SHAWORDS
Atbaf Abrak

Atbaf Abrak

Atbaf Abrak

Atbaf Abrak

poet
31Ghazal

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

علاوہ میرے ہر اک شخص نور نکلے گا میں جانتا ہوں مرا ہی قصور نکلے گا یہ خوب ہم سے زمانے نے ضد لگائی ہے ہوا نہ میرا جو اس کا ضرور نکلے گا خبر مجھے تھی یہ رستہ نہیں ہے منزل کا گمان کب تھا کہ خود سے بھی دور نکلے گا ہے رہزنوں سے رعایت یہ خاص منصف کی کہ قافلوں کا ہی لٹ کر قصور نکلے گا اسی امید پر اب اور کتنی عمریں جیوں کہ میرا جینا بھی اک دن سرور نکلے گا علاج ڈھونڈا تو ڈھونڈا عجب طبیبوں نے یہ جان نکلے تو دل کا فتور نکلے گا ہزار بدلو مگر آئنوں کے بس میں نہیں یہ عکس میرا یونہی چور چور نکلے گا نشہ ہے عارضی ابرکؔ یہ چاہے جانے کا تمہارے دل سے بھی جلدی غرور نکلے گا

'alaava mere har ik shakhs nuur niklegaa

غزل · Ghazal

جس قدر فاصلے بڑھائے ہیں آپ اتنا ہی پاس آئے ہیں قاصدو جان مانگ لو چاہے گر خبر آپ ان کی لائے ہیں ہم کو لکھتا کہ جا چلا جا تو کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا آپ مہمان بن بلائے ہیں خاک کوئی حسیں نظر آئے آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں آپ تو دے کے زخم بھول گئے ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں عشق کے روگ نے ستایا تھا اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں آپ کو زندگی کہا ایسے زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں مانتا ہوں وفا نہیں لازم خواب کیوں با وفا دکھائے ہیں کون کافر کرے جفا ابرکؔ وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں

jis qadar faasle baDhaae hain

غزل · Ghazal

چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو پھر کوئی غم نہیں گر ہم سے کنارا کر لو میرا حصہ ہے محبت تو ادا نقد کرو گر نہیں بس میں تو نفرت ہی خدارا کر لو کون کہتا ہے کہ لازم انہیں تعبیر بھی دو میرے خوابوں کو بس آنکھوں میں گوارا کر لو گر نہیں اور وجہ کوئی شناسائی کی اک محبت ہے وہی پھر سے دوبارا کر لو پھر کہاں اور کسی کا وہ کبھی ہو پایا جس پہ اک بار یہاں تم جو اجارا کر لو مانا مشکل ہے مرا تم سے بچھڑ کر جینا ساتھ میں تو ہوں ترے تم تو گزارا کر لو دم نکل جائے گا یوں ہی مرا ہنستے ہنستے اک نظر میری طرف ہنس کے اشارا کر لو ہم نہیں وہ کہ جو لے جائیں گے منزل کی طرف یہی بہتر ہے کوئی اور ستارا کر لو ایک ہی شخص کی چاہت میں بھلا کیا مرنا بے وفائی کو ہی جینے کا سہارا کر لو جب کبھی باندھا ہے ابرکؔ نے یہاں رخت سفر دل مچلتا ہے ذرا اور نظارہ کر لو

chaahe ik pal kaa sahi saath gavaaraa kar lo

غزل · Ghazal

زندگی آدھی ہے ادھوری ہے تیرا آنا بہت ضروری ہے سامنے تو ہے لمحہ لمحہ مرے اور زمیں آسماں کی دوری ہے کوئی منطق کوئی دلیل نہیں تو ضروری تو بس ضروری ہے جیسے قسمت پہ اختیار نہیں یہ محبت بھی لا شعوری ہے کون سیکھا ہے صرف باتوں سے سب کو اک حادثہ ضروری ہے ایک بس تو رہا مری حسرت اور ہر آرزو تو پوری ہے لکھتے لکھتے گزر گیا ابرکؔ داستاں آج بھی ادھوری ہے

zindagi aadhi hai adhuri hai

غزل · Ghazal

وہ ہم کو دل میں رکھے گا یا دل سے اب نکالے گا اٹھے گا جب تلک پردہ تجسس مار ڈالے گا میں اکثر جانچنے کو یہ بس اپنا حق جتاتا ہوں کہاں تک بات مانے گا کہاں پر ہم کو ٹالے گا تعین کب ہے ممکن اب تعلق کا رویوں سے اسے ہم پر یقیں ہے زخم سب چپ چاپ کھا لے گا محبت کی ڈگر پر جو بھی نکلے سوچ کر نکلے سفر یہ وہ نہیں جو لازماً منزل بھی پا لے گا کبھی سوچا گیا جو تھک کے دل کی واگزاری کا سوال اٹھا یہی مصروفیت کیا اور پالے گا چلن اہل وفا کا ہے اٹل خاموشیاں ابرکؔ زمانہ دیکھتا ہے سب وہ خود قصہ اچھالے گا

vo ham ko dil mein rakkhegaa yaa dil se ab nikaalegaa

غزل · Ghazal

جو سوچتا ہوں اگر وہ بیان ہو جائے تو پانی پانی یہ سارا جہان ہو جائے گلہ ہے آنکھ سے ان کو زبان سے ہے گلہ قلم کو حکم ہے وہ بے زبان ہو جائے وہاں پہ راستہ ہجرت ہی صرف ہوتا ہے جہاں زمین یہ خود آسمان ہو جائے تو خود ہی سوچ ذرا حال اس گلستاں کا خزاں کے ساتھ جہاں باغبان ہو جائے کہاں تلک بھلا اترے کوئی امیدوں پر کہ سانس سانس جہاں امتحان ہو جائے یوں ختم ہوتا ہے کردار بار بار مرا کہ ختم بیچ میں ہی داستان ہو جائے اندھیری رات صدا دے رہی ہے آندھی کو ہے پھر بھی ضد کہ دیا خوش گمان ہو جائے میں وہ دیا ہوں جو سورج کی سوچ سوچتا ہے جو چاہتا ہے کہ روشن جہان ہو جائے زمانہ لاکھ برا چاہے خواب توڑے مگر خدا سے کیسے کوئی بد گمان ہو جائے میں کیسے مان لوں اس کو برا یہاں ابرکؔ خلاف جس کے جہاں یک زبان ہو جائے

jo sochtaa huun agar vo bayaan ho jaae

Similar Poets