
Azeem Kamil
Azeem Kamil
Azeem Kamil
Ghazalغزل
بڑی مشکل سے کی تھی یار ہمت تجھ کو کھونے کی بتا کیا شرط ہے تیری ذرا نزدیک ہونے کی چلے آتے ہیں تیرے گاؤں جب یہ دل تڑپتا ہے ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے مجھ کو رونے دھونے کی خوشی سے سر جھکا لیتا ہوں جب یہ یاد آتا ہے مری ماں نے نصیحت کی تھی مجھ کو مٹی ہونے کی کوئی بے چینی لاحق ہے کہ آنکھیں بند بھی کر لوں دوائی لینی پڑتی ہے مجھے کچھ دیر سونے کی تمہارے بعد اس دل میں نہیں آیا کوئی بھی شخص نہیں ہمت بچی کاملؔ اذیت اور ڈھونے کی
baDi mushkil se ki thi yaar himmat tujh ko khone ki
جانے کس خاک سے بنا ہے وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے وہ عادی مجرم ہیں ہم محبت کے ہم سے پوچھو کہاں بکا ہے وہ لڑ کے میسج کرے گا سوری کا ایسے پہلے بھی کر چکا ہے وہ کیا ہمیں بھی معاف کر دے گا رکھ رکھاؤ تو جانتا ہے وہ اس کمینے کی بات کرتے ہو خیر ہم کو تو مانتا ہے وہ کوزہ خود بول کر بتائے گا چاہتوں سے بنا ہوا ہے وہ ہر کسی سے نہیں لگاتا دل یار اتنا تو پارسا ہے وہ میں نے سینے لگا کے چوما نہیں کاملؔ اس بات پر خفا ہے وہ
jaane kis khaak se banaa hai vo
دوں میں تسکین روح کو اپنی مجھ کو کوئی خبر تو دو اپنی مسکرانا بنا ہے تیرے لیے مستیوں میں مگن رہو اپنی جو منافق ہیں ان سے دور رہو دھڑکنوں کی سدا سنو اپنی تم کو اک اور بھی نصیحت ہے سب کی سن لو مگر کرو اپنی اپنا رونا لگا ہی رہنا ہے تم سناؤ نا کچھ کہو اپنی
duun main taskin ruuh ko apni
پھول کلیاں بھی ہم بچھائیں گے دل کی دھرتی کو یوں سجائیں گے ہجر کاٹیں گے اور خوشی کے ساتھ ایک دو یار بھی بنائیں گے پیار آفت ہے اس زمانے میں ہر نئے شخص کو بتائیں گے منتیں بعد میں کریں گے تری پہلے تھوڑا سا حق جتائیں گے اپنے ہاتھوں میں سبز پرچم ہے امن کے گیت گنگنائیں گے بوسہ لیں گے تری جبیں کا ہم روٹھنے پر تجھے منائیں گے
phuul kaliyaan bhi ham bichhaaeinge
ہمیں جب کام سے فرصت ملے گی تمہیں اس وقت ہی چاہت ملے گی جنازے پر ضرور آنا ہمارے وہاں تم کو نئی عبرت ملے گی ہماری دھڑکنوں کو سننے والے یہاں ہر پل تمہیں حیرت ملے گی روایت سے بھلا کب منحرف ہیں ان آنکھوں میں مگر جدت ملے گی تمہارا نام کتبے پر لکھا ہے ہماری قبر کو شہرت ملے گی بہاولپور سے اظہرؔ نام لینا تمہیں ہر حلقے میں عزت ملے گی ہمیں کب عید سے مطلب ہے کاملؔ اسے دیکھیں گے تو راحت ملے گی
hamein jab kaam se fursat milegi
خوشی سے جھومتی پھرتی ہے اور پھر مسکراتی ہے مری تازہ غزل وہ یاد کر کے گنگناتی ہے تمہیں سگریٹ سے نفرت ہے تو یہ کیوں بھول بیٹھے تم تمہیں جس سے محبت ہے اسے سگریٹ بچاتی ہے نہیں معلوم میرا حافظہ کس سمت رہتا ہے مگر وہ یاد رکھتی ہے جنم دن تک مناتی ہے اسے بجھتے دیوں سے اتنی الجھن ہے کہ مت پوچھو کوئی جو لڑکھڑا جائے اسے فوراً جلاتی ہے کتابیں چیخنے لگتی ہیں جب وہ پاس سے گزرے انہیں وہ چوم کے رکھتی ہے سینے سے لگاتی ہے ذہین اتنی ہے اس سے بحث تو ہم کر نہیں سکتے مجھے منٹو کے افسانے بلا ناغہ سناتی ہے
khushi se jhumti phirti hai aur phir muskuraati hai





