
Chand Kakralvi
Chand Kakralvi
Chand Kakralvi
Ghazalغزل
سفر کیسا یہ کرنا پڑ رہا ہے شراروں سے گزرنا پڑ رہا ہے فضائیں تو معطر ہو رہی ہیں گلابوں کو بکھرنا پڑ رہا ہے کسی کو زندگی دینے کی خاطر ہمیں ہر روز مرنا پڑ رہا ہے بدن میں ہیں ہزاروں زخم پھر بھی سمندر میں اترنا پڑ رہا ہے جہاں چلتے ہوئے جلتے ہیں تلوے وہاں ہم کو ٹھہرنا پڑ رہا ہے شکم سے باندھ کر شاعر کے پتھر غزل کا پیٹ بھرنا پڑ رہا ہے
safar kaisaa ye karnaa paD rahaa hai
1 views
ہم نے تو اس سے بھی نبھا لی ہے دل محبت سے جس کا خالی ہے اب تو آ جا اے دھوپ کھڑکی پر برف آنکھوں میں جمنے والی ہے چھاؤں بھی اب سکوں نہیں دیتی جسم نے اتنی دھوپ کھا لی ہے کچھ بنانے کی پھر ضرورت کیا اس کی تصویر جب بنا لی ہے ختم جھگڑا نہیں ہوا گھر کا جب کہ دیوار بھی اٹھا لی ہے جس پہ چاہت کے پھول کھلتے تھے تم نے وہ شاخ کاٹ ڈالی ہے
ham ne to us se bhi nibhaa li hai
1 views
ہوتا ہے مرے حال کا چرچا مرے آگے بنتا ہے مرا روز تماشا مرے آگے افسوس مری آنکھ میں آنسو بھی نہیں تھے دم توڑ رہا تھا کوئی پیاسا مرے آگے اتنا بھی اجالے نہ کریں میرا تعاقب آ جائے مرے جسم کا سایہ مرے آگے یہ دور گذشتہ میں تھا رفتار کا عالم منزل مرے پیچھے رہی رستہ مرے آگے اس وقت میں خود لاش ہوں خود نوحہ سرا ہوں رکھا ہے مرا اپنا جنازہ مرے آگے ناکامئ قسمت کی شروعات ہوئی ہے آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے
hotaa hai mire haal kaa charchaa mire aage
1 views
تپش کیوں بڑھ رہی ہے راستوں کی قضا آنے کو ہے کیا آبلوں کی ہمارے ہاتھ ہیرا ہو گئے ہیں گھسائی کرتے کرتے پتھروں کی ہوا کے ساتھ چلنا پڑ رہا ہے بڑی مجبوریاں ہیں بادلوں کی جہاں تک ساتھ لے جائیں ہوائیں وہیں تک زندگی ہے خوشبوؤں کی یقیناً پھول کوئی کھل گیا ہے نہیں تو بھیڑ کیوں ہے تتلیوں کی اسی کے سامنے روؤں گا جا کر جو قیمت جانتا ہے آنسوؤں کی ہٹا کر چاندؔ نے چہرے سے پردہ زبانیں کاٹ دیں تاریکیوں کی
tapish kyon baDh rahi hai raaston ki
1 views
ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تک ہو گئے مٹی سنہرے خواب تک چال تو دریا کی ہم نے روک دی آ گئی نوبت مگر سیلاب تک بادلوں کی مہربانی ہو گئی ورنہ کیا آتی ندی تالاب تک اس زمیں کی آبیاری کیسے ہو کم ہے جس کی پیاس کو سیلاب تک دکھ تو یہ ہے کوڑیوں میں بک گئے کچھ گھروں کے گوہر نایاب تک خیر ہو مولا سیاست آ گئی مسجدوں کے منبر و محراب تک حوصلہ تنکے کا وہ بھی دیکھ لے لے چلو موجو مجھے گرداب تک
haath pahunche bhi na the mahtaab tak
لگا ہے روگ کوئی تو جڑوں میں اداسی کیوں ہے ورنہ ٹہنیوں میں بھلے ہی برف کی چادر اڑھا دو جلن پھر بھی رہے گی آبلوں میں ہوس کی انگلیوں پر آ گئے ہیں تھے جتنے رنگ تتلی کے پروں میں بہت نقصان کر دیتا ہے پانی ٹھہر جائے اگر کچے گھروں میں تسلی مل گئی پیاسی زمیں کو ہوا ٹکراؤ جب بھی بادلوں میں ترے نقش قدم کو چھوڑ کر ہم الجھ کر رہ گئے ہیں راستوں میں
lagaa hai rog koi to jaDon mein





