SHAWORDS
D. Raj Kanwal

D. Raj Kanwal

D. Raj Kanwal

D. Raj Kanwal

poet
27Ghazal

Ghazalغزل

See all 27
غزل · Ghazal

بارہا جذبات کی موجوں میں بہہ جاتے ہیں لوگ چوٹ کتنی بھی کڑی ہو دل پہ سہہ جاتے ہیں لوگ منزلوں کا عمر بھر ملتا نہیں ان کو نشاں کارواں سے اس قدر پیچھے بھی رہ جاتے ہیں لوگ وقت سے ٹکرا کے زندہ رہ نہیں سکتا کوئی وقت کی آنکھوں سے آنسو بن کے بہہ جاتے ہیں لوگ اک معمہ ہی رہا یہ اہل دنیا کے لئے چھوڑ کر دنیا کو آخر کس جگہ جاتے ہیں لوگ ہم نہیں کرتے گلہ شکوہ کسی سے اے کنولؔ گھوم پھر کر بات لیکن دل کی کہہ جاتے ہیں لوگ

baarhaa jazbaat ki maujon mein bah jaate hain log

1 views

غزل · Ghazal

نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھا اپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھا سب کھڑکیاں تھیں بند کوئی در کھلا نہ تھا جاتے کہاں کہ خود سے پرے راستہ نہ تھا کیا جانے کس خیال سے چپ ہو کے رہ گیا ایسا نہیں کہ غم مجھے پہچانتا نہ تھا ہونٹوں کے پاس آ نہ سکا جام عمر بھر حالانکہ فاصلہ یہ کوئی فاصلہ نہ تھا وہ جس نے زندگی کا مری رخ بدل دیا وہ آپ تھے حضور کوئی دوسرا نہ تھا پوچھی کسی نے راہ تو چپ ہو کے رہ گئے کہتے بھی کیا کہ خود ہمیں اپنا پتہ نہ تھا اب کے کچھ اس طرح سے بھی آئی کنولؔ بہار سارے چمن میں ایک بھی پتہ ہرا نہ تھا

nazron ke gird yuun to koi daaera na thaa

غزل · Ghazal

کہنے کو ہر قدم پہ اجالوں کا جال ہے پھر بھی وہ تیرگی ہے کہ چلنا محال ہے دل کا معاملہ نہ جگر کا سوال ہے دور جنوں میں جان کا بچنا محال ہے وہ آئنہ بھی دیکھتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ کہتے بھی جا رہے ہیں کہ واللہ کمال ہے مائل بہ التفات انہیں پا رہا ہوں میں اس میں بھی لگ رہا ہے زمانے کی چال ہے جس کا جواب دے نہ سکی موت کی نمی یہ زندگی وہ ایک سلگتا سوال ہے اب رہبروں کے بس کی کہاں رہ گئی ہے بات منزل سے پوچھ لیں گے ترا کیا خیال ہے قائم ہمارے دم سے کنولؔ ہے وقار عشق ہر شے کو اس جہاں میں وگرنہ زوال ہے

kahne ko har qadam pe ujaalon kaa jaal hai

غزل · Ghazal

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ کہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغ ہر ایک سمت اندھیرا ہے ہو کا عالم ہے جلاؤ خوب جلاؤ ندیم جم کے چراغ جہاں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب خوشی کی کرن کہا تھا کس نے جلاؤ حضور غم کے چراغ وفا کا ایک ہی جھونکا نہ سہہ سکے ظالم تری طرح ہی یہ نکلے تیری قسم کے چراغ بجھا دئیے ہیں وہیں گردش زمانہ نے جلائے جس نے جہاں بھی کہیں ستم کے چراغ انہیں سے ملتی رہی منزلوں کی لو مجھ کو بہت ہی کام کے نکلے رہ عدم کے چراغ کنولؔ انہیں سے ملے روشنی کہیں شاید جلا رہا ہوں یہی سوچ کر قلم کے چراغ

yunhi jalaae chalo dosto bharam ke charaagh

غزل · Ghazal

نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میں رقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میں تھک گئیں ڈھونڈھ کے جب آپ کو میری نظریں مل گئے آپ خیالات کے آئینے میں جب بھی مانگا ہے کبھی اپنی وفاؤں کا صلہ ان کو پایا ہے سوالات کے آئینے میں یاد مہکی جو تری رات کی رانی بن کر کھل اٹھے پھول سے جذبات کے آئینے میں آ گرا وقت کے پانی میں کہاں سے کنکر ایک ہلچل سی ہے حالات کے آئینے میں دیکھ لیتا ہوں میں ہر روز ہزاروں چہرے اپنے گزرے ہوئے لمحات کے آئینے میں کیا ہوا شام دھواں بن کے جو آئی ہے کنولؔ چاند ابھرے گا ابھی رات کے آئینے میں

nuur hi nuur hai zulmaat ke aaine mein

غزل · Ghazal

نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہے بلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہے ہے دفن اس میں ہر اک زندگی کا افسانہ ہر ایک چہرہ مکمل کتاب ہوتا ہے کسی کی یاد میں گزرا ہوا ہر اک لمحہ بہت حسین بہت لاجواب ہوتا ہے کسی کا نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا گل گلاب ہمیشہ گلاب ہوتا ہے وفا میں جان بھی جائے تو غم نہ کر اے دل وفا کی راہ میں مٹنا ثواب ہوتا ہے مرے سلام محبت پہ آپ چپ کیوں ہیں ہر اک سوال کا کچھ تو جواب ہوتا ہے جنہیں نصیب ہوئی ہے کنولؔ شب ہجراں انہیں خبر ہے کہ کیا اضطراب ہوتا ہے

nafas nafas mein nihaan iztiraab hotaa hai

Similar Poets