
Bismil Aazmi
Bismil Aazmi
Bismil Aazmi
Ghazalغزل
یہی دعا ہے کوئی شام بے سحر نہ رہے سکوت شب میں کوئی آہ بے اثر نہ رہے متاع سیف و قلم بانٹ دو زمانے کو بیان کیفیت دل میں کوئی ڈر نہ رہے جلاؤ تیرہ شبی میں دیے نگاہوں کے اندھیری رات اجالوں سے بے خبر نہ رہے بنا دو دیر و حرم کو ملاپ کا مرکز دعائے شیخ و برہمن میں کچھ اثر نہ رہے ہیں سربراہ جو اب کاروان ملت کے اب ان کے قول زمانے میں معتبر نہ رہے خلوص مہر و مروت سے جو کریں خدمت ہمارے عہد میں اب ایسے چارہ گر نہ رہے چراغ ایسے جلاؤ فسون شب کے لیے وجود تیرہ شبی کی انہیں خبر نہ رہے
yahi du'aa hai koi shaam be-sahar na rahe
جب بھی موضوع سخن اپنے اثر تک پہنچے موڑ دو بات اگر تیر و تبر تک پہنچے تذکرہ جب بھی چھڑا گاؤں کے چوپالوں کا دل کے خوابیدہ خیالات بھی گھر تک پہنچے آدمیت کی ہے اس دور میں معراج یہی اس کی ہر جنبش لب حسن نظر تک پہنچے زندگی ایک نہیں لاکھ امیدوں کا بھرم موت ناکامئ حالات کے در تک پہنچے لوٹ آتا ہے جہاں جا کے خیالوں کا ہجوم شہر بیداد کی اس راہ گزر تک پہنچے بات نکلی جو ترے عہد جوانی کی کبھی حوصلے گاؤں کی خوابیدہ ڈگر تک پہنچے سب تو راہی ہیں اسی راہ گزر کے بسملؔ کس کی جرأت ہے مری گرد سفر تک پہنچے
jab bhi mauzu’-e-sukhan apne asar tak pahunche
بڑھ بڑھ کے بزم ناز سے ساغر اٹھائے جا جوش جنوں میں اور ذرا لڑکھڑائے جا بہکے نہ یوں قدم کہ کوئی رند کہہ سکے اپنی نگاہ ناز سے مجھ کو پلائے جا بادہ کشی کے بعد ہوئیں نعمتیں تمام نقش خیال خام کو دل سے مٹائے جا مایوس ہو گئے ہیں جو اس زندگی سے آج لطف حیات کا انہیں مژدہ سنائے جا تنہائیوں کی بزم میں زندہ دلی کے ساتھ اپنے خیال و خواب کی دنیا بسائے جا چھلکے نہ دست شوق سے صہبائے زندگی اس احتیاط سے مے و مینا لنڈھائے جا عزم و یقیں کے ساتھ سدا بزم ناز میں حسن ستم شعار سے دامن بچائے جا مٹ جائیں زندگی کی سبھی تلخیاں اگر رقص جنوں کے ساتھ کوئی گیت گائے جا
baDh baDh ke bazm-e-naaz se saaghar uThaae jaa
بعد مدت کے یہ احساس ہوا ہو جیسے دل کے صحرا میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے خون آشامی و بربادی کا بازار ہے گرم ہر سو وحشت کا نیا باب کھلا ہو جیسے گردش وقت نے اس طرح سے انگڑائی لی خواب وحشت سے کوئی چونک گیا ہو جیسے اب تو باقی نہ رہا مجرم و منصف کا سوال ایک ہی صف میں ہر اک شخص کھڑا ہو جیسے کون بتلائے گا اب اصل حقیقت کیا ہے چشم بینا پہ بھی پردہ سا پڑا ہو جیسے پوچھ مت مجھ سے مری حالت دل اے بسملؔ دل کے زخموں پہ نیا تیر چلا ہو جیسے
baa'd muddat ke ye ehsaas huaa ho jaise
کارواں آج بھی سرگرم سفر ہے شاید اب بھی پر پیچ کوئی راہ گزر ہے شاید معترف وہ بھی ہیں کل تک جو مخالف تھے مرے یہ مری کاوش و محنت کا ثمر ہے شاید لوگ ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پتھر دوڑے راستے میں کسی دیوانے کا گھر ہے شاید ماں سے وعدہ تھا کہ میں لوٹ کے گھر آؤں گا منتظر آج بھی وہ دیدۂ تر ہے شاید لوگ سہمے ہوئے بیٹھے ہیں مکاں میں اپنے پھر اسی سمت سے طوفاں کا گزر ہے شاید میرے قاتل نے مجھے دیکھ کے پہچان لیا یہ تو اس دور کا اعجاز نظر ہے شاید مل رہا ہے کف افسوس بڑی دیر سے وہ اس کے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا اثر ہے شاید اب بھی ہر شے ہے دھندلکوں کا لبادہ اوڑھے شام آگیں مری دنیا کی سحر ہے شاید نیم بسملؔ سا مجھے کر گئیں جس کی نظریں وہ کوئی اور نہیں رشک قمر ہے شاید
kaarvaan aaj bhi sargarm-e-safar hai shaayad
دل کے گلشن میں چلی باد صبا رات گئے خوب چھائی تری یادوں کی گھٹا رات گئے جذبۂ عشق نے ہر طرح کے بندھن توڑے وہ نبھانے جو چلا رسم وفا رات گئے زخم کھل اٹھتے ہیں جذبات بھڑک اٹھتے ہیں ان کے کوچے سے جو آتی ہے ہوا رات گئے کھل اٹھے غنچۂ نو بوئے سمن جاگ اٹھی جیسے نکلا ہے کوئی ماہ لقا رات گئے آج ماضی کے دریچوں سے ہے جھانکا کس نے زخم دیرینہ میں کیوں درد اٹھا رات گئے پھول مایوسی کے صحرا میں بھی کھل جاتے ہیں جب بھی ہوتا ہے کوئی نغمہ سرا رات گئے
dil ke gulshan mein chali baad-e-sabaa raat gae





