SHAWORDS
Azad Sahiri

Azad Sahiri

Azad Sahiri

Azad Sahiri

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

یہ حقیقت مجاز ہے پھر بھی جانے کیوں دل گداز ہے پھر بھی وقت کے ہاتھ مات کھائی ہے عقل پر اپنی ناز ہے پھر بھی رات دن جھوٹ لوٹ مکر و فریب پنج وقتہ نماز ہے پھر بھی چھیڑ کرتا ہے مہ جبینوں سے آدمی پاکباز ہے پھر بھی ہم فقط دو قدم سمجھتے ہیں گرچہ منزل دراز ہے پھر بھی گو نہیں کوئی مائل توبہ در توبہ تو باز ہے پھر بھی کام آزادؔ کیوں نہیں بنتے وہ بڑا کار ساز ہے پھر بھی

ye haqiqat majaaz hai phir bhi

غزل · Ghazal

حسن خود میں نہ ہوا جلوہ نما میرے بعد راس کیا آتی زمانے کی ہوا میرے بعد میان سے نکلی نہ شمشیر جفا میرے بعد رقص بسمل کا تماشہ نہ ہوا میرے بعد پاس دستور نہ ساقی کو رہا میرے بعد در مے خانہ کھلا چھوڑ دیا میرے بعد اک مرے اٹھنے سے دل بیٹھ گیا رندوں کا جام اٹھے اور نہ شیشہ ہی جھکا میرے بعد ہر قدم دورئ منزل کی طرف لے کے گیا راستہ بھول گئے راہنما میرے بعد بار احسان سے دب جائے نہ تربت آزادؔ چادر گل سے نہ مرقد کو سجا میرے بعد

husn khud mein na huaa jalva-numaa mere baad

غزل · Ghazal

خوں چکاں قلب و جگر چاک گریباں نکلا جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا تیری اک ایک نظر نے کیا سب کو گھائل جس کو دیکھا وہی منت کش پیکاں نکلا غنچے بیدار ہوئے جاگ اٹھے لالہ و گل بہر‌ گلگشت جو وہ رشک گلستاں نکلا جس کی گفتار سے تھا سب کو فرشتے کا گماں اپنے کردار میں وہ ثانیٔ شیطاں نکلا ہم شب تار میں بھی تیرے مکاں تک پہنچے اپنا ہر داغ جگر شمع فروزاں نکلا شکر ہے اشک ندامت مرے کام آ ہی گئے مرحلہ حشر کا میرے لئے آساں نکلا بڑھ کے دامن کو مرے خار مغیلاں نے لیا میں جو آزادؔ کبھی سوئے بیاباں نکلا

khun-chakaan qalb-o-jigar chaak-garebaan niklaa

غزل · Ghazal

سبو ہے اور شیشہ ہے نہ کوئی جام ہے ساقی زباں پر رند مشرب کی خدا کا نام ہے ساقی شکایت گردش دوراں کی کرتے بھی تو کیا کرتے اجل ہی جب علاج گردش ایام ہے ساقی کہاں وہ فکر و فن کا میکدہ آباد تھا جن سے نہ غالبؔ ہے نہ سوداؔ ہے نہ وہ خیامؔ ہے ساقی کشاکش سے غم و آلام کی اب مل گئی فرصت تری زلفوں کے سائے میں بڑا آرام ہے ساقی قفس میں حوصلہ پرواز کا دم توڑ دیتا ہے نہ خطرہ باد و باراں کا نہ خوف دام ہے ساقی غم و اندوہ کی شدت میں پوشیدہ مسرت ہے مسرت ایک عکس شدت آلام ہے ساقی میں وہ آزاد ہوں جو بادۂ عرفاں کا تشنہ ہے پلا دے اوک سے میرا پیالہ خام ہے ساقی

subu hai aur shisha hai na koi jaam hai saaqi

غزل · Ghazal

کسی کی بے رخی ہے اور میں ہوں مآل عاشقی ہے اور میں ہوں فلک نے پھر نئے فتنے جگائے کمال دشمنی ہے اور میں ہوں جگر کے داغ ہیں شمع فروزاں ہر اک سو روشنی ہے اور میں ہوں خوشی کا باب مجھ کو ڈھونڈھتا ہے کتاب زندگی ہے اور میں ہوں متاع دل لٹائے جا رہا ہوں مری دریا دلی ہے اور میں ہوں تھا کل تک رونق بزم حسیناں مگر اب بے بسی ہے اور میں ہوں سجے آزادؔ کیسے بزم ہستی یہی گر زندگی ہے اور میں ہوں

kisi ki be-rukhi hai aur main huun

غزل · Ghazal

بد مست نگاہوں کے مستانے ہزاروں ہیں ہاتھوں میں لئے دل کے نذرانے ہزاروں ہیں اس عارض تاباں کے دیوانے ہزاروں ہیں ایک شمع فروزاں ہے پروانے ہزاروں ہیں کوچے سے گزر ان کے اک روز ہوا ہوگا اس روز سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں جانے ہوئے گر اپنے انجانے ہیں غم کیسا جب شہر گلستاں میں انجانے ہزاروں ہیں یہ ذکر مے اطہر کیا پیاس بجھائے گا پینی ہے اگر واعظ میخانے ہزاروں ہیں اس بت کے تغافل کا کیا خاک اثر لیتے آذر کا زمانہ ہے بت خانے ہزاروں ہیں ہم اوک سے پی لیں گے پیمانہ ہٹا لینا آزادؔ یہاں جھوٹے پیمانے ہزاروں ہیں

bad-mast nigaahon ke mastaane hazaaron hain

Similar Poets