
Chand Akbarabadi
Chand Akbarabadi
Chand Akbarabadi
Ghazalغزل
kabhi gunaahon ki mutlaq kafan utaar ke aa
کبھی گناہوں کی مطلق کفن اتار کے آ تو اجلی روح سے میلا بدن اتار کے آ جو میرے وصل کا احساس تجھ پہ طاری ہے کسی کے لمس کی ساری چھون اتار کے آ نئی حیات کے کپڑے لیے ہے موت کھڑی پرانا زندگی کا پیرہن اتار کے آ نظر میں شرم حیا کا بھی پاس باقی رہے نظر کی شوخیوں کو گل بدن اتار کے آ نئی بہار نے پیغام یہ ہوا کو دیا گلوں کے تن سے خزاں کا کفن اتار کے آ ہمیشہ اڑتے ہیں طائر ترے تصور کے کبھی تو ذہن سے فکر سخن اتار کے آ
javaab chikh uThe hain savaal chikh uThe
جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے کہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھے دکھا یہ خواب کہ کل رات مر گیا ہوں میں گناہ جتنے تھے سب حسب حال چیخ اٹھے کہیں امام کہیں مقتدی ملے جاہل اذانیں سن کے ہماری بلال چیخ اٹھے پھسل گئی مری مٹھی سے زندگی کی ریت گھڑی سے ہارے جو لمحے تو سال چیخ اٹھے بنا کے اپنی ہی تصویر خود پشیماں ہوں جو رنگ میں نے بھرے سبز لال چیخ اٹھے
jo thi ilaaqe mein sab se hasin bech aae
جو تھی علاقے میں سب سے حسین بیچ آئے ہم اپنے پرکھوں کی ساری زمین بیچ آئے پرانے لوگوں نے گنجوں کو کنگھیاں بیچیں نئے جو لوگ ہیں سانپوں کو بین بیچ آئے بھرم تھا دل میں جو محفل کا وہ بھی دل سے گیا سخن تو بکتا تھا تم سامعین بیچ آئے نہیں یہ غم کہ امانت میں کیوں خیانت کی مجھے یہ دکھ ہے وہ اپنا یقین بیچ آئے جو لوگ کھاتے ہیں اردو کے نام کی روٹی لبوں پہ ان کے ہے بس سین شین بیچ آئے پکڑ لی زنگ میں لپٹی ہوئی نئی تہذیب ملا تھا ہم کو جو سونے سا دین بیچ آئے
saraab-e-sahraa mein paani talaash kartaa hai
سراب صحرا میں پانی تلاش کرتا ہے وہ دلدلوں میں روانی تلاش کرتا ہے ہر ایک ذرے سے پہچان رب کی ہوتی ہے وہ پھر بھی اس کی نشانی تلاش کرتا ہے اسے یقین ہے اپنے خدا کی رحمت پر جو تپتے صحرا میں پانی تلاش کرتا ہے کتاب دل کو سمجھنا محال ہے اس کا وہ چہرا چہرا معانی تلاش کرتا ہے نئے غموں کے اندھیروں سے جنگ ہے اس کی بجھے دیوں کی جوانی تلاش کرتا ہے ہوں راجہ رانی, ہوں لشکر, ہوں ہاتھی گھوڑے سب وہ ہر کہانی میں نانی تلاش کرتا ہے بہت شریف ہے تو چاندؔ جا کے سنسد میں کبیرؔ داس کی وانی تلاش کرتا ہے
ik havaa aisi chali bagule bhi kaale ho gae
اک ہوا ایسی چلی بگلے بھی کالے ہو گئے چاند کو سردی لگی سورج کو چھالے ہو گئے مذہبی آتش نے بچپن کی جلا دی دوستی ہم بھی کعبہ بن گئے تم بھی شوالے ہو گئے حوصلہ چھونے کا تھا بچپن میں تجھ کو آسماں برسوں تیری سمت اک پتھر اچھالے ہو گئے ہجر کی دولت نے مالا مال مجھ کو کر دیا بال چاندی کے ہوئے سونے کے چھالے ہو گئے ایرے غیرے نتھو خیرے پڑھ رہے ہیں چہرے اب چہرے چہرے نہ ہوئے گویا رسالے ہو گئے داغ سورج کی حکومت پر بھی کچھ تو لگ گیا کچھ اجالے جب اندھیروں کے نوالے ہو گئے آئنوں پر پتھروں کے قتل کا الزام کیوں آئنے آئینے نہ ہوں جیسے بھالے ہو گئے دیکھ لیتے تم بھی اپنے اس زمیں کے چاندؔ کو اتنی جلدی آسماں کے کیوں حوالے ہو گئے
khasta shikasta jism mein dhaDkan liye hue
خستہ شکستہ جسم میں دھڑکن لئے ہوئے پھرتا ہوں اپنی روح کی کترن لئے ہوئے امید ہارے رات میں مزدور سو گئے جاگے ضرورتوں کی وہ الجھن لئے ہوئے گلشن تلک میں زہر تعصب کا گھل گیا کل پھول بھی ملا تھا مجھے گن لئے ہوئے اترا جو میرے دل سے نظر سے اتر گیا ملتا ہے مجھ سے اب بھی وہ اترن لئے ہوئے آئی ہے رقص کرتی ہوا میرے دوار پر ساون کے گیت گھنگھرو کی چھن چھن لئے ہوئے





