
Balwant Singh
Balwant Singh
Balwant Singh
Ghazalغزل
saahib-e-takht hai muqaddar se
صاحب تخت ہے مقدر سے جو نکالا گیا تھا لشکر سے اب بھی ہے وقت لوٹ آؤ تم پانی گزرا نہیں ابھی سر سے عشق ایسا کی موت آنے پر وہ بھی نکلے گا میرے اندر سے زہر کھانا ہی پڑ گیا آخر پیٹ راضی نہیں تھا پتھر سے تم نے اچھا کیا جدا ہو کر اک بلا ٹل گئی مرے سر سے میں بتاتا ہوں کیا بلا ہے عشق عشق اک جنگ ہے مقدر سے دشمنوں کو بھی اس نے دعوت دی چاہنے والے دید کو ترسے
mohabbat ne nahin chhoDaa kahin kaa
محبت نے نہیں چھوڑا کہیں کا وگرنہ میں تھا باشندہ کہیں کا کبھی کہتا نہیں رکنے کو یہ دل اٹھا لایا ہے پھر نقشہ کہیں کا بھٹکتا پھر رہا ہوں در بہ در میں کسی سے پوچھ کر رستا کہیں کا ادھر سے ہم کریں تعریف سچی ادھر سے تم کہو جھوٹا کہیں کا کہاں کر آئے ہم اظہار الفت کہیں پر ہو گیا سجدہ کہیں کا جسے دیکھے کرے پانے کی خواہش یہ دل جیسے ہو شہزادہ کہیں کا مہذب آدمی گھر جا کے اپنے اتارے گا کہیں غصہ کہیں کا
koi kitnaa bhi kahe shaad nahin hotaa hai
کوئی کتنا بھی کہے شاد نہیں ہوتا ہے اک لٹا دل کبھی آباد نہیں ہوتا ہے پیدا ہوتے ہیں فقط عشق کی خاطر دو چار ہر کوئی مجنوں یا فرہاد نہیں ہوتا ہے ہوتا آیا ہے سدا زخم ہی پہلے ایجاد پہلے مرہم کبھی ایجاد نہیں ہوتا ہے زندگی اپنا سبق اور ذرا مشکل کر ہم کو آسان سبق یاد نہیں ہوتا ہے اب ہر اک بات پہ ہوتا ہے فقط وعدہ وعید اب کسی بات پہ سنواد نہیں ہوتا ہے کیسے اس شخص پہ لعنت نہیں بھیجے کوئی عشق کر کے بھی جو برباد نہیں ہوتا ہے ایسے جلاد سے ہے اصل میں خطرہ سب کو اپنے پیشہ سے جو جلاد نہیں ہوتا ہے ہم محبت بھلا کیا خاک کریں گے جانا ہم سے تو کچھ بھی ترے بعد نہیں ہوتا ہے پڑھ لو تاریخ جو اک بار ہوا ملک غلام پھر وہ آسانی سے آزاد نہیں ہوتا ہے
vo jo chaahein hamaaraa haal karein
وہ جو چاہیں ہمارا حال کریں اور ہم عشق کا خیال کریں ہم ہیں اچھے سے دیں جواب ان کو وہ بھی تو سوچ کر سوال کریں آپ باتوں سے ہار جائیں گے آپ اشکوں سے کچھ کمال کریں جو کبھی بھی نہیں رہا ہم میں کیسے اس عشق کو بحال کریں تیرا غم کیوں کریں بہ ظاہر ہم سب کو دکھلا کے کیوں ملال کریں ہم نے تو یوں ہی کہہ دیا تھا بس آپ جو چاہیں میرا حال کریں
laDte hue duniyaa ki zarurat ke liye ham
لڑتے ہوئے دنیا کی ضرورت کے لیے ہم مر جائیں گے اک روز محبت کے لیے ہم رکھے نہیں ہم سے کوئی اخلاص کی امید بازار میں بیٹھے ہیں تجارت کے لیے ہم دولت نہ سیاست نہ قیادت نہ حکومت مجرم ہیں فقط اپنی جہالت کے لیے ہم دنیا کے ہر اک لطف کو ہم چھوڑ دیں واعظ اتنے بھی پریشاں نہیں جنت کے لیے ہم ہندی کی حفاظت کے لیے جیسے تھے رسخانؔ ویسے ہی ہیں اردو کی حفاظت کے لیے ہم ایسے ہی تو تلوار اٹھاتے بھی نہیں ہے مجبور ہوئے ہوں گے بغاوت کے لیے ہم جو حال تھا پہلے وہی ہے حال ابھی بھی کچھ بھی نہیں کر پائے محبت کے لیے ہم
palaT jaane kaa khatra ho agar bilkul kinaare hi
پلٹ جانے کا خطرہ ہو اگر بالکل کنارے ہی شکستہ ناؤ پھر دریا میں کوئی کیوں اتارے ہی وگرنہ فیصلہ منصف ہمارے حق میں جائے گا ہمارا فیصلہ کرنا بنا سوچے وچارے ہی جسے کہتے ہیں سب دنیا یہ وہ بازار ہے جس میں محبت ڈھونڈھنے والے پھریں گے مارے مارے ہی اب اکثر نفرتوں کی آگ ہی اٹھتی ہے دھرتی سے اب اکثر آسماں سے بھی برستے ہیں شرارے ہی ضرورت لب کشائی کی نہیں کچھ خاص ہے اس میں محبت میں زیادہ کام آتے ہیں اشارے ہی دعا جب خاص کوئی مانگنی ہوگی ہمیں اس وقت گریں گے بال پلکوں سے نہ ٹوٹیں گے ستارے ہی محبت کی طرح ہم سے سیاست پیش آتی ہے نہ رکھتی ہے قریب اپنے نہ کرتی ہے کنارے ہی خوشی کا آسرا ہوگا یہاں مشکل سے پل دو پل کٹے گی عمر دنیا میں فقط غم کے سہارے ہی محبت میں نظر تم پر نہیں جائے گی دنیا کی سبھی الزام رکھے جائیں گے سر پر ہمارے ہی کہاں سے لائیں گے اتنا بجھانے کے لیے پانی زمیں پر دکھتے ہیں ہر سو ہمیں جلتے نظارے ہی محبت بیچنے نکلو فقط اس شرط پر بلونتؔ لگیں گے ہاتھ اس بیوپار میں کیول خسارے ہی





