SHAWORDS
Bartar Madrasi

Bartar Madrasi

Bartar Madrasi

Bartar Madrasi

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

کٹنے کو عمر کٹ گئی پوچھو نہ کیا ملا اپنی خبر نہ مجھ کو نہ اپنا پتا ملا گندم کی فصل ہو نہیں سکتی جوار سے مجھ کو برے عمل کا نتیجہ برا ملا شعلہ ہو یا حباب ہو یا ہو گل چمن کوئی نہ اس جہاں میں ہمیں دیر پا ملا اک ہم ہیں جن کو زندگیٔ مختصر ملی اک خضر پاک ہیں جنہیں آب بقا ملا اچھا سمجھ رہا ہوں ہر اک آدمی کو میں حالانکہ جو ملا وہ برے سے برا ملا غم میں گرا نہ آنکھ سے اشکوں کی قدر کر مٹی میں تو نہ ایسے در بے بہا ملا مجھ پر کھلا جو من عرف نفسہ پڑھا پہچانا جس نے آپ کو اس کو خدا ملا توبہ ہوئی قبول بوقت اخیر بھی باب کرم خدا کا ہمیشہ کھلا ملا جس کو وفا کا پاس ہو جس میں خلوص ہو ایسا نہ کوئی آدمی اس دور کا ملا دے ساغر تہی بھی تو کچھ غم نہیں مجھے آنکھیں اٹھا نظر سے نظر ساقیا ملا اب آرزو رہی نہ کسی اور چیز کی صد شکر ہے کہ مجھ کو در مصطفیٰ ملا کیا کیا ملا نہ باب رسول کریم سے عزت ملی فروغ ملا مدعا ملا خاقان چین و قیصر و کسریٰ کی کیا بساط ان سے سوا رسول کے در کا گدا ملا رفعت میں مرتبے میں بزرگی میں یا نبی بعد خدا نہ ہم کو کوئی آپ سا ملا محشر میں آفتاب کی حدت سے بچ گیا دامان مصطفیٰ کا مجھے آسرا ملا دنیا میں اپنی اپنی پڑی ہے ہر ایک کو برترؔ نہ کوئی بندۂ بے مدعا ملا

kaTne ko 'umr kaT gai puchho na kyaa milaa

1 views

غزل · Ghazal

اس محبت میں کچھ مزا بھی نہیں جس میں رنجش نہیں بلا بھی نہیں چل دئے کیا جہاں سے اہل وفا آج ان کا کہیں پتا بھی نہیں ایسا انسان بھی غنیمت ہے جو بھلا بھی نہیں برا بھی نہیں مجھ سے مل کر وہ چل دئے چپ چاپ کچھ کہا بھی نہیں سنا بھی نہیں اے گلو مسکرائے جاتے ہو تم کو خوف خزاں ذرا بھی نہیں جس نے دنیا میں دوڑ دھوپ نہ کی اس کو دنیا سے کچھ ملا بھی نہیں اپنی اپنی لگی ہے سب کو یہاں ایک کو ایک پوچھتا بھی نہیں

is mohabbat mein kuchh mazaa bhi nahin

1 views

غزل · Ghazal

خیر گزری تری نظر نہ ہوئی میری دنیا تہ و زبر نہ ہوئی راہ تکتے تمام عمر کٹی شام غم کی ابھی سحر نہ ہوئی مجھ کو تڑپا کے خود تڑپتے ہو بیکلی میری بے اثر نہ ہوئی ہنستے ہنستے ہی پی لئے میں نے آنکھ اشک الم سے تر نہ ہوئی کیسے سامان عیش جمع کئے موت سر پر تھی یہ خبر نہ ہوئی لاکھ چاہا کہ ضرب غم سے بچوں کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی موسم گل تو بارہا آیا شاخ دل میری بارور نہ ہوئی خوف تھا قبر کا قیامت کا دل کو تسکین عمر بھر نہ ہوئی لگ گئی عمر خضر کیا اس کو کیوں شب ہجر مختصر نہ ہوئی وہ مزے کیا ہیں جو ادھر نہ اڑے وہ خلش کیا ہے جو ادھر نہ ہوئی اس قرینے سے دے دیا تو نے لینے والے کو کچھ خبر نہ ہوئی ہے خطا دل کو ٹھیس پہنچانی یہ خطا مجھ سے بھول کر نہ ہوئی میں نے دیکھے عیوب اوروں کے حال خود پر مری نظر نہ ہوئی آزمائش قدم قدم پر تھی عشق کی راہ بے خطر نہ ہوئی خوب تھے شعر تو ستائش کی مجھ سے ناقدریٔ ہنر نہ ہوئی کیا گئے ساتھ آفتاب گیا وہ نہ آئے ابھی سحر نہ ہوئی جس طرح کاٹنی تھی اے برترؔ اس طرح زندگی بسر نہ ہوئی

