SHAWORDS
Avinash Pandey

Avinash Pandey

Avinash Pandey

Avinash Pandey

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

وصل کی ضد سے اٹھیں ہجر کو رویا نہ کریں بیش قیمت ہیں یہ لمحے انہیں کھویا نہ کریں ناصحا اور بتا ہم کو کہ کیا کیا نہ کریں دن میں سویا نہ کریں رات کو جاگا نہ کریں منزل ذکر رخ یار سے آگے کچھ ہو ہم سے تو ہو نہیں سکتا اسے سوچا نہ کریں ہم کو رہنا ہے اسی قریۂ کم نظراں میں سخت مشکل ہے یہاں رہ کے دکھاوا نہ کریں جھوٹ سو بار کہا جائے تو سچ لگتا ہے مشورہ یہ ہے کہ خود پر بھی بھروسہ نہ کریں یار کہتے ہیں کہ یہ طور جنوں اچھا نہیں اس کی تصویر کو آنکھوں سے لگایا نہ کریں ہم نہیں کر سکے لوگوں کی نظر کو قابو لڑکیوں سے کہو بارش میں یوں بھیگا نہ کریں اب جدھر دیکھیے اک محشر خوبی ہے بپا آرزو کس کی کریں کس کی تمنا نہ کریں کیف ہیں آپ کوئی مجنوں و فرہاد نہیں پا برہنہ نگہ خلق میں آیا نہ کریں

vasl ki zid se uThein hijr ko royaa na karein

غزل · Ghazal

یاد کرنے کو یوں تو کیا کچھ ہے کب ہمارا جیا ہوا کچھ ہے اور تو کچھ نہیں ہمارے پاس پر تمہارا چھوا ہوا کچھ ہے ایک ہی واقعہ تھا پھر بھی یاد تم کو کچھ مجھ کو دوسرا کچھ ہے اتنا ماہر ہے دنیا داری میں سوچتا کچھ ہے بولتا کچھ ہے اپنی پلکوں کو موند لے ناداں سامنے کچھ ہے دیکھتا کچھ ہے اندروں روز مجھ سے کہتا ہے جیتے جانے سے مدعا کچھ ہے ؟ موت جب آئی تب ہوا معلوم بجھتی آنکھوں میں خواب سا کچھ ہے اس کو جب دیکھتے ہوئے دیکھا تب کھلا ہم پہ دیکھنا کچھ ہے سوچ لیتے ہیں اس کو وقت بہ وقت جیتے رہنے میں فائدہ کچھ ہے تم نے دیکھا ہے حال دنیا کا تم کو لگتا ہے کیا خدا کچھ ہے ؟

yaad karne ko yuun to kyaa kuchh hai

غزل · Ghazal

کسی بت کا یہ دل شیدا نہیں ہے ہمارے سر میں یہ سودا نہیں ہے خدا کیا ہے یہ بتلانا کٹھن تھا سو بتلایا کہ وہ کیا کیا نہیں ہے تم ایماں لاؤ وہ رستہ سرل ہے سرل تحقیق کا رستہ نہیں ہے خدا ہوتا یہ میں بھی چاہتا ہوں میرا چاہا خدا کرتا نہیں ہے خدا کیا ہے یہ موسیٰ نے بتایا سنائی دیتا ہے دکھتا نہیں ہے یہی تعریف ہے اس کی کہ اس کو کسی نے آج تک دیکھا نہیں ہے خدا کے عشق میں ہو حمد لکھو کسی نے بھی تمہیں روکا نہیں ہے ازل سے علم ہے ایماں کا دشمن بہت کچھ جاننا اچھا نہیں ہے خرد مندوں پہ اس کو چھوڑ پیارے جنوں یہ مسئلہ تیرا نہیں ہے

kisi but kaa ye dil shaidaa nahin hai

غزل · Ghazal

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا ان کو وعدہ وفا نہیں کرنا ہم پہ الزام ہے اداسی کا رد اس الزام کا نہیں کرنا تجھ سے بے شک ہمیں بچھڑنا ہے پر تیرا دل برا نہیں کرنا شیخ جی رند کو نہ سمجھائیں اس کو کیا کرنا کیا نہیں کرنا عاشقی دل لگی کا ساماں ہے ان کو قیدی رہا نہیں کرنا

ham ko aah-o-bukaa nahin karnaa

غزل · Ghazal

تمہارے جسم کا سایہ پڑا نہیں ہوگا دیار غم میں اجالا ہوا نہیں ہوگا ذرا سی بات سمجھنے میں ایک عمر لگی وہ خود پرست ہے وہ با وفا نہیں ہوگا بہت خموش نفس تھا گزرنے والا بھی سو اس کی موت کا شہرہ ہوا نہیں ہوگا ترے خیال کا بادل برس گیا تھا وہاں سو جسم و جان کا صحرا تپا نہیں ہوگا اسے یقین ہے کتنا کہ اس کے جانے سے کوئی بھی شخص اکیلا ہوا نہیں ہوگا یہ ہو بھی سکتا ہے دنیا کا کوئی مالک ہو مگر یہ طے ہے کتابی خدا نہیں ہوگا جو اس کو قتل کیا اس کے چارہ سازوں نے 'جنوں' کے درد کا درماں ہوا نہیں ہوگا

tumhaare jism kaa saaya paDaa nahin hogaa

غزل · Ghazal

اب انتشار کی حسرت نہیں خرابے کو جو آ رہے ہو تو آؤ یہ گھر بسانے کو ترا وجود مری ذات کے لئے کیا ہے خدا کا آسرا جیسے کسی ابھاگے کو زمانے بھر کے مسائل میں ایسے الجھے ہیں ہمارے حال کا کچھ غم نہیں ہمارے کو خط اس کو لکھتے اگر خط میں اس کو کیا لکھتے روانہ ہم نے تہی کر دیا لفافے کو گئی رتوں میں کئی پھول آئے تھے ان پر اب ایک برگ نہیں ہے بدن چھپانے کو میں کھل کے کر نہیں سکتا تھا اپنا دکھ ظاہر کوئی سمجھ بھی نہ پایا مرے اشارے کو ہر اک کے بس کا کہاں ہے سمیٹنا وحشت جنوں نہ جان فقط خاک کے اڑانے کو

ab intishaar ki hasrat nahin kharaabe ko

Similar Poets