
Danish Aziz
Danish Aziz
Danish Aziz
Ghazalغزل
mujh ko thapak thapak ke sulaataa rahaa charaagh
مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغ پہلو میں رات بھر مرے بیٹھا رہا چراغ کہتا رہا کہ رات یہ کتنی حسین ہے تیرہ شبی کا گریہ بھی کرتا رہا چراغ سورج کا ایک بار فقط نام کیا لیا مجھ سے تمام رات ہی لڑتا رہا چراغ اس کو مری شکست کی اتنی خوشی ہوئی ہاتھوں پہ ہاتھ مار کے ہنستا رہا چراغ میں اس کی زرد لو میں خدا دیکھتا رہا کمرے میں رات بھر مرے جلتا رہا چراغ تب تک مرے قلم نے فقط روشنی لکھی جب تک ہتھیلی پر مری لکھتا رہا چراغ پہلو میں اس کے کل تری تصویر تھی پڑی غزلیں ترے جمال پہ کہتا رہا چراغ آنکھیں مری بھی سرخ تھیں وہ بھی بجھا بجھا یوں میرے ساتھ ساتھ ہی روتا رہا چراغ میں اس کے پاس بیٹھ کے کہتا رہا غزل اور پورے انہماک سے سنتا رہا چراغ کل اس کے ساتھ میری بڑی گفتگو ہوئی میری کہانی سن کے سسکتا رہا چراغ ترک تعلقات کا میثاق جب ہوا میرے اور اس کے درمیاں بیٹھا رہا چراغ جانے ہوا نے کیا کہا کانوں میں اس کے کل دانشؔ تمام رات مچلتا رہا چراغ
gar subh-dam vo khush-gulu khush-khu nikal paDe
گر صبح دم وہ خوش گلو خوش خو نکل پڑے پھولوں کو چھوڑ چھاڑ کے خوشبو نکل پڑے تیری گلی ہو لوگ ہوں گھنگھرو پہن کے میں ایڑی گھما کے رقص کروں تو نکل پڑے اس نے کسی غزل میں سہارے کی بات کی چاروں طرف سے کتنے ہی بازو نکل پڑے ہم بادہ خوار اہل سبو سکھ کا سانس لیں واعظ کی جیب سے کہیں دارو نکل پڑے خواہش ہے میں خرید لوں غالبؔ کا خستہ گھر اور معجزہ ہو صحن سے اردو نکل پڑے اس گل بدن نے شاخ کو دیکھا جو پیار سے پتوں پہ آنکھیں بن گئیں ابرو نکل پڑے دانشؔ بقائے عشق کا منشور تھام کر وارث نکل پڑے ,کبھی باہو نکل پڑے
insaanon kaa chup kar jaanaa Thiik nahin
انسانوں کا چپ کر جانا ٹھیک نہیں تحریروں کا شور مچانا ٹھیک نہیں تیرا یہ محتاط رویہ کہتا ہے تو نے مجھ کو کچھ پہچانا ٹھیک نہیں یہ ظالم کب تیرے آنسو پوچھیں گے تصویروں سے دل بہلانا ٹھیک نہیں رستے میں کچھ دوست نما سے دشمن ہیں اس گھر تیرا آنا جانا ٹھیک نہیں بادل پھر برسات سے توبہ کر لیں گے پانی میں یوں آگ لگانا ٹھیک نہیں جن باتوں نے پہلے بات بگاڑی تھی ان باتوں کا پھر دہرانا ٹھیک نہیں اس نے میرا نام لکھا ہے بازو پر ہر اک کو یہ بات بتانا ٹھیک نہیں موسم کلیاں پھول نظارے تاک میں ہیں تیرا گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں جب تک میری سانس سلامت ساتھ تو دو زندہ شخص کو یوں کفنانا ٹھیک نہیں کیوں تجھ کو یہ بات سمجھ نا آتی ہے عشق محبت پیار کہا نا ٹھیک نہیں کتنا تجھ کو سمجھایا تھا پیار نہ کر تنہا ہو کر اب پچھتانا ٹھیک نہیں اس کا نام کہیں بھی سن کر لوگوں سے تیری آنکھوں کا بھر آنا ٹھیک نہیں لوگ نہ جانے کیا کیا باتیں سوچیں گے بیٹھے بیٹھے گم ہو جانا ٹھیک نہیں ایسے تو سب لوگ کنارہ کر لیں گے تیرا اتنا غصہ کھانا ٹھیک نہیں دانشؔ چڑیاں کیسے آکر بیٹھیں گی دیواروں پر کانچ لگانا ٹھیک نہیں