khair guzri tiri nazar na hui

1 views

غزل · Ghazal

مکاں ہے کسی کا سکونت کسی کی مرا دل ہے اور ہے محبت کسی کی جو واقف نہیں خود حقیقت سے اپنی وہ کیا خاک جانے حقیقت کسی کی یہاں ایک محتاج ہے دوسرے کا یہاں ہے کسی کو ضرورت کسی کی ادھر ہم پہ ظلم و ستم ٹوٹتے ہیں ادھر ہے کسی پر عنایت کسی کی جو ہونی ہے وہ ہو کے رہتی ہے اک دن چلی ہے کہاں پیش قسمت کسی کی سبب کیا ہے وہ مہر سے دیکھتے ہیں سمجھتا ہوں آئی ہے شامت کسی کی برے سے برا ہے وہ میری نظر میں جو انسان کرتا ہے غیبت کسی کی خدا نے ہمیں دی ہے ایسی طبیعت کہ دیکھی نہ جاتی ہے آفت کسی کی زباں اپنی قابو میں رکھی نہ جائے تو جاتی ہے عزت کی عزت کسی کی ہزاروں میں دو ایک ایسے بھی ہوں گے کسی کی سی ہوگی شباہت کسی کی نہ جب تک ہو قول و عمل میں تطابق کرے گی اثر کیا نصیحت کسی کی کرو جستجو اپنی منزل ملے گی نہ بے کار جاتی ہے محنت کسی کی یہی ہوتی آئی ہے بزم جہاں میں ہے آمد کسی کی تو رخصت کسی کی نہیں امتیاز بد و نیک مشکل ٹپکتی ہے صورت سے سیرت کسی کی نہ تن ہے ہمارا نہ جاں ہے ہماری یہ سب کچھ ہے برترؔ امانت کسی کی

makaan hai kisi kaa sukunat kisi ki

1 views

غزل · Ghazal

ہوتی ہے حسینوں سے جو جفا عشاق گوارا کرتے ہیں یہ شوق سے قرباں ہوتے ہیں وہ ناز سے مارا کرتے ہیں ہاتھوں میں نہیں شمشیر مگر یہ قتل عالم کیسا ہے جاتی ہیں ہزاروں کی جانیں وہ خود کو سنوارا کرتے ہیں سیکھا ہے گلستاں میں ہم نے کانٹوں سے سبق خودداری کا پھولوں کی طرح شبنم کے لئے دامن نہ پسارا کرتے ہیں دارائی مبارک ہو تم کو ہم مست ہیں اپنی گدڑی میں قطرے پہ قناعت کرتے ہیں دریا سے کنارا کرتے ہیں جب ان سے یہ پوچھا جاتا ہے وحشت ہے کسے اس محفل میں وہ ایک ادا سے میری طرف آنکھوں سے اشارا کرتے ہیں اس میں بھی خدا کی حکمت ہے دنیا میں نہیں جو ہم رنگی کچھ لوگ بہ صحت جیتے ہیں کچھ دکھ میں گزارا کرتے ہیں دولت تھی لگاؤ رکھتے تھے ہے ترک تعلق غربت میں جب دل میں بٹھاتے تھے وہ ہمیں اب دل سے اتارا کرتے ہیں اک دور وہ تھا سب مل جل کر دکھ درد بٹایا کرتے تھے اک دور یہ ہے ہم آپس میں پرخاش گوارا کرتے ہیں دن رات تڑپتا رہتا ہوں ہے میری خبر ان کو برترؔ کرنے کو وہ پردہ کرتے ہیں چھپ چھپ کے نظارا کرتے ہیں

hoti hai hasinon se jo jafaa 'ushshaaq gavaaraa karte hain

1 views

غزل · Ghazal

جب ترا التفات ہو جائے قید غم سے نجات ہو جائے تو پلائے جو اپنے ہاتھوں سے زہر آب حیات ہو جائے جلوۂ رخ سے ہو سحر پیدا زلف بکھرے تو رات ہو جائے غنچۂ دل کھلے جو تجھ کو سنوں مسکراہٹ سے بات ہو جائے دولت حسن ہے حیا بھی کرو یوں ادائے زکوٰۃ ہو جائے تم اگر میرے خواب میں آؤ شب مری شب برات ہو جائے

jab tiraa iltifaat ho jaae

1 views

Similar Poets