
Bilal Saharanpuri
Bilal Saharanpuri
Bilal Saharanpuri
Ghazalغزل
ghaDiyaan ajiib hoti hain kuchh intizaar ki
گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی حالت نہ پوچھیے گا دل بے قرار کی آنکھیں ہر ایک شخص کی رونے لگیں لہو موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی پتھر بھی مجھ کو راہ کے پہچاننے لگے کچھ ایسے خاک چھانی ہے اس کے دیار کی دامن ترا جب اس کو میسر نہ آ سکا عاشق نے تیرے راہ جنوں اختیار کی ہم مر گئے تھے اس سے بچھڑتے ہی اے بلالؔ اب جی رہے ہیں لے کے یہ سانسیں ادھار کی
jo taalluq hai chaman mein phuul kaa khushbu ke saath
جو تعلق ہے چمن میں پھول کا خوشبو کے ساتھ ہے وہی رشتہ مسلماں کا یہاں ہندو کے ساتھ ہے وہی نسبت ہماری سر زمین ہند سے جو ہے نسبت شاعری میں میر کی اردو کے ساتھ عارضی ہے حسن دنیا در حقیقت دوستوں اس لئے ہی امر پالی چل پڑی بھکشو کے ساتھ لڑ رہے تھے جنگ دونوں مختلف انداز میں میں تھا حق کے ساتھ اور وہ قوت بازو کے ساتھ جس طرح سے چاند چمکے بدلیوں کے بیچ میں کس طرح چہرہ تھا روشن طرۂ گیسو کے ساتھ کل جسے میں نے سکھائے تھے الف بے تے بلالؔ بات وہ کرتا ہے مجھ سے آج کل بے تو کے ساتھ
manzilon ki chaah le kar raaston mein qaid hain
منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں جو کئے محسوس میں نے اس کو چھو کر پہلی بار آج بھی وہ ذائقے ان انگلیوں میں قید ہیں خود اٹھانا پڑ رہا ہے بوجھ اپنا آج کل حاشیہ بردار سارے حاشیوں میں قید ہیں
ik brahman ne kahaa hai mere haal-e-zaar par
اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر ہو کے مومن مر رہا ہے کیوں بت پندار پر دیکھ کر بارش کی بوندیں سوچتا رہتا ہوں میں رو رہا ہے آسماں بھی آج ہجر یار پر جانے کتنے عاشقوں کی جان کا دشمن ہے یہ جو حسیں ڈمپل پڑا ہے آپ کے رخسار پر ہے مریض عشق تو محبوب کے پہلو میں جا اس مرض کی تو دوا ملتی نہیں عطار پر یوں لگا اس گل بدن کو آج چھو لینے کے بعد انگلیاں رکھ دی ہوں میں نے جیسے نوک خار پر شعر کب میں نے کہے ہیں خون تھوکا ہے بلالؔ داد تو بنتی ہے صاحب میرے ان اشعار پر
zid pe hai duniyaa to zid pe teraa divaana bhi hai
ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی تیری طرف جانا بھی ہے ٹوٹ کر دل نے ہمارے کل تجھے چاہا بھی تھا ٹوٹ کر دل نے ہمارے آج یہ جانا بھی ہے میر صاحب دیکھیے آ کر ہمارے دور میں اب غزل ہے آئینہ اور آئینہ خانہ بھی ہے دیکھ لے جو بھی انہیں وہ چھوڑ دے پینی شراب یہ تری آنکھیں نہیں ہیں ایک مے خانہ بھی ہے دیکھ لے کیسے منایا ہجر تیرا جان جاں درد دل آنکھوں میں آنسو اور ویرانہ بھی ہے
kuchh nazaakat na ho shokhi na ho andaaz na ho
کچھ نزاکت نہ ہو شوخی نہ ہو انداز نہ ہو حسن وہ حسن کیا جس حسن میں کچھ ناز نہ ہو ظلم کے ساتھ ہے یہ شرط بھی اس ظالم کی آہ نکلے بھی اگر کوئی تو آواز نہ ہو بات جو ہوتی ہے ہونٹوں کو بتا دیتا ہے دل کے جیسا بھی کسی کا کوئی ہم راز نہ ہو میرے صیاد نے یہ سوچ کے پر کاٹ دئے اب قفس میں بھی کہیں حسرت پرواز نہ ہو حسن تو عشق کی شدت سے نکھرتا ہے بلالؔ تاج بیکار ہے جب تک کوئی ممتاز نہ ہو





