SHAWORDS
Badr

Badr

Badr

Badr

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

فلک سے چل کے یہاں ماہتاب آئے گا ہمارے پاس کوئی بے نقاب آئے گا خدا کے گھر کو مٹایا ہے انتظار کرو تمہارے سر پہ یقیناً عذاب آئے گا تمہارے ظلم و ستم کی سزا ملے گی تمہیں عذاب آئے گا اور بے حساب آئے گا ہمارے فکر و عمل پر جمود طاری ہے بہ طرز شور قیامت شباب آئے گا

falak se chal ke yahaan maahtaab aaegaa

غزل · Ghazal

دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتا مرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتا میرا دشمن بھی مرے قد کے برابر ہوتا کاش کاندھے پہ میرے ایک عدد سر ہوتا یہ حقیقت ہے سرابوں میں مچلتیں لہریں دشت اگر دشت نہ ہوتا تو سمندر ہوتا اس کے خنجر سے لپٹ جاتے سنہرے الفاظ حاکم شہر اگر ایک سخنور ہوتا میں یوں بے کار نہ ہوتا کسی پتھر کی طرح وقت کے پاس اگر تیشۂ آذر ہوتا وہ تو کہیے کہ ہے پرواز تخیل سے پرے ورنہ یزداں بھی کسی تیر کی زد پر ہوتا

dast-e-qaatil mein koi tegh na khanjar hotaa

غزل · Ghazal

کتنا بے چین ہے خاموش سمندر دیکھو دل کی گہرائی میں اک روز اتر کر دیکھو قتل ہو جائے گا سورج تو لہو ہوگی سحر دیکھنا ہے تو ابھی صبح کا منظر دیکھو راز در راز ہے الفاظ کی گہرائی میں میرے چہرے پہ جو تحریر ہے پڑھ کر دیکھو خامشی گونج بھی ہے چیخ بھی ہے نغمہ بھی تم کسی پیڑ کو نزدیک سے چھو کر دیکھو کیسے پتھر کا جگر چیر کے اٹھتی ہے حیات کسی چٹان تلے بیج دبا کر دیکھو یوں تو چہرے پہ سجا رکھی ہے اک بزم طرب کتنے مقتل ہیں مرے سینے کے اندر دیکھو کتنی دل کش ہے دل افروز ہے دنیائے دنی اپنی آنکھوں سے ذرا ہاتھ ہٹا کر دیکھو اس عقیدے نے لیا قیصر و کسریٰ سے خراج موت کا وقت ازل سے ہے مقرر دیکھو تابکے شوکت اجداد پہ یہ ناز و غرور خواب غفلت سے اٹھو وقت کے تیور دیکھو آسماں چیر کے جائے گا ستاروں سے پرے تم بھی اک بار چلا کر ذرا پتھر دیکھو مار ڈالے گی گلا گھونٹ کے صدیوں کی گھٹن کھڑکیاں کھول دو کچھ دیر تو باہر دیکھو دیکھ لینا پس قاتل بھی کوئی ہوگا ضرور صرف قاتل ہی چلاتا نہیں خنجر دیکھو سخت سے سخت ہوا جاتا ہے چہرہ اس کا زندگی کا یہ بدلتا ہوا پیکر دیکھو

kitnaa bechain hai khaamosh samundar dekho

غزل · Ghazal

انتخابی دور میں شعلہ بیانی چھوڑ دی اس نے مجھ سے ہر طرح کی بد گمانی چھوڑ دی اس کا وعدہ ہے وہ کر دے گا مجھے جنت نشیں با خوشی میں نے اگر مسجد پرانی چھوڑ دی میں حقائق کے سہارے اب تلک لڑتا رہا پھر اچانک اس نے بڑھ کر اک کہانی چھوڑ دی جو تھے محروم انا جا کر سمندر میں گرے ایک دریا نے مگر اپنی روانی چھوڑ دی جب ادب کے سورما بننے لگے پشہ صفت ہم نے بھی اکتا کے آخر پہلوانی چھوڑ دی میرے سر پر ہر طرف سے سیکڑوں پتھر لگے جب سبک سر ہو کے میں نے سرگرانی چھوڑ دی پر فشاں اشعار ہیں یا ہے فرشتوں کا نزول یا عدم نے اک بلائے‌ ناگہانی چھوڑ دی عہد نو میں کچھ نہیں ملتا ہے قیمت کے بغیر اب مسیحا نے روش اپنی پرانی چھوڑ دی جانے کس کا حاشیہ بردار ہے میرا قلم ہر کس و ناکس کی اس نے ترجمانی چھوڑ دی

intikhaabi daur mein sho'la-bayaani chhoD di

غزل · Ghazal

دھوکہ ہے اگر آنکھ میں قاتل کی نمی ہے شعلوں پہ کہیں آج تلک برف جمی ہے پتوں کی صدائیں ہیں کہ مجبور کا نوحہ پر میرے درختوں سے ہوا باندھ گئی ہے یا تو مری بستی کے سبھی لوگ ہیں اندھے یا حلقۂ آفاق میں سورج کی کمی ہے ہر شخص ہے محروم یہاں فکر رسا سے فطرت میں ابھی تک وہی شوریدہ سری ہے روپوش نگاہوں سے ہے ہنگامۂ فردا آئینۂ ادراک پہ بھی گرد جمی ہے وہ قوت بازو ہے نہ ہمت نہ شجاعت تلوار پڑی اپنا ہی دم چاٹ رہی ہے کوؤں سے لرزتا ہے ابابیل کا لشکر شاہین کی تقدیر میں بے بال و پری ہے اب واعظ و زاہد ہیں بہم دست و گریباں اک جنگ جمل آج مساجد میں چھڑی ہے جو راندۂ درگاہ تھے وہ تخت نشیں ہیں معیار فقیری نہیں دریوزہ گری ہے فرعون کی اولاد گئی شمس و قمر تک اور آل نبی نیل کے ساحل پہ کھڑی ہے ابلیس بھی پانی کے لیے دوڑ رہا ہے لگتا ہے کہ دوزخ میں کہیں آگ لگی ہے سچائی سے اس شخص کی دیرینہ عداوت تاریخ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے آندھی تو اڑا لے گئی کاشانۂ مفلس ظالم کی حویلی ابھی محفوظ کھڑی ہے سیلاب جو آیا اسے صحرا نے دبوچا بجلی بھی کہیں جا کے سمندر میں گری ہے ہمسایہ اٹھا لاتا ہے گھر میں من و سلویٰ پر میری انا ہے کہ مجھے روک رہی ہے

dhoka hai agar aankh mein qaatil ki nami hai

غزل · Ghazal

سورج کو اندھیروں سے نکلنے نہیں دیتے کچھ لوگ سیہ رات کو ڈھلنے نہیں دیتے پتھر کی طرح راہ میں اڑ کر وہ کھڑے ہیں خود چلتے نہیں اوروں کو چلنے نہیں دیتے مٹھی میں جکڑ رکھا ہے ہر موج رواں کو بیتاب سمندر کو اچھلنے نہیں دیتے کر دیتے ہیں پابند کتاب اور قلم کو فرسودہ روایات بدلنے نہیں دیتے جو ناگ پھنی دل میں اگاتے ہیں وہی لوگ پھل دار شجر پھولنے پھلنے نہیں دیتے

suraj ko andheron se nikalne nahin dete

Similar Poets