mere jaise is basti mein aur bhi paagal rahte hain
میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیں سب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیں کوئل کوا چیل کبوتر طوطا مینا چڑیا مور شام ڈھلے سب چپ چپ بیٹھے اک دوجے کو تکتے ہیں دریا ساگر امبر بادل بارش آندھی دھوپ ہوا سب تیرا بہروپ ہے سائیں تیرا نام ہی جپتے ہیں خالی کرسی دو کپ چائے سبزہ خوشبو بوندا باندی صبح سویرے مجھ سے مل کر تیری باتیں کرتے ہیں ہجر اداسی وحشت آنسو آوارہ پن بے زاری شوریدہ دل چاک گریباں سب الفت کے جھگڑے ہیں ساغرؔ میرؔ فرازؔ اور غالبؔ مومنؔ داغؔ قتیلؔ اور فیضؔ اوڑھ کے مصرعے نظمیں غزلیں چین سکون سے سوتے ہیں باتیں یادیں راتیں آنکھیں بانہیں آہیں فریادیں سونے گھر کے اک کونے میں اکثر مل کر روتے ہیں چاند ستارے جگنو سورج پریاں جن اڑتے پنچھی سب دھرتی پر آکر دانشؔ اس کے پاؤں کو چھوتے ہیں
ho jaaein kisi ke jo kabhi yaar munaafiq
ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافق سمجھو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافق بن جاتا ہے کیسے کوئی سالار منافق یہ بات سمجھنے کو ہے درکار منافق ممکن تھا کبھی ان کو میں خاطر میں نہ لاتا ہوتے جو مقابل مرے دو چار منافق ان کو کسی بازار سے لانا نہیں پڑتا یاروں میں ہی مل جاتے ہیں تیار منافق ناپید ہوا جاتا ہے اخلاص یہاں پر سردار منافق ہے سر دار منافق جو شخص منافق ہے منافق ہی رہے گا اک بار منافق ہو یا سو بار منافق سچائی زباں کاٹ کے چپ چاپ کھڑی ہے شہرت کی بلندی پہ ہیں اخبار منافق لکھا ہے منافق نے منافق کا فسانہ اس واسطے رکھے ہیں یہ کردار منافق جس شہر کی بنیاد منافق نے ہو رکھی قائم وہاں ہو جاتی ہے سرکار منافق مخلص ہیں جو کھل کر مری تائید کریں گے بھڑکیں گے یہ سن کر مرے اشعار منافق دانشؔ یہ حقیقت ہے بھلے مانو نہ مانو اخلاص کا طے کرتے ہیں معیار منافق
tumhaare chehre ki dilkashi se kali gumaan ki khili hui hai
تمہارے چہرے کی دل کشی سے کلی گماں کی کھلی ہوئی ہے تمہاری یادوں کی بارشوں سے زمین ہجراں دھلی ہوئی ہے یہ جاگنے کی تمہاری عادت ابھی تلک ہے وہ پہلے جیسی تمہارے بستر کی اجلی چادر بھی سلوٹوں سے بھری ہوئی ہے جو ہو سکے تو کوئی نشانی بطور تحفہ ہی بھیج دینا تمہاری بھیجی ہوئی وہ ٹائی پہن پہن کر پھٹی ہوئی ہے بچھڑتے لمحے چھپا کے سب سے جو تم نے بستر پہ پھینک دی تھی تمہاری تصویر طاقچے میں ابھی تلک وہ رکھی ہوئی ہے تمہارے ہوتے ہوئے بھی دیکھو میں خود کو تنہا سمجھ رہا ہوں مجھے تو لگتا ہے یہ جدائی مرے بدن سے سلی ہوئی ہے یہ میرے احباب پوچھتے ہیں بتاؤ ان کو میں کیا کہوں اب یہ کون لڑکی تمہارے پہلو میں سج سنور کر کھڑی ہوئی ہے وہ کچھ دنوں سے کسی کے غم میں اداس چہرہ لیے ہوئے ہے قسم خدا کی میں کیا بتاؤں مری تو جاں پہ بنی ہوئی ہے کہ چھوڑو دانشؔ کی بات چھوڑو مجھے سناؤ کہ کیا لکھا ہے وہ خاک تیری غزل سنے گا اسے تو اپنی پڑی ہوئی ہے





