
Azad Husain Azad
Azad Husain Azad
Azad Husain Azad
Ghazalغزل
khud-sataai se na ham baaz anaa se aae
خود ستائی سے نہ ہم باز انا سے آئے گو ترے شہر میں جا کر کے بھی پیاسے آئے اس جوانی میں بھی الزام سے ڈرنا حیرت کون چہرے پہ نہیں کیل مہاسے آئے اس نے اک خاص تناسب سے محبت بانٹی میرے حصے میں ہمیشہ ہی دلاسے آئے بات اوصاف کی ہے نم کی نہیں ہے بھائی لوگ بے انت سمندر سے بھی پیاسے آئے ڈھونڈھتا ہے کوئی مجھ جیسا مجھے گرد و نواح اک صدا میرے تعاقب میں سدا سے آئے میں بصد شوق گرفتار رہ عشق ہوا ورنہ کچھ لوگ یہاں اپنی خطا سے آئے صرف تقلید سے ہی قیس نہیں بن سکتے یعنی اس عشق کا کرنا بھی عطا سے آئے
paanv dekhegi na taakhir kaa dukh samjhegi
پاؤں دیکھے گی نہ تاخیر کا دکھ سمجھے گی کیسے منزل کسی رہ گیر کا دکھ سمجھے گی کب سماعت پہ کوئی حرف صدا اترے گا کب وہ دستک مری زنجیر کا دکھ سمجھے گی عکس کر دوں گا میں دیوار پر اپنا چہرہ اور دنیا اسے تصویر کا دکھ سمجھے گی ہنستے ہنستے ہی سنے گی وہ مری غزلوں کو پھر مرے درد کو بھی میر کا دکھ سمجھے گی کیسے اوراق بتائیں گے کہانی میری ڈایری کیوں مری تحریر کا دکھ سمجھے گی میں وراثت میں ملا تاج محل ہوں اس کو مجھ کو ہارے گی تو تسخیر کا دکھ سمجھے گی مجھ کو بھولی ہے جو شہرت کو اثاثہ جانے خود سے بچھڑے گی تو تشہیر کا دکھ سمجھے گی
gung hain saari zaminein aasmaan hairat-zada
گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ رفتگاں ششدر سبھی آئندگاں حیرت زدہ چوس لیتی ہے زمیں پانی جہاں ہوں نفرتیں خشک ہوتی نہر پہ مت ہوں کساں حیرت زدہ کون گھر کا ہے یہ دھوون کس کی ہے یخ بستگی برف ہوتی اس ندی کا سب دھواں حیرت زدہ اس تحیر خیز شہر نور کی ہر شے عجب ہر یقیں حیرت زدہ ہر اک گماں حیرت زدہ داخلے پر تختیاں ہیں جن پہ کندہ نام ہیں کون کیسے کس طرح اور ہے کہاں حیرت زدہ سنگ مرمر سے بنا جنگل جہان آرزو دفتری لہجہ لیے میں اک جواں حیرت زدہ کس طرح کا درس مجھ کو دے رہا ہے آفتاب صحن مکتب میں کہیں ہے کہکشاں حیرت زدہ ذکر تھا ملفوف کن کا آسماں کی بات تھی سن رہا تھا شہر سارا داستاں حیرت زدہ
dard kaa kohsaar khinchtaa huun
درد کا کہسار کھینچتا ہوں سانس کب ہے غبار کھینچتا ہوں عشق ہے ہی نہیں یہ تہمت ہے دل نہیں ہے میں بار کھینچتا ہوں نبض ہے ڈوبنے بھی لگتی ہے سانس ہے زور دار کھینچتا ہوں کھینچتا ہوں اسے میں اپنی طرف اور بے اختیار کھینچتا ہوں تو کوئی ساربان کرتا ہے میں خود اپنی مہار کھینچتا ہوں شعر کہتا ہوں میں الگ ڈھب سے قافیہ جان دار کھینچتا ہوں کیمرے مطمئن نہیں کرتے عکس ہیں بار بار کھینچتا ہوں
harf-o-khayaal-o-taazgi she'ri jamaal aur shai
حرف و خیال و تازگی شعری جمال اور شے گویا وہ حسن اور ہے اس کی سنبھال اور شے دیکھ یہ تو نہیں ہے تو دیکھ یہ میں نہیں ہوں میں موت الگ معاملہ عین وصال اور شے یعنی فقیر خامشی یعنی گدائی شور ہے یعنی یہ رقص کچھ نہیں یعنی دھمال اور شے جو نے دکھائی دے سکے اس پر یقین کیجیے عین جمال اور ہے عکس جمال اور شے تو نے جو پا لیا وہ کیا مجھ سے جو کھو گیا وہ کیا تیرا عروج کچھ نہیں میرا زوال اور شے یعنی کہ عشق کیجیے یعنی یہ عمر کچھ نہیں یعنی کہ شوق اور شے اہل و عیال اور شے دیکھ جنون و خبط میں فرق بہت ہے دوستا عشق کی آگ اور ہے تیرا ابال اور شے دل میں ابھر چکا ہے جو اس کا غروب ہی نہیں یعنی یہ شرق اور ہے گویا شمال اور شے
hain kaise kaise maraahil guhar se aage bhi
ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی غزل کچھ اور ہے کار ہنر سے آگے بھی یہ شعبدے کا تجسس نہ ختم ہوگا کبھی جہان ہوگا جہان دگر سے آگے بھی بھرے جلوس میں گولی سے مارا جاؤں گا میں سوچتا ہوں خدائے بشر سے آگے بھی یہ ارد گرد کے منظر مرے شناسا ہیں گزر ہوا ہے اسی رہ گزر سے آگے بھی ورائے چشم مناظر کی کھوج جاری رکھ نظر بڑھا ذرا حد نظر سے آگے بھی اک اور جسم ہے میری نظر میں تجھ سا ہی اک اور رنگ ہے رنگ سحر سے آگے بھی اذیتیں ہیں محرم کے بعد بھی کتنی سفر مزید ہیں ماہ صفر سے آگے بھی پرائی آنکھ کی پتلی سہارا کیا دیتی وہاں اک اور بھنور تھا بھنور سے آگے بھی کھلے ہیں راز کئی میرے قتل کے مجھ پر پڑھی ہے میں نے کہانی خبر سے آگے بھی





