SHAWORDS
Bano Saima

Bano Saima

Bano Saima

Bano Saima

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے یہ نیند کی رانی بھی روٹھی ہوئی لگتی ہے یادوں کا تسلسل ہے گھنگھور جدائی ہے ساون کی طرح یہ بھی چھائی ہوئی لگتی ہے سوجھے نہ مداوا کیوں خود میرے مسیحا کو زخموں کی طرح چاہت رستی ہوئی لگتی ہے آواز یہ کس نے دی پھر یاد یہ کون آیا بے تابئ دل کچھ کچھ سنبھلی ہوئی لگتی ہے گزری ہے گلابوں کو دامن میں خزاں بھر کے ہر شاخ چمن لیکن مہکی ہوئی لگتی ہے بازار محبت کے تاجر ہیں ستم پیشہ اے بانوؔ تری قیمت لگتی ہوئی لگتی ہے

kyuun aankh se surkhi ab chhalki hui lagti hai

غزل · Ghazal

خمیر میرا اٹھا وفا سے وجود میرا فقط حیا سے کچھ اور بوجھل ہوا مرا دل گھٹی ہوئی درد کی فضا سے برس پڑے حسرتوں کے بادل نظر پہ چھائی ہوئی گھٹا سے ہے وحشتوں کا سفر مسلسل بڑھا جنوں ہجر کی سزا سے ہتھیلیوں پر نہ رچ سکی وہ جو نام لکھا ترا حنا سے بنا گئی تم کو اور چنچل جھکی جو میری نظر حیا سے گلوں پہ اک بے خودی سی چھائی چمن میں بہکی ہوئی صبا سے ہے وجد کیوں شاخ گل پہ طاری لپٹ کے جھومی وہ کیوں ہوا سے مہک کی کرنیں چمن میں رقصاں گلاب کی ریشمی قبا سے کلی کو چوما گلوں کو نوچا کسی نے سیماب سی ادا سے ہے تو مسیحا تو کر مداوا ہے سوچ زخمی تری جفا سے وہی ادا بے نیازیوں کی تو کام کب تک نہ لوں انا سے یقین کیسے کروں میں بانوؔ سکون کیا دے سکیں دلاسے

khamir meraa uThaa vafaa se

غزل · Ghazal

خبر ہے کہ آیا گلابوں کا موسم گلوں کے بدن پر ہے کانٹوں کا موسم خدا جانے اس رت میں کیا گل کھلائے گلستاں کا جوبن یہ کلیوں کا موسم لبوں کی شرارت نظر سے اشارت دم وصل کیسا حیاؤں کا موسم یہ دور محبت بھی کیسا عجب ہے ہوں آنکھوں میں باتیں اشاروں کا موسم ہوائے جدائی یہ کیسی چلی پھر غموں کی فضا میں عذابوں کا موسم جو پیاسے ہیں بانوؔ تم ان کو صدا دو کہ صحرا میں اترا ہے چشموں کا موسم

khabar hai ki aayaa gulaabon kaa mausam

غزل · Ghazal

زندگی سے حسیں اداسی ہے یہ مری ہم نشیں اداسی ہے کب سے پندار میں مقید ہے کیسی پردہ نشیں اداسی ہے لحظہ لحظہ اسے کشید کرو کہ مے انگبیں اداسی ہے جرعہ جرعہ پلا مجھے ساقی من ہرن ساتگیں اداسی ہے کعبۂ دل میں ہے جو محو طواف جہاں تاب جبیں اداسی ہے پربتوں وادیوں میں بستی ہے جنگلوں کی مکیں اداسی ہے وہ تہہ آب جل پری سی ہے میری صحرا نشیں اداسی ہے دیکھ کر لا رہی ہے ہستی میں جان جاں جا گزیں اداسی ہے سن عدم سے وجود تک ہر جا خانماں میں مکیں اداسی ہے جادہ و سنگ میل و مسکن میں رہبروں کا یقیں اداسی ہے دیپ بیم و رجا کا جاں گل ہو دیکھنا تم وہیں اداسی ہے ضرب اک خول کی فصیلوں میں حاشیوں کے قریں اداسی ہے جوہر ہست مرزا غالبؔ تھی آج خاک بریں اداسی ہے واں خوشی کی نمو محال سی ہے اس کے دل کی زمیں اداسی ہے

zindagi se hasin udaasi hai

غزل · Ghazal

وہ میرے قلب و روح کو شاداب کر گیا پھر اس طرح گیا مجھے بیتاب کر گیا کاجل بھی نیند کا مری آنکھوں سے لے اڑا خوابوں میں آ کے وہ مجھے بے خواب کر گیا اس نے تو اضطراب کے معنی سجھا دیے ایسی نگاہ کی مجھے بیتاب کر گیا جنس گراں سمجھ کے نہیں دیکھتا کوئی مجھ کو وہ ایک جوہر نایاب کر گیا جوف صدف سمجھ کے پڑی ابر کی نظر تھی سطح آب پر وہ تہہ آب کر گیا باقی رہے نہ بام و دریچے نہ ہی فصیل کیا حال میرے دل کا یہ سیلاب کر گیا ساحر تھا دیوتا تھا کوئی بت تراش تھا پتھر تھی ایک بانوؔ وہ سیماب کر گیا

vo mere qalb-o-ruh ko shaadaab kar gayaa

غزل · Ghazal

چاہا ہے عجب ڈھنگ سے چاہت بھی عجب ہے محبوب عجب ہے یہ محبت بھی عجب ہے پلو مرا تھاما ہے کئی بار خرد نے پر ان دنوں جذبوں کی بغاوت بھی عجب ہے جکڑا ہے تری یاد نے افکار کو میرے ہمدم ترے جذبات میں شدت بھی عجب ہے قربت کے حسیں پھول مری روح پہ وارے کیا خوب سخی ہے یہ سخاوت بھی عجب ہے اک عارض گل پر جما شبنم سا وہ قطرہ کرنوں سے ذرا قبل رفاقت بھی عجب ہے لہجہ ترا دہکا ہوا لگتا ہے غضب کا غصے بھرے لہجے میں حرارت بھی عجب ہے چہرہ ترا تپتا ہوا دکھتا ہے تپش سے مستی بھرے نینوں میں شرارت بھی عجب ہے بازی کبھی ہاری نہیں ظالم نے انا کی چالیں بھی عجب اس کی سیاست بھی عجب ہے خود قید وفا کاٹ کے دی اس کو رہائی بانوؔ یہ ترے دل کی عدالت بھی عجب ہے

chaahaa hai ajab Dhang se chaahat bhi ajab hai

Similar Poets