"jo baat nasri hai nazriyati hai jadliyati hai vo mukammal kabhi na hogi magar jo mujmal hai aur mauzun hai aur hatmi aur akhiri hai vo sha.iri hai"
Badr
Badr
Badr
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaljo baat nasri hai nazriyaati hai jadliyaati hai vo mukammal kabhi na hogi
magar jo mujmal hai aur mauzun hai aur hatmi aur aakhiri hai vo shaairi hai
Ghazalغزل
damak uThi hai fazaa maahtaab-e-khvaab ke saath
دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ دھڑک رہا ہے یہ دل کس رباب خواب کے ساتھ ہٹے غبار جو لو سے تو میری جوت جگے جلوں میں پھر سے نئی آب و تاب خواب کے ساتھ ہے سو اداؤں سے عریاں فریب رنگ انا برہنہ ہوتی ہے لیکن حجاب خواب کے ساتھ تو کیوں سزا میں ہو تنہا گناہ گار کوئی یہاں تو جیتے ہیں سب ارتکاب خواب کے ساتھ شرار سنگ سے سنگلاخ ہو گئے تلوے ہوا نہ کچھ دل خانہ خراب خواب کے ساتھ سلائے رکھا ہمیں بھی فریب منزل نے چلے تھے ہم بھی کسی ہمرکاب خواب کے ساتھ سراغ ملتا نہیں پیاس کے سفینوں کا بھنور بھی ہوتے ہیں شاید سراب خواب کے ساتھ حقیقتوں کی چٹانوں پہ چل گیا جادو لو وہ بھی چلنے لگیں اب سحاب خواب کے ساتھ عجب نہیں وہی منظر نظارہ بن جائے ڈرا رہا ہے یہ ڈر اضطراب خواب کے ساتھ دراڑیں رہ گئیں بیداریوں کے نقشے پر نہ ہم رہے نہ وہ تم انقلاب خواب کے ساتھ نگاہ دیدۂ تعبیر کے حوالے خلشؔ ہے یہ بیاض الگ انتخاب خواب کے ساتھ
nishaan-e-zakhm pe nishtar-zani jo hone lagi
نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگی لہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگی ہوا وہ جشن کہ نیزے بلند ہونے لگے نیام تیغ کی خنجر کے ساتھ سونے لگی جہاں میں دوڑ کے پہنچا تھا وہ گھنیری چھاؤں ذرا سی دیر میں زار و قطار رونے لگی ندی ڈباؤ نہ تھی ڈوبنا پڑا لیکن کنارے پہنچا تو شرمندگی ڈبونے لگی سب اپنی پیاس بجھانے میں محو تھے ہمہ تن ہوا یہ پھر کہ ہوا شعلہ خیز ہونے لگی بڑھائے ہاتھ مدد کو دراز دستوں نے تو اپنا بوجھ وہ چیونٹی کی طرح ڈھونے لگی کچھ اور سرخ رو ہو کر اٹھے وہ مقتل سے گھٹا بھی اٹھی تو دامن کے داغ دھونے لگی وہ پیرزن جسے کانٹے نکالنے تھے خلشؔ وہ ساحرہ کی طرح سوئیاں چبھونے لگی
gum hue jaate hain dhaDkan ke nishaan ham-nafaso
گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسو ہے در دل پہ کوئی سنگ گراں ہم نفسو رسنے لگتی ہیں جب آنکھوں سے تیزابی یادیں بات کرتے ہوئے جلتی ہے زباں ہم نفسو دل سے لب تک کوئی کہرام سا سناٹا ہے خود کلامی مجھے لے آئی کہاں ہم نفسو اک سبک موج ہے اک لوح درخشاں پہ رواں ہے تماشائی یہاں سارا جہاں ہم نفسو کتنے مصروف ہیں مسرور نہیں پھر بھی یہ لوگ ہے یہ کیا سلسلۂ کار زیاں ہم نفسو شام تمہید غزل رات ہے تکمیل غزل دن نکلتے ہی نکل جاتی ہے جاں ہم نفسو رشک محشر کوئی قامت تو نگاہوں میں جچے دل میں باقی ہے ابھی تاب و تواں ہم نفسو زندہ ہو رسم جنوں کس کی نواریزی سے اب رہا کون یہاں شعلہ بجاں ہم نفسو آج کی شام غزل کیوں نہ خلشؔ سے ہی سنیں ڈھونڈ کر لائے کوئی ہے وہ کہاں ہم نفسو
kahin subh-o-shaam ke darmiyaan kahin maah-o-saal ke darmiyaan
کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں یہ مرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاں ابھی صحن جاں میں بچھی ہوئی جو بہار ہے اسے کیا کہوں میں کسی عتاب کی زد میں ہوں تو کسی ملال کے درمیاں ہیں کسی اشارے کے منتظر کئی شہسوار کھڑے ہوئے کہ ہو گرم پھر کوئی معرکہ مرے ضبط حال کے درمیاں نہیں ترجمان بیاں کوئی جو ہے پردہ دار سکوت ہے ہیں یہ داغ داغ عبارتیں بڑے احتمال کے درمیاں یہاں ذرہ ذرہ ہے دیدہ ور نہیں ذرہ بھر کوئی بے خبر کسی کم نظر کو پڑی ہے کیا پڑے کیوں سوال کے درمیاں نہ رہا دھواں نہ ہے کوئی بو لو اب آ گئے وہ سراغ جو ہے ہر اک نگاہ گریز خو پس اشتعال کے درمیاں تھے جو پر کشا ہیں زبوں زبوں تھے جو سر بکف ہوئے سرنگوں کہیں کھو گئے دروں دروں یہ کس اندر جال کے درمیاں لگی ضرب ایسی ہے بر محل کہ یہ مرحلہ بھی ہے جاں گسل ہوئے زخم پھر سے لہو لہو تھے جو اندمال کے درمیاں کبھی شکوہ زن کبھی نکتہ چیں کبھی باغیوں کا حمایتی یہ خلشؔ ہے کون کہو اسے رہے اعتدال کے درمیاں
qadmon se itnaa duur kinaara kabhi na thaa
قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا نا قابل عبور یہ دریا کبھی نہ تھا تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا ہے ذکر یار کیوں شب زنداں سے دور دور اے ہم نشیں یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا کمرے میں دل کے اس کے علاوہ کوئی نہیں حیران ہوں کہ ایسا اندھیرا کبھی نہ تھا کس نے بساط بحث کے مہرے بدل دیئے تنہا تو تھا وہ پہلے بھی گونگا کبھی نہ تھا امروز انتظار کا فردا تو کل بھی ہے اندوہ امشبی کا سویرا کبھی نہ تھا ہر ذہن میں ہمیشہ سلگتا ہے یہ سوال آخر ہوا وہ کیوں جسے ہونا کبھی نہ تھا دیوانہ تھا بھٹک گیا گم ہو گیا ہے قیس خالی مگر کجاوۂ لیلیٰ کبھی نہ تھا کل بھی اسی دیار میں تھا روشنی کا قحط ایسا مگر چراغ کا دھندا کبھی نہ تھا پگھلی کچھ اور برف تو اک اور شہر خواب یوں بہہ گیا نشیب میں گویا کبھی نہ تھا برسا ہے کس ببول پہ ابر بہار خیز اتنا ہرا تو زخم تمنا کبھی نہ تھا اس نے بھی التفات سے دیکھا تھا کب خلشؔ میں نے بھی اس کے بارے میں سوچا کبھی نہ تھا
gaurayyon ne jashn manaayaa mere aangan baarish kaa
گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کا بیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کا چند کتابیں تھوڑے سپنے اک کمرے میں رہتے ہیں میں بھی یہاں گنجائش بھر ہوں کس کو خیال آرائش کا ٹھہر ٹھہر کر کوند رہی تھی بجلی باہر جنگل میں ٹرین رکی تو سرپٹ ہو گیا گھوڑا وقت کی تازش کا ٹیس پرانے زخموں کی تھی نیند اچٹ گئی آنکھوں سے بھیگ رہا تھا کروٹ کروٹ گوشہ گوشہ بالش کا کسی کے دل پر دستک دوں گا کسی کے غم کا دکھڑا ہوں سننے والے سمجھ رہے ہیں نغمہ ہوں فرمائش کا سر کے اوپر خاک اڑی تو سب دل تھام کے بیٹھ گئے خبر نہیں تھی گزر چکا ہے موسم ابر نوازش کا رینگ رہی تھیں امر لتائیں چھپ چھپ کر شادابی میں عریاں ہوتی شاخوں سے اب بھرم کھلا زیبائش کا اپنی ہی دھن میں مگن رہتا ہے سچے سر کا سازندہ جیسے کہ میں ہوں متوالا خود اپنے طرز نگارش کا قدم قدم ہے ویرانہ کہیں اور خلشؔ اب کیا جانا ورنہ شوق مجھے بھی کل تھا صحرا کی پیمائش کا





