیں وہ مٹی کو تو پھر گوہر نکل آئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے یہاں دانشؔ نہ جانے کب کہاں کس موڑ پر خنجر نکل آئے

غزل · Ghazal

dil ke aangan mein be-qaraari hai

دل کے آنگن میں بے قراری ہے یہ شرارت تو بس تمہاری ہے تم سمجھتے ہو بزدلی لیکن در حقیقت یہ خاکساری ہے اک نظر جب سے تم کو دیکھا ہے ذہن و دل پر سرور طاری ہے وقت آئے گا ہم بھی دیکھیں گے ہجر کی رات کتنی بھاری ہے دام سے اس کے بچنا مشکل ہے شہر میں وہ بڑا شکاری ہے یہ اجالا تو کچھ نہیں دانشؔ چاند میں چاندنی تمہاری ہے

غزل · Ghazal

'ibaadat kam riyaa-kaari bahut hai

عبادت کم ریاکاری بہت ہے زمانے میں اداکاری بہت ہے محبت میں ذرا چلنا سنبھل کے پس پردہ خطا کاری بہت ہے وسائل کی کمی ہے زندگی میں ضرورت کی حنا کاری بہت ہے وہاں کا نام ہی شہر وفا ہے جہاں دانشؔ جفاکاری بہت ہے

غزل · Ghazal

yuun to iqraar kaa pahlu bhi hai inkaar ke saath

یوں تو اقرار کا پہلو بھی ہے انکار کے ساتھ پھر بھی دھڑکا سا لگا رہتا ہے اظہار کے ساتھ یہ الگ بات کہ ہم دیکھ نہیں پاتے ہیں لگ کے بیٹھا ہے کوئی آج بھی دیوار کے ساتھ راستہ خانہ‌ بدوشوں کا کوئی تو نکلے بات الجھی ہوئی رہتی ہے زمیں دار کے ساتھ فیصلہ وقت کا جاتا ہے کدھر دیکھیں گے جنگ جاری ہے ابھی موج کی پتوار کے ساتھ اس کی گردن کی حفاظت کی ضمانت کیا ہے کھیلتا ہے جو سدا خنجر و تلوار کے ساتھ ورنہ بہتر ہے ابھی ختم کہانی ہو جائے زندہ رہنا ہے تو پھر عظمت و کردار کے ساتھ

Similar Poets