SHAWORDS
Babar Zuhrab

Babar Zuhrab

Babar Zuhrab

Babar Zuhrab

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میں تنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میں جو اشک ہجر یار نے بخشا ہے آنکھ کو کچھ دن میں اس کو اپنا ستارہ کروں گا میں تب دیکھنا فلک کا بدلتا ہوا مزاج جب چاند کو زمیں سے اشارا کروں گا میں کیوں سانس بند ہوں گے مرے میرے حکم سے کیوں بحر زندگی سے کنارہ کروں گا میں میں راہ فکر و فن سے دیا لے کے علم کا گزرا کروں گا خود کو گزارا کروں گا میں اب مجھ پہ اصل ہار کا مطلب کھلا ہے دوست اس کھیل میں تو جان کے ہارا کروں گا میں خلق خدا سنوار سکے تاکہ خد و خال ظہرابؔ آئنے کو سنوارا کروں گا میں

dil se tumhaari yaad guzaaraa karungaa main

2 views

غزل · Ghazal

اک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میں مقام اپنا بنا سکتا ہوں کلام سے میں وگرنہ اس کی نظر مجھ پہ پڑ گئی ہوتی خدا کا شکر پکارا گیا نہ نام سے میں جواب میں مجھے ملتی ہے رات کی کالک سوال کرتا ہوں جب بھی چراغ شام سے میں اسی لیے تو مقدر پہ ناز ہے مجھ کو کہ بادشاہ بنایا گیا غلام سے میں لگا رہا ہوں صدا اپنے دل کے ایواں میں بلا رہا ہوں تجھے کتنے احترام سے میں وہ آگ مجھ میں بھڑکتی ہے جاں تڑکتی ہے جو آگ لے گیا جلتے ہوئے خیام سے میں سمجھ رہا تھا کہ ظہرابؔ ہوں مگر پھر بھی نکل سکا نہ محبت تمھارے دام سے میں

ik ek lafz ko bartun gar ehtimaam se main

2 views

غزل · Ghazal

مری نگاہ نئی آب و تاب دیکھتی ہے کبھی ستارہ کبھی ماہتاب دیکھتی ہے میں اس کی نیند سے دل میں اترنا چاہتا ہوں خدا کا شکر کہ وہ لڑکی خواب دیکھتی ہے زمیں پہ آ کے یہ خلق خدا بہ نام خدا خراب ہو کے جہان خراب دیکھتی ہے فقط مجھے ہی وہ دریا نظر نہیں آتا کہ ریگ صحرا بھی اکثر سراب دیکھتی ہے بشر کو خواب دکھاتی ہے اور خوابوں میں خدا کی آنکھ نیا انقلاب دیکھتی ہے قلم دوات مرے منتظر ہیں مدت سے کتاب اٹھاؤں کہ مجھ کو کتاب دیکھتی ہے کبھی چلی نہیں ظہرابؔ وہ ہوا مجھ میں جو شاخ شاخ مہکتے گلاب دیکھتی ہے

miri nigaah nai aab-o-taab dekhti hai

2 views

غزل · Ghazal

نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویر سکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویر رکھیں گے نقش محمد کا دل میں تاکہ رہے ہمارے پاس ہمارے امام کی تصویر یہ صبح و شام کے منظر میں وقت کا کردار یہ روز و شب ہیں عجب اہتمام کی تصویر پئیں گے دل سے شہادت کا جام برسر خاک کہ ہے یہ موت ہمارے دوام کی تصویر جہاں جہاں سے وہ گزرا زمانہ رک گیا تھا ہر اک مقام نے کھینچی خرام کی تصویر وہ آنکھ جس کو میسر ہو وہ نہیں رکھتا یہ جام جم کا تصور یہ جام کی تصویر زمیں پہ بجلی گرائی گئی ہے یوں ظہرابؔ بنا رہا ہے خدا انہدام کی تصویر

na koi subh kaa manzar na shaam ki tasvir

1 views

غزل · Ghazal

سفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کو ابھی تیری محبت کا سہارا چاہیے مجھ کو کوئی تازہ بہت تازہ نظر کا زاویہ مل جائے کوئی روشن بہت روشن نظارہ چاہیے مجھ کو مرے الفاظ کی جھولی کہیں خالی نہ رہ جائے یہ جو سرمایۂ غم ہے یہ سارا چاہیے مجھ کو کوئی برسات کا بادل یہاں بار دگر آئے دھنک جیسا کوئی لمحہ دوبارہ چاہیے مجھ کو خدائے بحر مجھ کو پانیوں میں سانس دی توں نے مگر اب اس سمندر سے کنارہ چاہئے مجھ کو ابھی تو اک ستارے پر قدم میں نے جمائے ہیں ابھی تو آسماں سارے کا سارا چاہیے مجھ کو تری خواہش کے آنگن میں ہو میرے پیار کی چھایا مکمل اس حویلی پر اجارا چاہیے مجھ کو ابھی ظہرابؔ اس کو دیکھتا ہوں چشم حیرت سے ابھی دریاے حیرت کا کنارہ چاہیے مجھ کو

safar ki zulmaton mein ye sitaara chaahiye mujh ko

1 views

غزل · Ghazal

ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیں کہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیں کسی نے آگ لگائی ہے ٹھہرے پانی میں سلگ رہا ہے سمندر کنارے روشن ہیں یہ صوت ہے کہ علامت ہے شمع محفل کی یہ لفظ ہیں کہ نئے استعارے روشن ہیں سنبھل کے مجھ کو قدم رکھنا ہوں گے دنیا میں کنایہ کار ہے وہ آنکھ اشارے روشن ہے کہیں کہیں تو وہ لو سر اٹھانے لگتی ہے کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے سارے روشن ہیں کسی نے جھونک دیا ہے بدن کی دوزخ میں تمام شعلے تمامی شرارے روشن ہیں مجھے جلانا نہیں پڑتا اپنا دل ظہرابؔ خدا کا شکر ہے میرے نظارے روشن ہیں

hamaari aankh mein manzar tumhaare raushan hain

1 views

Similar Poets