SHAWORDS
Dakhlan Bhopali

Dakhlan Bhopali

Dakhlan Bhopali

Dakhlan Bhopali

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

غزل کہیں تو وہی داستان نکلے گی ہر ایک شعر میں آہ و فغاں نکلے گی سفر کی مشکلیں رونے کا فائدہ کیا ہے کہ جاتے جاتے ہی میری تھکان نکلے گی جبیں کے نیچے دو کشتی میں باندھ لی ہے ندی ضرور لے گی یہ اک دن اپھان نکلے گی یہ سارے طنز یہ طعنے یہ رشتے ناطے سب کہاں چھپیں گے جو میری زبان نکلے گی وہ جس نے خود پہ روایت کا رکھ لیا ہے قفس وہ ایک لڑکی میرا آسمان نکلے گی میں چند لمحے اگر زیست سے ہٹا دوں تو یہ میری زندگی بس خاکدان نکلے گی یہ ضبط صبر تبسم ہوئے ہیں چاک سبھی میں سخت جان ہوں لیکن یہ جان نکلے گی

ghazal kahein to vahi daastaan niklegi

غزل · Ghazal

رشک اس بات پہ مر جاتا ہے کم سے کم ملنے تو وہ آتا ہے جانے کس طور جھیلے گا مجھ کو جی تو اس بات سے گھبراتا ہے چشم کے قفل کھلے رہنے لگے خواب بھی آنے میں شرماتا ہے چاشنی چاشنی لہجہ جس کا آج کل تلخیاں فرماتا ہے ہجر سے آس تو ہے برکت کی عشق آتا ہے چلا جاتا ہے

rashk is baat pe mar jaataa hai

غزل · Ghazal

فیض سمجھے تھے جسے تھا وہ زیاں حیرت ہے یہ محبت ہی مرے دل کو گراں حیرت ہے گزرے لمحات کا آنکھوں میں پگھلنا حیرت اف تری یاد کی یہ طرز بیاں حیرت ہے ایک راجا نے اتاری تھی زمیں پر گنگا اک ندی دکھ میں ہے آنکھوں سے رواں حیرت ہے ہم جسے دنیا سمجھ بیٹھے تھے اک مدت سے شخص نکلا وہ فقط ایک گماں حیرت ہے ایک لڑکی جو میرے حافظے سے غائب تھی آج پھر سینے میں ہے رقص کناں حیرت ہے

faiz samjhe the jise thaa vo ziyaan hairat hai

غزل · Ghazal

ہماری روح کو چھوکر گزر گیا ہے ابھی وہ ایک لمحہ نہ جانے کدھر گیا ہے ابھی کہ دور عشق میں اس کا بھی ایک جسم تو تھا مجھے ہے شک وہ فضا میں بکھر گیا ہے ابھی خزانے ڈھونڈھتا ہے وہ اگر تو لے جائے ہماری آنکھ سے ضائع گہر گیا ہے ابھی جبیں پہ لہریں تھیں بھیتر بدن میں طوفاں تھا خدا کا شکر ہے دریا اتر گیا ہے ابھی تمام عمر دئے میں نے وقت کو طعنے ابھی سکون ہے تھوڑا سدھر گیا ہے ابھی

hamaari ruuh ko chhukar guzar gayaa hai abhi

غزل · Ghazal

وہ بس رسہ کشی تھی محبت تھک چکی تھی دو کشتی میں ندی تھی زمیں ویران سی تھی اچانک کیا گھٹا تھا مجھے حیرانگی تھی نظر بھر اس نے دیکھا میں سمجھا پارکھی تھی کیا سونے کو مٹی غضب کوزہ گری تھی بچاتا کون ہم کو جبیں پر شل لکھی تھی ہمیں جس نے ڈبویا ہماری سادگی تھی مسافت ختم تھی پر تھکن زندہ کھڑی تھی ہوا زہریلی تھی پر بدن میں چل رہی تھی جسے سمجھے تھے جینا فقط وہ خودکشی تھی میں بس تھا نیم بسمل محبت مر چکی تھی

vo bas rassa-kashi thi

غزل · Ghazal

ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیں جہان عشق کی اندھی گلی سے نکلے ہیں کسی سے کہتے تو الزام اپنے سر آتا یہ حادثہ تھا سو ہم خامشی سے نکلے ہیں ہمیں یقین نہیں ہے کسی دکھاوے میں سو سمت ہجر میں ہم سادگی سے نکلے ہیں نہیں ہے قید کسی دائرے میں اپنی ذات جہاں بھی نکلے ہیں آوارگی سے نکلے ہیں ہماری آنکھ میں تنکا پڑا ہے آندھی سے کہو نہ اشک یہ بے چارگی سے نکلے ہیں ہمیں بنائے جو شاعر نہیں بنا وہ غم ہمارے شعر تو ناراضگی سے نکلے ہیں نظیر بن چکے ہیں راہ عشق کی دخلنؔ یہ کوئی پیر ہیں دیوانگی سے نکلے ہیں

abhi abhi huaa ham tirgi se nikle hain

Similar Poets