SHAWORDS
Chander Wahid

Chander Wahid

Chander Wahid

Chander Wahid

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

احساس پہ بوجھل کچھ صدمات کا قصہ ہے غم صرف تخیل کے لمحات کا قصہ ہے شاید میں نہیں کچھ بھی شاید میں بہت کچھ ہوں کیا جانے مرا جیون کس بات کا قصہ ہے آیا ہوں کہاں سے میں جانا ہے کہاں آخر ہر شعر مرا ان ہی فکرات کا قصہ ہے کھوئی ہوئی منزل کے ہم بھٹکے مسافر ہیں کچھ اور نہیں دنیا بے بات کا قصہ ہے چل دینا سحر ہوتے سو جانا کہیں تھک کر ہم جیسے فقیروں کے دن رات کا قصہ ہے

ehsaas pe bojhal kuchh sadmaat kaa qissa hai

غزل · Ghazal

صورت اتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی کہہ دو کہ بات جھوٹ ہے ان کے شباب کی شام وصال سیج پہ شرمائے جوں دلہن شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گلاب کی پتھر اچھال دیجئے یوں دل کی جھیل میں ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی منزل قریب آئی تو بھٹکا دیا گیا ان رہبروں نے زندگی میری خراب کی حالات نے بگاڑ دی واحدؔ کی شکل یوں جیسے خراب جلد ہو اچھی کتاب کی

surat utar na jaae kahin maahtaab ki

غزل · Ghazal

دن ڈھلا بڑھنے لگیں پرچھائیاں پھر وہی غم پھر وہی تنہائیاں جھلملائے جیسے لہروں پر کرن آس لیتی دل میں یوں انگڑائیاں پاؤں کی پازیب کے گھنگھرو تھے اشک ٹوٹنے پر بج اٹھیں شہنائیاں جب نگر کی دھوپ میں جلنا پڑا یاد آئیں گاؤں کی امرائیاں اب بھلا تنہا کہاں میں رہ گیا ساتھ ہیں میرے مری رسوائیاں

din Dhalaa baDhne lagin parchhaaiyaan

غزل · Ghazal

میری راہوں میں ترے نقش قدم رہنے دے مجھ پہ للہ محض اتنا کرم رہنے دے ٹوٹے دیپک کو ہٹا مت تو مرے آگے سے میری نظروں کو اجالے کا بھرم رہنے دے عکس اپنا کوئی دیکھے ہے مرے اشکوں میں اور کچھ دیر مری آنکھوں کو نم رہنے دے شاعر وقت حقیقت میں وہی ہوتا ہے اپنے شعروں میں جو دشواریاں کم رہنے دے وہ نہ بھولے سے بھی دیکھیں گے تجھے اے واحدؔ ان کی نظروں سے یہ امید کرم رہنے دے

meri raahon mein tire naqsh-e-qadam rahne de

غزل · Ghazal

مجھ پہ مضراب تو ہے ساز کہاں سے لاؤں دل میں گھر کرنے کے انداز کہاں سے لاؤں میرے گیتوں میں بھی پر کیف کشش ہے لیکن ہو اثر جس میں وہ آواز کہاں سے لاؤں میری ہر بات بتا دیتی ہیں میری آنکھیں جو رہے دل میں ہی وہ راز کہاں سے لاؤں انتہا ہے تو کوئی ابتدا لازم ہوگی اپنے انجام کا آغاز کہاں سے لاؤں میرے سینے میں بھی اڑنے کی للک ہے لیکن توڑ دے پنجرا وہ پرواز کہاں سے لاؤں

mujh pe mizraab to hai saaz kahaan se laaun

غزل · Ghazal

اب تو خوابوں کے ہی سہارے ہیں یہ ہی لے دے کے اب ہمارے ہیں اپنا سایہ تلک نہ تھا اپنا ہم نے ایسے بھی دن گزارے ہیں خود کو خوابوں کے مول بیچا ہے قرض یادوں کے تب اتارے ہیں اپنا کہنے کو یوں تو دنیا ہے ہم ازل سے ہی بے سہارے ہیں درد کی چھاؤں میں چلو واحدؔ تپتے موسم کے یہ اشارے ہیں

ab to khvaabon ke hi sahaare hain

Similar Poets