SHAWORDS
Bismil Dehlavi

Bismil Dehlavi

Bismil Dehlavi

Bismil Dehlavi

poet
1Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

ساقی رخ حیات سے پردہ اٹھا دیا جام سفال میں یہ مجھے کیا پلا دیا بسملؔ ہی تھا جو وقت اجل مسکرا دیا دنیا کو اس کی موت نے جینا سکھا دیا اک سوز ناتمام اک اندوہ بے ثبات اے رحمت تمام بتا مجھ کو کیا دیا ہم نے نہیں تو کس نے نظر کو زبان دی حال زبوں کہا نہ گیا اور سنا دیا وہ خود شراب لے کے بڑھیں خود کہیں کہ پی بے صبر تو نے کس لیے ساغر بڑھا دیا ساقی تری ادا کی قسم چوک ہو گئی دیکھا جو التفات تو ساغر بڑھا دیا ہم سے کسی کے عشق میں یہ تو نہیں ہوا ہر آستاں پہ سجدہ کیا سر جھکا دیا بسملؔ کی موت کا جو کوئی لے گیا پیام منہ سے تو کچھ وہ کہہ نہ سکے سر جھکا دیا

saaqi rukh-e-hayaat se parda uThaa diyaa

غزل · Ghazal

درد فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے ہائے یہ بھی مری عادت سی ہوئی جاتی ہے اف دم نزع بھر آئی ہیں یہ کس کی آنکھیں مجھ کو جینے کی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے رشک کی یہ خرد آشوبیاں اللہ اللہ اپنے سایہ سے بھی وحشت سی ہوئی جاتی ہے حسن آمادۂ تکمیل جفا ہے اے دوست پھر مجھے اپنی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے جور پیہم میں ذرا جدتیں پیدا کیجے لذت غم مری عادت سی ہوئی جاتی ہے باعث سہو دو عالم تھی کبھی بادہ کشی اور یہ اب تو عبادت سی ہوئی جاتی ہے جب سے سمجھا ہوں میں تخلیق کا مقصد بسملؔ ذرے ذرے سے محبت سی ہوئی جاتی ہے

dard-e-furqat se qaraabat si hui jaati hai

غزل · Ghazal

جانتا ہوں کہ سکوں قسمت انساں میں نہیں میں تمہیں اپنا بنا لوں مرے امکاں میں نہیں فکر گلچیں غم صیاد اور اندیشۂ برق جو سکوں مجھ کو قفس میں ہے گلستاں میں نہیں میں وہ برباد ازل ہوں کہ نشیمن تو کیا میری تقدیر کے تنکے بھی گلستاں میں نہیں کیوں کھٹکتی ہے زمانہ کو کسی کی لغزش داغ لالے میں نہیں یا مہ تاباں میں نہیں جس کی تعمیر میں احساس شکست گل ہو میری وحشت کا علاج ایسے گلستاں میں نہیں سجدے کرتا ہوں بہ انداز جنوں رو رو کر حسب معمول عبادت مرے ایماں میں نہیں کج روی مصلحت حسن ہے ورنہ بسملؔ ان میں جو بات ہے وہ بات ہر انساں میں نہیں

jaantaa huun ki sukun qismat-e-insaan mein nahin

غزل · Ghazal

یہ بھی نہیں امید کہ بیداد کرو گے تم ایسے کہاں ہو کہ مجھے یاد کرو گے کیا میرے لئے غیر کو ناشاد کرو گے تم یوں بھی ستم ڈھاؤ گے بیداد کرو گے دو چار گھڑی اور ہے دنیا میں بسیرا اب ظلم کرو گے اگر آزاد کرو گے یہ ہجر نہ جانے مجھے کیا وقت دکھائے اور تم کسی بد بخت کو کیوں یاد کرو گے تقدیر کے مارے کو ستانا نہیں اچھا برباد کو تم اور کیا برباد کرو گے میں خوب سمجھتا ہوں تمہاری یہ شرارت ناشاد کرو گے تم اگر شاد کرو گے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا تو بتا دو تقدیر کے مارے کو کبھی یاد کرو گے تاثیر سے خالی نہیں بسملؔ کا تڑپنا یہ یاد رہے تم کو کہ تم یاد کرو گے

ye bhi nahin ummid ki bedaad karoge

غزل · Ghazal

وہ ہر طوفاں جو ہم آغوش ساحل ہوتا جاتا ہے حصول گوہر تاباں میں حائل ہوتا جاتا ہے مرا ذوق تجسس کامگار و کامراں ہوگا دراز اب کس لئے دامان ساحل ہوتا جاتا ہے جو عقدہ کوشش پیہم سے آساں کرتا جاتا ہوں وہ عقدہ اور مشکل اور مشکل ہوتا جاتا ہے نہ جانے کس طرح کس واسطے کس دل سے پیتا ہوں زمانہ ہے کہ صرف وہم باطل ہوتا جاتا ہے خدا جانے مجھے وہ دیکھتے ہیں کن اداؤں سے کہ غم آہستہ آہستہ مرا دل ہوتا جاتا ہے ترے ہونٹوں سے ساقی جس قدر میں پیتا جاتا ہوں جوانی کا مجھے احساس کامل ہوتا جاتا ہے کہاں تک شکوۂ بے مہریٔ احباب اے ہمدم زمانہ درپئے آزار بسملؔ ہوتا جاتا ہے

vo har tufaan jo ham-aaghosh-e-saahil hotaa jaataa hai

غزل · Ghazal

میں اس گلستاں کی پتی پتی خزاں کے پنجوں میں دیکھتا ہوں کہاں اکٹھے کئے ہیں تنکے کہاں نشیمن بنا رہا ہوں حقیقت کائنات کیا ہے سمجھ چکا ہوں سمجھ گیا ہوں ابھی سے کافر بدل گئی ہے ابھی تو ساغر اٹھا رہا ہوں خدا کی یہ زر پرست دنیا مرادف چشم تنگ دل ہے یہ اہتمام شراب رنگیں اک اور دنیا بنا رہا ہوں یہ برکت بے خودیٔ کامل ارے خدا کی پناہ ساقی شراب کا ایک جرعہ پی کر تمام عالم پہ چھا گیا ہوں بہ اعتبار نگاہ بخشش تباہ جام شراب ہوں میں مجھے سمجھنا نہیں ہے آساں میں ظل رحمت میں آ گیا ہوں مرا تصور اسیر صہبا مرا تخیل رہین ساغر میں سوئے کعبہ بھی گر چلا ہوں تو لڑکھڑاتا ہوا چلا ہوں میں سر بہ سجدہ ہوں ان کے در پر وہ ہچکچا کر اٹھا رہے ہیں یہ میری لغزش حسین لغزش شراب پی کر کہاں گرا ہوں میں ایک دریائے بے کراں ہوں مگر بہ چشم عتاب ساقی اسیر زندان جسم ہو کر حد تعین میں آ گیا ہوں ذرا خبر تو ہو میکشوں کو ہے کتنا ظرف نگاہ رحمت پیالہ منہ سے لگا کے بسملؔ میں آج سوئے حرم چلا ہوں

main is gulistaan ki patti patti khizaan ke panjon mein dekhtaa huun

Similar Poets