
Azmul Hasnain Azmi
Azmul Hasnain Azmi
Azmul Hasnain Azmi
Ghazalغزل
kaaghaz kab tak dhyaan mein rakkhaa jaaegaa
کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا آخر کوڑے دان میں رکھا جائے گا آنکھوں کی اس بار رہائی ممکن ہے خوابوں کو زندان میں رکھا جائے گا سب کو دل کے کمرے تک کب لائیں گے کچھ لوگوں کو لان میں رکھا جائے گا باتوں سے جب پیٹ کا کمرہ بھر جائے تو پھر ان کو کان میں رکھا جائے گا جس کو چاہے ہونٹ اٹھا کر لے جائیں لفظوں کو میدان میں رکھا جائے گا ہم کب قبر کی مٹی کے ہاتھ آئیں گے ہم کو تو دیوان میں رکھا جائے گا
bhanvar mein tu hi faqat meraa aasraa to nahin
بھنور میں تو ہی فقط میرا آسرا تو نہیں تو ناخدا ہی سہی پر مرا خدا تو نہیں اک اور مجھ کو مری طرز کا ملا ہے یہاں سو اب یہ سوچتا ہوں میں وہ دوسرا تو نہیں ابھی بھی چلتا ہے سایہ جو ساتھ ساتھ مرے بتا اے وقت کبھی میں شجر رہا تو نہیں ہیں گہری جڑ سے شجر کی بلندیاں مشروط سو پستیاں یہ کہیں میرا ارتقا تو نہیں جو پاس یہ مرے بے خوف چلے آتے ہیں مرے بدن پہ پرندوں کا گھونسلہ تو نہیں اے آئنے تو ذرا دیکھ غور سے مری آنکھ گرے ہیں اشک کوئی خواب بھی گرا تو نہیں
zamin-e-chashm mein boe the main ne khvaab ke biij
زمین چشم میں بوئے تھے میں نے خواب کے بیج مگر اگے تو کھلا وہ تھے اضطراب کے بیج مجھے ہی کاٹ کے مٹی میں گاڑنا ہوگا کہ کون دے گا مری جاں تمہیں گلاب کے بیج زمیں پہ ایسے چمکتے ہیں ریت کے ذرے کسی نے جیسے بکھیرے ہوں آفتاب کے بیج وہ میری روح میں اترا تو کب گمان بھی تھا دبا رہا ہے مری روح میں عذاب کے بیج تمام عمر کٹی اک فریب میں عزمیؔ بکھیر کر وہ گیا دور تک سراب کے بیج
likkhi jab aasmaan ne taqdir khaak ki
لکھی جب آسمان نے تقدیر خاک کی مجھ کو تمام سونپ دی جاگیر خاک کی بھاتے نہیں ہیں آنکھ کو میری یہ تاج و تخت جاتی نہیں وجود سے تاثیر خاک کی پر کھول تو دئے مرے صیاد نے مگر پاؤں میں ڈال دی مرے زنجیر خاک کی آنا ہے اس کی قید میں ہر اک وجود نے لگنی ہے ہر وجود پہ تعزیر خاک کی لو خاکساری سے بھی میں آگے نکل گیا لو بن گیا ہوں آج میں تصویر خاک کی
jo hai makaan vahi laa-makaan niklegaa
جو ہے مکان وہی لا مکان نکلے گا زمیں تلے بھی کوئی آسمان نکلے گا اکیلا دھوپ کے لشکر میں گھر گیا پاگل جو سوچتا تھا کوئی سائبان نکلے گا یہ جن جو کام کا دفتر کے آ گیا مجھ پر بدن کو سونپ کے میری تکان نکلے گا کوئی تو ہے جو سدا ہے مرے تعاقب میں عدو نہیں تو کوئی مہربان نکلے گا جو جانتا تھا مجھے مجھ سے بھی ذرا بڑھ کر کسے خبر تھی وہی بد گمان نکلے گا
sikhaae vaqt ne atvaar sad hazaar mujhe
سکھائے وقت نے اطوار صد ہزار مجھے کہ اب تو چوٹ بھی رہتی ہے سازگار مجھے نکال دے مرے دل سے ادا و ناز سبھی بگڑ گیا ہوں غم زندگی سنوار مجھے میں تیرے پاس گھڑی دو گھڑی کا مہماں ہوں اگرچہ وقت کڑا ہوں مگر گزار مجھے دیا جو ہاتھ مرے ہاتھ میں تو چپکے سے تھما گیا ہے کوئی درد بے شمار مجھے یقیں بھی ہے کہ اسے لوٹ کر نہیں آنا مگر ہے شام و سحر پھر بھی انتظار مجھے کوئی تو ہے پس دیوار و در نہاں عزمیؔ پکارتا ہے سر شام بار بار مجھے





