
Baloch Mehfooz Khan
Baloch Mehfooz Khan
Baloch Mehfooz Khan
Ghazalغزل
دل میں جو بات ہے وہ بات بتاؤں کیسے دل کے جذبات سناؤں تو سناؤں کیسے دل کے ٹکڑے ہوئے اس طرح کے آئینہ ہو دل کے ٹکڑوں کو گناؤں تو گناؤں کیسے مجھ سے روٹھا ہے مرا رب مری کرتوتوں سے اپنے مالک کو مناؤں تو مناؤں کیسے ان کے چہرے پہ جو بل ہے تو سبب میں ہی ہوں ان کے رخسار پہ مسکان کو لاؤں کیسے عاشقوں سے یہ گزارش ہے مجھے سکھلا دو ان کے آنے پہ میں پلکوں کو بچھاؤں کیسے دل کی دھڑکن نہیں رکتی یہ پریشانی ہے کوئی کہہ دو کے میں اس دل کو سلاؤں کیسے ان کا در بند ہے مجھ پر جو کبھی جاؤں تو وہ بلاتے ہی نہیں مجھ کو تو جاؤں کیسے میں نے سو بار کہا ان سے کہ دامن چھوڑو وہ نہ چھوڑیں تو میں دامن کو چھڑاؤں کیسے زخم دل کے تو چھپانے سے نہیں چھپتے ہیں درد دل تم سے چھپاؤں تو چھپاؤں کیسے میں نے چاہا مری ہستی کو مٹانا لیکن جو فنا ہو نہ سکے اس کو مٹاؤں کیسے وہ یہ کہتے ہیں جھکا غیر کے آگے سر کو اپنا سر غیر کے آگے میں جھکاؤں کیسے بھولنے پر بھی جو ہر بار مجھے یاد آئے قلب محفوظؔ سے وہ نام بھلاؤں کیسے
dil mein jo baat hai vo baat bataaun kaise
زندگی سے مجھے چھڑا بھی دے چین کی نیند اب سلا بھی دے تھک گیا ہوں مصیبتوں سے میں ہاں مجھے اب کفن اوڑھا بھی دے راستے بند ہو چکے ہیں سب اب نیا راستہ بنا بھی دے خوب جھیلا برے پیاموں کو کچھ خبر خیر کی سنا بھی دے پوچھتے ہیں سبھی مرا پیشہ کیا کہوں میں ذرا بتا بھی دے صبر کی انتہا ہوئی یارب اب مجھے صبر کا صلہ بھی دے
zindagi se mujhe chhuDaa bhi de
آنسو بہا کے دیکھ چکا کچھ ہوا نہیں خود کو مٹا کے دیکھ لیا کچھ ملا نہیں تعمیر زندگی کے لیے کیا نہیں کیا پھر بھی یہ اعتراض کہ کچھ بھی کیا نہیں مجھ کو مرے خدا سے گلے ہیں کئی مگر مجھ کو معاشرے سے ذرا بھی گلہ نہیں چوبیس سال ختم ہوئے عمر کے مگر گھر سے نکل کے چار قدم میں چلا نہیں تھی کام کی تلاش مجھے ایک عمر سے لیکن درست کام کہیں بھی ملا نہیں محفوظؔ ایک شخص ابھی تک جہاں میں ہے یعنی وہ نامراد ابھی تک مرا نہیں
aansu bahaa ke dekh chukaa kuchh huaa nahin
روح پر ظلم ڈھا رہا ہوں میں اور سب سے چھپا رہا ہوں میں پیاس میں زہر پی رہا ہوں میں بھوک میں زخم کھا رہا ہوں میں شاعری میں سبھی کو الجھا کر اصل مقصد چھپا رہا ہوں میں میں یقیناً بہت گھنونا ہوں آپ کو سچ بتا رہا ہوں میں سب دیا ہے مجھے مرے رب نے شور بے جا مچا رہا ہوں میں عمر ساری عمل سے خالی ہے صرف باتیں بنا رہا ہوں میں بھونکتا ہوں جلی کٹی باتیں آپ کا دل دکھا رہا ہوں میں دور ہو کر تری محبت سے صرف خود کو جلا رہا ہوں میں ہر گھڑی سوچ سوچ کر دل کو آگ ہی تو لگا رہا ہوں میں ہیں بہت سی برائیاں مجھ میں آپ کو کم گنا رہا ہوں میں خود کو اتنا تباہ کر کے بھی دیکھ خوشیاں منا رہا ہوں میں شاعری میں لہو چھڑک کر کے ایک شعلہ بجھا رہا ہوں میں میں بھلے ہی تباہ ہو جاؤں آپ کو تو بچا رہا ہوں میں بات مت ماننا کبھی میری جھوٹ ہی بولتا رہا ہوں میں آج خود کو برا بھلا کہہ کر آئنہ ہی دکھا رہا ہوں میں
ruuh par zulm Dhaa rahaa huun main
اب کسی سے خفا نہیں ہوں میں مر چکا ہوں مٹا نہیں ہوں میں جو نہیں ہوں وہی دکھا ہوں میں اور جو ہوں دکھا نہیں ہوں میں غیر کے سامنے جھکاؤں سر اس قدر بے وفا نہیں ہوں میں موت ہی کاش چین دے مجھ کو زندگی کو جچا نہیں ہوں میں ہر دعا بے اثر رہے میری اس قدر تو برا نہیں ہوں میں
ab kisi se khafaa nahin huun main
موت اچھی کہ زندگی اچھی جو خوشی سے ملے وہی اچھی فائدہ ہو اسی سے مطلب رکھ چاند کو چھوڑ چاندنی اچھی غم اٹھانے سے کچھ نہیں ملتا غم نہ چاہو سنو خوشی اچھی آنسوؤں سے لکھا نہیں مٹتا مسکراتے رہو ہنسی اچھی آشیانہ نہ باندھ لینا تم اس جہاں میں مسافری اچھی سوچ لے کچھ نہ کچھ تو پینا ہے اشک اچھے کہ مے کشی اچھی علم ہی جب تباہ کر دے تو علم اچھا کے جاہلی اچھی ہار کر زندگی جئے جانا خیر اس سے تو موت ہی اچھی بول محفوظؔ اس غریبی میں کام اچھا کہ شاعری اچھی
maut achchhi ki zindagi achchhi





