
Atif Naseer
Atif Naseer
Atif Naseer
Ghazalغزل
apne yaaron se dukh bhi mil saktaa hai
اپنے یاروں سے دکھ بھی مل سکتا ہے یعنی مثبت سے منفی مل سکتا ہے تیرے صبر کے قصے سن لوں گا واعظ پیاسا ہوں پہلے پانی مل سکتا ہے سب کچھ ممکن ہے جاؤ دنیا دیکھو تم کو مجھ سا بھی کوئی مل سکتا ہے شب کو یاد کی محفل ہوتی ہے دل میں دن میں یہ کمرہ خالی مل سکتا ہے کالر میں اک پھول سجا کر چلتا ہوں رستہ ہے آخر کوئی مل سکتا ہے شاید جگنو یوں گھر دیر سے جاتے ہیں کوئی رہ بھولا پنچھی مل سکتا ہے
koshish ke baavajud agar sil nahin rahe
کوشش کے باوجود اگر سل نہیں رہے مطلب یہ زخم بھرنے کے قابل نہیں رہے دونوں اسی زمین پہ رہتے تو ہیں مگر کیسا عجب ستم ہے کہ ہم مل نہیں رہے آ تو گئی بہار مگر باغ میں گلاب اگلی رتوں کے خوف سے اب کھل نہیں رہے وہ راستے میں پھول تھما کر چلا گیا ہم ہیں کہ اس جگہ سے کہیں ہل نہیں رہے گھبرا کے ارد گرد سے ہم خود میں جا چھپے ایسے چھپے کہ خود کو بھی اب مل نہیں رہے
kaisaa 'ajib vaqt thaa ji mein bhi kyaa samaai thi
کیسا عجیب وقت تھا جی میں بھی کیا سمائی تھی اس کی گلی کے ہو لئے حالانکہ جگ ہنسائی تھی ویسے ملی تھی وہ مجھے بیروں کے باغ میں مگر صندل کے پیڑ سی مہک اس کے بدن سے آئی تھی اس نے کہا جو ایک دن ہنس بھی لیا کرو کبھی ہم نے اداسی توڑ دی مشکل سے جو کمائی تھی اس نے مجھے تسلیاں جتنی بھی دیں وہ جھوٹ تھیں میں نے بھی اس کو داستاں سچی کہاں سنائی تھی میں نے بڑھا کے ہاتھ پھر سچ مچ ہی اس کو چھو لیا اک دن وہ میرے خواب میں اتنے قریب آئی تھی پھر کیا ہوا کہ رات بھر تاروں نے سسکیاں بھریں اس نے کسی اداس شام اپنی پلک اٹھائی تھی خیمے جلائے جانے سے پیدل پھرائے جانے تک وہ دن کبھی نہ پھر ہوا وہ شام پھر نہ آئی تھی دنیا نے جو کہا کہا دنیا سے خیر کیا گلہ تم سے تو ایک ربط تھا تم سے تو آشنائی تھی ہم نے بھی باغ عشق سے چوری کیا تھا ایک وصل کھنچوائے کان ہجر سے اور خوب مار کھائی تھی
shahr viraan sahi ujaaD nahin
شہر ویراں سہی اجاڑ نہیں دستکیں بند ہیں کواڑ نہیں ٹھیک ہے بے ثمر شجر ہوں میں لگ گیا ہوں تو اب اکھاڑ نہیں میری تصویر مت حسین بنا میری بد صورتی بگاڑ نہیں آ بھی سکتا ہے کام وحشت میں آخری خط سنبھال پھاڑ نہیں ہاں تسلط میں ہیں ترے لیکن زندگی ہم پہ رعب جھاڑ نہیں جھانکنے والے کو بتایا جائے در ہے دیوار میں دراڑ نہیں
mushkil to nahin jang ke aazaar uThaanaa
مشکل تو نہیں جنگ کے آزار اٹھانا مصرعے کی طرح ہے مجھے تلوار اٹھانا بچ کر جو نکل آؤ تو یہ بھی ہے غنیمت تم چاہتے ہو بھیڑ میں دستار اٹھانا ہو جاؤ گے تم اپنے خد و خال سے محروم آئینے پہ پتھر نہ مرے یار اٹھانا نظروں سے نہیں یار میں ٹھوکر سے گرا ہوں ایسا بھی نہیں ہے مجھے دشوار اٹھانا
khitta-e-gharqaab se murda mile
خطۂ غرقاب سے مردہ ملے ہم کسی کے خواب سے مردہ ملے دو محبت کرنے والے ایک دن گاؤں کے تالاب سے مردہ ملے کھوجنے نکلے تھے ہم یہ کائنات اور پھر مہتاب سے مردہ ملے وہ بھنور کو سوچتے تھے اک سرنگ اس لیے گرداب سے مردہ ملے ہم کہانی کار سے الجھے ذرا اور اگلے باب سے مردہ ملے زندگی ہم کو ملی ہے اس طرح جس طرح سیلاب سے مردہ ملے





