
Ayaz Rasool Nazki
Ayaz Rasool Nazki
Ayaz Rasool Nazki
Ghazalغزل
چھتیں اڑی ہیں دراڑیں پڑیں مکانوں میں ستم کی گھاس اگی ہے نگار خانوں میں لہو لہو تھا بدن اس کا ہاتھ ٹوٹے تھے حنا حنا وہ پکاری تھی آستانوں میں گھروں میں آج وہ کرب و بلا کا منظر تھا کہ سہمے سہمے پرندے تھے آشیانوں میں وہ جن کے نام پہ نکلیں گی کل کی تعبیریں کئے ہیں خواب مقفل وہ قید خانوں میں وہ جس کا وار موئثر تھا ضرب کاری تھی کھڑا ہوا تھا وہ قاتل بھی پاسبانوں میں زمیں پہ ظلم بہت ہے خدا سے کہہ دیتے گزر ہمارا اگر ہوتا آسمانوں میں
chhatein uDi hain daraaDein paDein makaanon mein
اندھیری رات نوحے گا رہی ہے خموشی شہر بھر میں چھا رہی ہے زمیں پر خون اتنا بہہ گیا ہے ہواؤں میں بھی خوشبو آ رہی ہے ہری وادی کا افسوں ٹوٹتا ہے خزاں کچھ رنگ وہ دکھلا رہی ہے کئی لاشوں کی فصلیں کٹ چکی ہیں کہ دھرتی خون میں نہلا رہی ہے گھروں میں شور بھی اب تھم گیا ہے گلی سے فوج بھی اب جا رہی ہے
andheri raat nauhe gaa rahi hai
عشق میں کوئی ہمسری کرتا ہم کو الزام سے بری کرتا ایک بوتل میں وہ سما جاتی اس کو جادو سے میں پری کرتا چھیڑ معصوم سی چلا کرتی وہ بھی ہنس ہنس کے دلبری کرتا اس نے جنگل جلا دیے لیکن شاخ اک پیڑ کی ہری کرتا چاند آتا جو روز آنگن میں ساتھ میرے سخن وری کرتا شاعری ہم پہ چھوڑ دینی تھی مرزا غالبؔ سپہ گری کرتا ایک دن تجھ کو ڈوب جانا تھا جو بھی کرتا تو سرسری کرتا خاک ہوتا وہ سربلندی میں پائمالی میں سروری کرتا شعر کہتا نہیں اگر میں بھی خرقہ پہنے قلندری کرتا وہ جوانی ایازؔ ایسی تھی بات میں بھی کھری کھری کرتا
ishq mein koi hamsari kartaa
ہجر تھا یا وصال کس کا تھا خواب تھا یا خیال کس کا تھا سامنے وہ ہمارے بیٹھے تھے دل میں ان کے خیال کس کا تھا غیر سے ہم نے مات کھائی تو اس میں کہیے کمال کس کا تھا ہم گرے ہیں اگر بلندی سے در حقیقت زوال کس کا تھا بچ کے نکلے جو لا تعلق تھے بچ نکلنا محال کس کا تھا ریگ ساحل پہ نقش باقی ہے جسم وہ بے مثال کس کا تھا شعر سنتے ہیں میرا کہتے ہیں ایسا نازک خیال کس کا تھا بام پر چاند تھا مگر پھر بھی چاندنی میں جمال کس کا تھا تان ہم پر ہی آ کے ٹوٹی ہے پوچھیے گا ملال کس کا تھا حق تو یہ ہے نہیں ملے ان سے پھر یہ کالر پہ بال کس کا تھا پوچھئے کیا کسی نجومی سے وقت کس کا ہے سال کس کا تھا وہ جو رہتے ہیں صرف ماضی میں کیسے جانیں کہ حال کس کا تھا دار پر چڑھ گیا ایازؔ مگر کس نے پوچھا سوال کس کا تھا
hijr thaa yaa visaal kis kaa thaa
مری ماں نے مجھ کو جنم جب دیا تھا میں لاشوں کے انبار پر جا گرا تھا جہاں پر تمہاری ردا چھن گئی تھی وہیں پر ہمارا بھی بازو کٹا تھا یہیں پر اسے جان دینے کی ضد تھی یہیں سے وہ پرچم اٹھائے چلا تھا مجھے سات چہروں کی صورت ملی تھی تذبذب میں ہر اک مجھے دیکھتا تھا میں لوگوں کی اس بھیڑ میں سوچتا ہوں مرا نام کیا ہے مرا نام کیا تھا
miri maan ne mujh ko janam jab diyaa thaa
بھکشو سے خواہشات کا بن مانگتی رہی کشکول تن میں عمر تپن مانگتی رہی سرگوشیاں سنی تھیں در و بام نے یہاں خالی تھی چارپائی بدن مانگتی رہی وہ لاش اپنی چھوڑ کے بھاگا نہ جانے کیوں اس کی برہنہ لاش کفن مانگتی رہی لے کر چراغ رات کو پھرتی تھی خامشی گنجینۂ حروف سخن مانگتی رہی دیکھا جو اس نے ہم کو فراغت سے یاں کبھی قسمت ہماری رنج و محن مانگتی رہی گھڑیاں ڈبوئیں کس نے سر شام پھر یہاں دو پل سکون کے جو تھکن مانگتی رہی کس کا نہ جانے لمس سمایا لحاف میں رہ رہ کے رات مجھ سے بدن مانگتی رہی ہم نے سراب دیکھے ہزاروں سراب میں اک گونہ تشنگی تھی جو تن مانگتی رہی خوشبو لباس شخص وہ گزرا یہاں سے تھا صحرا کی ریت مجھ سے چمن مانگتی رہی سرما کی سرد تیرہ و تاریک رات خود رہ رہ کے در پہ آگ پھرن مانگتی رہی خود تیرگی سے سہمی ہوئی شب تمام شب دست دعا اٹھائے کرن مانگتی رہی پارس منی تھی ناگ کے منہ میں چھپی ہوئی ناگن لپٹ لپٹ کے وہ پھن مانگتی رہی دنیا نے ہم کو جور و جفا دے دیے ایازؔ اس داد کے عوض میں یہ فن مانگتی رہی
bhikshu se khvaahishaat kaa ban maangti rahi





