SHAWORDS
Badr Shamsi

Badr Shamsi

Badr Shamsi

Badr Shamsi

poet
30Ghazal

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

har lamha bahr-e-vaqt ki tughyaaniyon mein huun

ہر لمحہ بحر وقت کی طغیانیوں میں ہوں ٹھہروں کہاں کہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں بکھرا ہوا ہوں ٹوٹے ہوئے خواب کی طرح دیکھا گیا ہوں جب سے پریشانیوں میں ہوں حالات کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں مصروف اپنے آپ کی قربانیوں میں ہوں یہ قید ٹوٹ جائے تو شاید سکوں ملے میں اپنے ہی وجود کے زندانیوں میں ہوں اب زخم زخم ہے مرے احساس کا بدن شیشہ ہوں پتھروں کی نگہبانیوں میں ہوں آباد مجھ سے ہے مرے خوابوں کی کائنات میں وسعت خیال کی ویرانیوں میں ہوں کیا خوش لباس لوگ ہیں شہر لباس میں محسوس ہو رہا ہے کہ عریانیوں میں ہوں اے بدرؔ سوز غم کا اجالا ہے ہر طرف میں ظلمتوں میں رہ کے بھی تابانیوں میں ہوں

غزل · Ghazal

tasvir-e-masarrat hai ki gham khoe hue hain

تصویر مسرت ہے کہ غم کھوئے ہوئے ہیں کچھ اشک سر دیدۂ نم کھوئے ہوئے ہیں مل کر بھی جدا رہنا ہے تقدیر محبت وہ سامنے آئے ہیں تو ہم کھوئے ہوئے ہیں ہیں زخم جگر محو مناجات محبت یا ذکر الٰہی میں صنم کھوئے ہوئے ہیں اس وقت نہ پائے گی ہمیں گردش دوراں اس وقت تری یاد میں ہم کھوئے ہوئے ہیں ان جاگتی آنکھوں میں سلگتے ہیں ابھی تک کچھ خواب جو خود اپنا بھرم کھوئے ہوئے ہیں خود سے بھی ملاقات نہیں تجھ سے بچھڑ کر ہم بھی تری یادوں کی قسم کھوئے ہوئے ہیں ہے کوئی جو آ کر ترے کوچہ کا پتہ دے کچھ لوگ سر دیر و حرم کھوئے ہوئے ہیں احساس کو الفاظ کا پیکر نہیں ملتا تحریر کی وادی میں قلم کھوئے ہوئے ہیں اب دل میں نہیں بدرؔ کوئی نقش تمنا سائے پس دیوار حرم کھوئے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

guzri hui bahaar kaa koi pataa nahin

گزری ہوئی بہار کا کوئی پتا نہیں اس پیڑ میں تو ایک بھی پتا ہرا نہیں میں خود بھی اپنے گوش سماعت پہ بار ہوں وہ حرف ہوں جسے ترا لہجہ ملا نہیں اس بھیڑ میں ہیں سب وہی دیرینہ اجنبی میرے لئے تو ایک بھی چہرہ نیا نہیں ناراض مجھ سے شہر کے بچے ہیں اس لئے میں ان کے ہاتھ بن کے کھلونا رہا نہیں پھینکا ہے کس کے ہاتھ نے پتھر میں دیکھ لو پتھر سے بڑھ کے اور کوئی آئنہ نہیں کس حوصلہ سے خود کو سمیٹے ہوئے ہوں میں ٹوٹا ہوا ضرور ہوں بکھرا ہوا نہیں اس سے بچھڑ کے ملتی کوئی روشنی تو کیا اے بدرؔ مجھ کو خود مرا سایہ ملا نہیں

غزل · Ghazal

aaina-e-khayaal mein khvaabon ke silsile

آئینۂ خیال میں خوابوں کے سلسلے دریا میں موجزن ہیں سرابوں کے سلسلے مہکے ہیں دل میں یوں تری یادوں کے زخم بھی جیسے کھلے ہوں تازہ گلابوں کے سلسلے پھولوں کی انجمن میں ستاروں کی چھاؤں میں بکھرے کہاں کہاں مرے خوابوں کے سلسلے ہر شخص ہے خود اپنے خیالات کا رسول چہرے بھی ہیں خدا کی کتابوں کے سلسلے ہم بھی پھرے ہیں دشت تمنا میں سر بکف ملتے ہیں ہم سے خانہ خرابوں کے سلسلے ہم ہیں سوال ارض تمنا کی بازگشت ہم پر ہوئے ہیں ختم جوابوں کے سلسلے جلتا ہوں زندگی کے جہنم میں رات دن جاری ہیں ہر نفس پہ عذابوں کے سلسلے اپنی حقیقتوں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ چہرے ہیں یا حسین نقابوں کے سلسلے اے بدرؔ زخم دل ہیں غم دل پہ خندہ زن دریا سے کھیلتے ہیں حبابوں کے سلسلے

غزل · Ghazal

karam huaa bhi to kitne takallufaat ke baa'd

کرم ہوا بھی تو کتنے تکلفات کے بعد عطا ہوا غم جاناں غم حیات کے بعد ترے ستم کی قیامت بھی دل پہ گزری ہے تری نگاہ عنایت کے حادثات کے بعد نظر نظر ترا جلوہ نفس نفس خوشبو عجیب حال ہے ترک تعلقات کے بعد خود اپنی شکل نظر آئی ان کی صورت میں نظر اٹھی جو حجاب تعینات کے بعد کہیں ملا نہ وہ سایہ کہ دل ٹھہر جاتا تمہارے غم کی کڑی دھوپ سے نجات کے بعد یہ روشنی انہیں تاریکیوں سے پھوٹی ہے یقین دل کو ملا ہے توہمات کے بعد ہوئی ہے بدرؔ انہیں زحمت تغافل بھی مگر مرے دل پامال التفات کے بعد

غزل · Ghazal

naadida manzilon ke payambar bahut mile

نادیدہ منزلوں کے پیمبر بہت ملے ہم کو ہماری راہ کے پتھر بہت ملے درد آشنا خلوص کے پیکر بہت ملے زخموں کو ڈھونڈتے ہوئے نشتر بہت ملے سینے سے ہم لگائے ہوئے تھے متاع درد ہم سے ملے بھی لوگ تو بچ کر بہت ملے کس کس کو اپنے دل میں ہم آخر اتارتے جو ہم پہ مہرباں تھے وہ خنجر بہت ملے یادوں کے زخم دل کا لہو درد بے کسی کوچے میں زندگی کے ستمگر بہت ملے دیکھا جدھر لگی تھی شکستہ دلوں کی بھیڑ آبادیوں میں اجڑے ہوئے گھر بہت ملے پلکوں پہ اپنی خوب اگی آنسوؤں کی فصل ان خشک ڈالیوں پہ گل تر بہت ملے بھیجے ہیں اس نے کتنے محبت بھرے خطوط ہم کو ہمارے قتل کے محضر بہت ملے اے بدرؔ دل کے داغ تھے راتوں کو ضو فشاں تیرہ شبی میں چاند سے پیکر بہت ملے

Similar Poets