
Ateeq Ali Aatif
Ateeq Ali Aatif
Ateeq Ali Aatif
Ghazalغزل
چلا ان کا جادو مگر رفتہ رفتہ ہوا ہم پہ ان کا اثر رفتہ رفتہ پریشاں ہوئے وہ ادھر رفتہ رفتہ تڑپتے رہے ہم ادھر رفتہ رفتہ کیا عشق نے ان کے پھر مجھ کو گھائل ہوا میرا چھلنی جگر رفتہ رفتہ تڑپ کر ہی گزری ہیں فرقت کی راتیں ہوئی عشق کی پھر سحر رفتہ رفتہ تڑپ اٹھ رہی ہے یہاں دونوں جانب ادھر رفتہ رفتہ ادھر رفتہ رفتہ مرا کام ہے بیج بونا تو بو لوں یقیناً لگیں گے ثمر رفتہ رفتہ نیا راستا عشق کا ہے یہ عاطفؔ چلو اس پہ تم بھی مگر رفتہ رفتہ
chalaa un kaa jaadu magar rafta rafta
شیخ صاحب جو در پیر مغاں سے نکلے پھر اثر ان کی دعاؤں میں کہاں سے نکلے جیسے شعلہ سا کوئی ان کی زباں سے نکلے لفظ نکلے کہ کوئی تیر کماں سے نکلے وہ یہاں سے کہ وہاں سے کہ وہاں سے نکلے دیکھنے والے یہ کہتے تھے کہاں سے نکلے وہ جو بستے تھے مرے دل میں بڑی مدت سے اترے نظروں سے وہ اور دل کے مکاں سے نکلے مدتوں سے تھے جو خاموش وہی بول پڑے سیکڑوں لفظ اچانک سے زباں سے نکلے ساتھ کچھ بھی نہ گیا دولت و عزت شہرت ہاتھ خالی ہی وہ عاطفؔ یہ جہاں سے نکلے
shaikh saahib jo dar-e-pir-e-mughaan se nikle
تھا نصف ان کا اور وہ پورا لئے ہوئے بیٹھے ہیں میرے حصے کا حصہ لیے ہوئے آنکھوں میں اپنی ساغر و مینا لیے ہوئے چڑھ جائے بن پیے ہی وہ نشہ لیے ہوئے تنہائیاں سمیٹ کے بیٹھے ہیں ہم خموش جیسے کہ کوئی کوزے میں دریا لئے ہوئے محسن ہیں میرے یا کہ ہیں دشمن نہیں خبر وہ گھومتے ہیں چہرے پہ چہرہ لیے ہوئے گردش ہمارے سامنے آتی ہے دن بہ دن وہ ہی پرانا روز کا قصہ لیے ہوئے کرنے کو قتل میرا ہیں بے چین کس قدر ناگن ہو جیسے آنکھ میں بدلا لیے ہوئے اک روز موت کو ہی لگا لیں گے ہم گلے جینے کی دل میں یوںہی تمنا لئے ہوئے عاطفؔ سے پیار ہے انہیں شاید اسی لیے بیٹھے ہیں اس کا بزم میں چرچا لیے ہوئے
thaa nisf un kaa aur vo puuraa liye hue
چھوڑیئے داغوں کو آئینہ بدل کر دیکھیں آؤ اب اور نیا چہرہ بدل کر دیکھیں آپ بتلائیے کہ کتنا بدل کر دیکھیں کھو دیں پہچان ہی کیا اتنا بدل کر دیکھیں وہ یہ کہتا ہے کہ قسمت میں تری پیار نہیں دل یہ کہتا ہے کہ اب طوطا بدل کر دیکھیں نرم لہجے میں اسے دیکھ لیا سمجھا کر آؤ اب ہم بھی ذرا لہجہ بدل کر دیکھیں کتنا بدلے ہیں تجھے پانے کی امید میں ہم کیا کمی رہ گئی اور کتنا بدل کر دیکھیں دوست احباب نظر اب نہیں آتے میرے ایسا لگتا ہے انہیں چشمہ بدل کر دیکھیں ٹھوکریں کھا لیے اب تھوڑا سنبھل جاتے ہیں آؤ عاطفؔ کہ چلو رستا بدل کر دیکھیں
chhoDiye daaghon ko aaina badal kar dekhein
تھیں غزال سی آنکھیں مورنی سی لڑکی تھی خوشبوؤں کی سودائی صندلی سی لڑکی تھی دل کے صحن گلشن میں اک کلی سی لڑکی تھی پر ذرا سی ناداں تھی باؤلی سی لڑکی تھی چاند میں کہوں اس کو یا کے چاندنی کہہ دوں خواب میں جو آتی تھی چاندنی سی لڑکی تھی پھول بھی کہوں اس کو روشنی بھی لکھ دوں میں پنکھڑی سی لڑکی تھی پھلجھڑی سی لڑکی تھی پاس سے وہ گزری تو دل ہی لے گئی میرا مجھ کو کر گئی پاگل سانولی سی لڑکی تھی تیر اس نے نظروں کے ایسے مجھ پہ پھینکے کہ کر گئی مجھے گھائل وہ چھری سی لڑکی تھی چاشنی سی گھلتی تھی جب وہ گنگناتی تھی راگنی سی لڑکی تھی بانسری سی لڑکی تھی اس کو دیکھا محفل میں اور دل ہی دے بیٹھا پھر نظر نہ آئی وہ اجنبی سی لڑکی تھی جا رہا تھا رستے سے تو مجھے نظر آئی حال میں نے پوچھا وہ اک ڈری سی لڑکی تھی وہ ذرا سی نٹ کھٹ تھی خوب تنگ کرتی تھی من چلی سی لڑکی تھی چلبلی سی لڑکی تھی خوب غزلیں لکھتے ہو اس کے بارے میں عاطفؔ کیا کوئی پری تھی وہ یا پری سی لڑکی تھی
thiin ghazaal si aankhein morni si laDki thi
زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے اور پھر بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے آدمی بلندی پہ دھیرے دھیرے جاتا ہے ہاں مگر اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے مانتا ہوں یہ باتیں اس نے ہی کہیں لیکن بات سے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے اس کا دل جو ٹوٹا تو پھر اسے سمجھ آیا دل کے زخم بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے بات کے بنانے میں وقت کتنا لگتا ہے بات کو کترنے میں دیر کتنی لگتی ہے اک زمانہ لگتا ہے دل تلک پہنچنے میں دل سے پر اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے وقت سب کا آتا ہے اچھا یا برا عاطفؔ وقت کے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
zulf ke sanvarne mein der kitni lagti hai





