SHAWORDS
Bismil Arifi

Bismil Arifi

Bismil Arifi

Bismil Arifi

poet
31Ghazal

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

مانا کہ سمندر کا کنارہ بھی نہیں ہے پر لوٹ کے جانے کا ارادہ بھی نہیں ہے الفاظ نے سب کھول دئے راز بدن کے ویسے تو کسی نے اسے دیکھا بھی نہیں ہے کیا جائیں ترے شہر میں کس طرح سے جائیں چہرہ تو بڑی بات مکھوٹا بھی نہیں ہے کٹ جائے گی کہتے ہو مگر کیسے کٹے گی وہ رات کہ جس میں کوئی قصہ بھی نہیں ہے آئے ہو جو بازار میں تو دیکھ لو کچھ اور ہر روز نیا چاند نکلتا بھی نہیں ہے کچھ بات یقیناً ہے مرے یار کے من میں اس طرح سے چہرہ تو دمکتا بھی نہیں ہے ہم کھیلنے والے ہیں یہاں کھیل جنوں کا ویسے تو یہ کہنے کو تماشا بھی نہیں ہے

maanaa ki samundar kaa kinaara bhi nahin hai

1 views

غزل · Ghazal

حسن سے جب فریب کھایا ہے کوہساروں سے دل لگایا ہے دور رہ کر بھی پاس رہ کر بھی عشق کو ہم نے آزمایا ہے بے خودی میں پڑھی نماز عشق دل جھکا تھا لو سر جھکایا ہے خامشی بات کر رہی ہے ابھی ایک مدت پہ یار آیا ہے زخم کی بات مت کرو لوگو تحفۂ عشق ہے جو پایا ہے

husn se jab fareb khaayaa hai

1 views

غزل · Ghazal

ابھرنے ڈوبنے کا ماجرا لکھا ہوا ہے ہتھیلی پر ہمارا فیصلہ لکھا ہوا ہے ہم اپنی بد گمانی دور بھی کر لیں گے لیکن ہمارے درمیاں جو فاصلہ لکھا ہوا ہے ٹھہر کر سوچنا آخر کہاں تک چل سکو گے مری آوارگی کو راستہ لکھا ہوا ہے مرے مولا تری دنیا سیاست چاہتی ہے مرے حصے میں کیسا تجربہ لکھا ہوا ہے ابھی رہنے دے میرے شہر جاں اپنے تقاضے ابھی کچھ ربط صحرا سے مرا لکھا ہوا ہے کھنڈر سے اب کوئی آواز آئے یا نہ آئے مگر دیوار پر دیکھو تو کیا لکھا ہوا ہے بھٹکنے کی کوئی صورت نکلتی ہی کہاں ہے جہاں جس سمت جب دیکھو خدا لکھا ہوا ہے

ubharne Dubne kaa maajraa likkhaa huaa hai

1 views

غزل · Ghazal

ہنر سے اپنے کسی کو وہ دنگ کیا کرتے غروب ہو گیا سورج تو جنگ کیا کرتے ہمارے ہاتھ سے موسم پھسل گیا ورنہ تمہیں کہو کہ سلاطین رنگ کیا کرتے ابھر رہا ہے جو نقشہ وہ خوفناک سہی دمک رہی تھی حویلی پتنگ کیا کرتے دکھایا ہاتھ تو پہلو بدل کے بیٹھ گئے لکھا تھا دشت نوردی ملنگ کیا کرتے یہی بہت ہے تباہی کے واسطے اپنی اب اور اس سے زیادہ ترنگ کیا کرتے

hunar se apne kisi ko vo dang kyaa karte

1 views

غزل · Ghazal

خیر میں ہو نہ سکے شر میں تو شامل ہو جاؤ کچھ نہ کچھ میری محبت کے تو قابل ہو جاؤ میں تو بس تیری خوشی تیری رضا چاہتا ہوں فکر میری نہ کرو اور کو حاصل ہو جاؤ ویسے منجدھار میں اب مجھ کو سکوں ملنے لگا پھر بھی چاہو تو مرے واسطے ساحل ہو جاؤ کچھ نہ کچھ دیکھنا تدبیر نکل آئے گی اپنے پہلو میں بٹھانے کے تو قائل ہو جاؤ لطف بڑھ جائے گا انداز بدل کر دیکھو اب جو مقتل میں رہو موت سے غافل ہو جاؤ دوستی ہو کہ عداوت ہو کوئی حرج نہیں شرط یہ ہے کہ ذرا پہلے مقابل ہو جاؤ میں نے کب روک کے رکھا تمہیں جان بسملؔ ذہن و دل کیا ہے مری روح میں داخل ہو جاؤ

khair mein ho na sake shar mein to shaamil ho jaao

1 views

غزل · Ghazal

قبول عام ہوا ہوں تو صف میں رکھا ہے ہوا نے نام مرا سر بکف میں رکھا ہے گہر شناس نے بھی مصلحت سے کام لیا یقیں کا نور تو کب سے صدف میں رکھا ہے کہاں خیال کیا معتبر حوالوں کا کہاں کسی نے نوا کو شرف میں رکھا ہے ترے خلاف کوئی بات ہو گئی تو کیا ضمیر نے مرے مجھ کو ہدف میں رکھا ہے

qubul-e-'aam huaa huun to saf mein rakkhaa hai

1 views

Similar Poets