SHAWORDS
Balraj Hairat

Balraj Hairat

Balraj Hairat

Balraj Hairat

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

qarnon puraanaa vaqt ko lalkaartaa huaa

قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوا اک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہوا سلجھا رہا تھا ارض و سما کی وہ گتھیاں سبھی سب کے لیے خود ایک معمہ بنا ہوا شاید نظام شمسی کے سینے کا خواب تھا میں دیکھتا رہا جسے آنکھیں بنا ہوا اب اس کو آفتاب میں ڈھلنے کا حکم دو اک اشک غم ہے نوک مژہ پر کھڑا ہوا خود میں نہ جذب کر لوں کہیں تیری ذات کو سر تا قدم میں ذوق طلب میں رچا ہوا پھر چھا رہا ہے ذہن پر اک سایہ دوستو سب کچھ سمیٹتا ہوا خود پھیلتا ہوا تنہا تمہیں تو مرکز اسرار دل نہ تھے میں بھی وہیں کہیں تھا تمہیں دیکھتا ہوا روحیں نہ جانے کون سی دنیا میں کھو گئیں اک جسم چیختا ہے سڑک پر پڑا ہوا کب تک رہوں ہزار جہاں در جہاں لیے میں درمیاں ازل اور ابد کے کھڑا ہوا امید کوئی حرف و حکایت سے تھی کسے لیکن نگاہ ناز تجھے بھی یہ کیا ہوا آنکھوں میں آ کے جان کھڑی دیکھتی رہی ہاتھوں سے دامن غم دل چھوٹتا ہوا حیرتؔ کہاں تھے دست بہ دل دیکھتے ہوئے بارش میں بھیگتا ہوا شعلہ بنا ہوا

غزل · Ghazal

taslim un aankhon kaa ejaaz-e-masihaai

تسلیم ان آنکھوں کا اعجاز مسیحائی لیکن یہ بتا آخر کس کس نے شفا پائی ویرانۂ حسرت میں تم کیسے چلے آئے ہو جائے نہ پھر برہم مجھ سے مری تنہائی ہر شہر نگاراں کا دستور یہی دیکھا چپ رہئے تو محرومی کچھ کہیے تو رسوائی ملحوظ نظر جب تک آداب رہے غم کے جینے سے بھی شرمائے مرتے بھی حیا آئی تفسیر جنوں حیرتؔ موضوع ہی ایسا تھا دنیا مری باتوں پر مشکل سے یقیں لائی

غزل · Ghazal

kal aasmaan jaise koi sho'la-zaar thaa

کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھا سورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھا اس انجمن میں چھنتی ہماری تو کس کے ساتھ کمزوریوں کا نام وہاں انکسار تھا ہوتا بھلا نہ عرش پہ اس کا دماغ کیوں آخر وہ برگ خشک ہواؤں کا یار تھا ہر چند اس کی آنچ سے روحیں جھلس گئیں جسموں کا لمس پھر بھی بڑا خوشگوار تھا اتنا بھی کوئی شخص نہ تنہا ہو زیست میں سارا جہان رات مرا غم گسار تھا حیرتؔ کچھ اس کا حال ہمیں بھی سنائیے جس بادہ کش کو بادہ پرستی سے عار تھا

غزل · Ghazal

kisi nashshe se beshtar to na thaa

کسی نشے سے بیشتر تو نہ تھا رشتۂ غم بھی معتبر تو نہ تھا میرے انجام انہیں فریب نہ دے کم بصر تھا میں کم نظر تو نہ تھا کم تو پہلے بھی تھے نہ اہل جنوں لیکن اب تک جنوں ہنر تو نہ تھا اپنی ہر خود سپردگی کی قسم میں جہاں تھا وہ میرا گھر تو نہ تھا ہم تھے راہیں تراشنے کے لئے شامل اس فرض میں سفر تو نہ تھا سائے لوگوں کے سر پہ کس نے کیے دور تک ایک بھی شجر تو نہ تھا خاک پر گر کے مٹ گیا آخر اشک پھر اشک تھا گہر تو نہ تھا وادیٔ مرگ کیوں عدم ٹھہری زندگی سے وہاں مفر تو نہ تھا وقت کی بات ہے میاں حیرتؔ دل لگانے میں ایسا ڈر تو نہ تھا

غزل · Ghazal

aankh mein aansu nazar mein dard paidaa kar gayaa

آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیا میرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیا میں نے برساتوں میں جلتے گھر کبھی دیکھے نہ تھے میں اسی باعث ترے غم کو گوارا کر گیا میری کوشش تھی مقدر کو نئی جہتیں ملیں اور اسی کوشش میں خود کو بے سر و پا کر گیا خوش یقینی بھی کھلا دیتی ہے کیسے کیسے گل ایک دن واللہ میں خود پر بھروسا کر گیا بات اصولوں کی نہیں ہے بات کچھ قدروں کی ہے خواب جھوٹے تھے مگر میں ان کو سچا کر گیا بس یہی صورت چھپانے کی انہیں نکلی کہ میں ہر کسی کے سامنے زخموں کو ننگا کر گیا مدتوں میری حیات امید کا محور رہی پھر کوئی شخص آ کے حیرتؔ سب کچھ الٹا کر گیا

غزل · Ghazal

gham-e-nashaat do-'aalam se maavaraa saa lagaa

غم نشاط دو عالم سے ماورا سا لگا وہ جھریوں سے بھرا چہرہ آئنہ سا لگا طلسم لطف و عنایت کا ٹوٹتا سا لگا تمہارا روٹھ کے جانا بڑا بھلا سا لگا وہ کیا ہے کیسے بتائیں بس اس قدر سمجھو کبھی بدن کبھی خوشبو کبھی خلا سا لگا میں جس کا نام پتہ پوچھتا رہا سب سے وہ اجنبی تو مجھی میں چھپا ہوا سا لگا کوئی تو بات یقینا تھی اس کے چہرے میں جسے رگوں کا لہو جھانکتا ہوا سا لگا یہ میرا وہم سہی لیکن ایسا وہم بھی کیا ہر ایک شخص مجھے خود سے کچھ خفا سا لگا جو نام ورد زباں آج تک رہا حیرتؔ وہ نام آج اچانک نیا نیا سا لگا

Similar Poets