
Ausaf Shaikh
Ausaf Shaikh
Ausaf Shaikh
Ghazalغزل
ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں کس نے کھینچے ہیں یہ رستے صحن میں کون دیتا ہے اداسی کو فریب کون اگاتا ہے یہ چہرے صحن میں کوئی سمجھا ہی نہیں اک لفظ بھی گونجتے ہیں کتنے لہجے صحن میں اک شجر بھی نام کو گھر میں نہیں اڑ رہے ہیں خشک پتے صحن میں جانے کب ٹوٹے طلسم تیرگی جانے کب اتریں سویرے صحن میں چھوڑ جاتا ہے کوئی آنکھیں یہاں کھول جاتا ہے دریچے صحن میں رات پھر اوصافؔ یاد آیا کوئی رات جیسے پھول مہکے صحن میں
TuuT kar bikhre hain sapne sahn mein
بچا کر شہر سے سر آ گیا ہوں میں بھر کر جیب میں ڈر آ گیا ہوں نہیں معلوم وحشت ہے کہ دہشت کنویں سے پیاس بھر کر آ گیا ہوں کماتا کیا مسلسل ہجرتوں میں بچایا یہ ہے کہ گھر آ گیا ہوں گلی میں بھونکتے کتوں کے ڈر سے تجھے دیکھے بنا گھر آ گیا ہوں یہاں اوصافؔ دریا بھی ہے پیاسا گھڑے میں ریت بھر کر آ گیا ہوں
bachaa kar shahr se sar aa gayaa huun
ہے کبھی دل کبھی نگاہ سے جنگ روز اک خواہش گناہ سے جنگ روز غم کے نئے محاذ پہ ہوں روز لڑنا نئی سپاہ سے جنگ چار سو گرم ہے محاذ کوئی کہیں منصف کہیں گواہ سے جنگ مدتوں سے یہی تماشا ہے خواہشوں کی دل تباہ سے جنگ سنگ بھی ہاتھ میں نہیں کوئی چھڑ گئی ہے سگان راہ سے جنگ میرے اندر سے کوئی کہتا ہے چھیڑ ارباب عز و جاہ سے جنگ اب تو اوصافؔ ہر بساط پہ ہے اک پیادے کی ایک شاہ سے جنگ
hai kabhi dil kabhi nigaah se jang
ہے بپا اک حشر سا دیوار پر کون پڑھتا ہے لکھا دیوار پر میں نے پوچھا کیا پس دیوار ہے اس نے لکھا دائرہ دیوار پر آؤ آداب محبت سیکھ لو لکھ دیا ہے ضابطہ دیوار پر اب نہ چھائے گا طلسم تیرگی چھوڑ آیا ہوں دیا دیوار پر سر اٹھاتی سر پٹختی ہے ندی مسکراتا ہے گھڑا دیوار پر چھوڑ دی تیری گلی تیرا نگر پڑھ چکا ہوں فیصلہ دیوار پر پھر کوئی آنگن ہے کم لگنے لگا پھر کھڑا ہے مسئلہ دیوار پر اس لیے اوصافؔ چھوڑ آیا ہوں گھر پھر نہ گزرے سانحہ دیوار پر
hai bapaa ik hashr saa divaar par
کب اترے گا روح سے گارا مٹی کا مٹی کی ہے جھیل کنارا مٹی کا میں نے ہر دم کی دل داری مٹی کی میں نے ہر دم قرض اتارا مٹی کا میں نے چودہ چاند کئے ہیں جس کے نام اس نے بھیجا ایک ستارا مٹی کا مٹی کو روندا مٹی کا خون کیا ہوگا آخر کار اجارہ مٹی کا آنکھوں میں ہے صحراؤں سا سونا پن پاؤں کے نیچے ہے انگارہ مٹی کا میں نے پاؤں جما رکھے اوصافؔ یہاں میں نے سمجھا صاف اشارہ مٹی کا
kab utregaa ruuh se gaaraa miTTi kaa
ایک احساس زیاں چھوڑے گا ہجر ہے یہ تو نشاں چھوڑے گا یا بلائے گا سر دشت بلا یا سر نوک سناں چھوڑے گا پہلے رستے سے اٹھائے گا یقیں اور پھر اس پہ گماں چھوڑے گا میں بھی بولوں گا بہت بولوں گا خوف جب میری زباں چھوڑے گا جانتا ہوں کہ وہ چھوڑے گا ضرور دیکھنا ہے کہ کہاں چھوڑے گا شہریاری نہ تھی تیرے بس میں میں نہ کہتا تھا میاں چھوڑے گا جو روایت ہے وہ پوری ہوگی عشق مجھ کو بھی کہاں چھوڑے گا میں ہی اوصافؔ لکھوں گا انجام یہ کہانی وہ جہاں چھوڑے گا
ek ehsaas-e-ziyaan chhoDegaa





