SHAWORDS
Darshan Dayal Parwaz

Darshan Dayal Parwaz

Darshan Dayal Parwaz

Darshan Dayal Parwaz

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

کیا کرے یا نہ کیا کرے کوئی چپ رہے یا گلہ کرے کوئی کس کا شکوہ گلہ کرے کوئی کوئی داؤد ٹھاکرے کوئی آئے کیا کیا مرے تصور میں کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی اس قدر ہیں بھرشٹ سرکاریں کیوں نہ محشر بپا کرے کوئی رونے بھی چین سے نہیں دیتے غم گساروں کا کیا کرے کوئی کوئی امید ہے نہ امکاں ہے ایسی صورت میں کیا کرے کوئی تو نے پروازؔ کیا کسی کا کیا کیوں تری واہ وا کرے کوئی

kyaa kare yaa na kyaa kare koi

غزل · Ghazal

چاہے مانو برا ہم نہیں مانتے پتھروں کو خدا ہم نہیں مانتے جس کے ہونے نہ ہونے کی تصدیق ہو اس خدا کو خدا ہم نہیں مانتے مانتے ہیں اسے جو دکھائی نہ دے اور کوئی خدا ہم نہیں مانتے چاہے کتنا ہی مشکل ہو جینا اسے زندگی کو سزا ہم نہیں مانتے اپنے اعمال کی بھی ہے کچھ تو خطا سب ہے رب کی رضا ہم نہیں مانتے ہم کو خود بھی نہیں کچھ پتا دوستو مانتے بھی ہیں یا ہم نہیں مانتے مانتے ہیں بری عادتوں کا برا غلطیوں کا برا ہم نہیں مانتے ہم سمجھتے ہیں سر پر چڑھانا برا پیار کا تو برا ہم نہیں مانتے مے کے پینے سے کتنی بھی راحت ملے مے کا پینا بجا ہم نہیں مانتے دوش دے سکتے ہیں اپنی تقدیر کو یار کو بے وفا ہم نہیں مانتے مان سکتے ہیں ہم اس کو اک خوف ہی کچھ ہے رب سے بڑا ہم نہیں مانتے کیوں یہی کچھ ہی پروازؔ اکثر کہو میں نہیں مانتا ہم نہیں مانتے

chaahe maano buraa ham nahin maante

غزل · Ghazal

دنیا کے مسائل سے ہر وقت گھرا ہونا مشکل تو بہت ہوگا دنیا کا خدا ہونا امید کے دامن کو چھوڑا بھی نہیں جاتا لگتا تو ہے نا ممکن وعدے کا وفا ہونا جتنی بھی خطائیں ہیں یا رب ہیں جوانی کی جب بس میں نہیں ہوتا اچھا کہ برا ہونا دشرتھ کی طرح دنیا چھوڑی بھی نہیں جاتی تکلیف تو دیتا ہے اپنوں سے جدا ہونا بے کار بناتا ہے بے حال بناتا ہے انسان کا اپنی ہی نظروں سے گرا ہونا امید ہے ان کو بھی شاید مرے آنے کی اتنا تو بتانا ہے دروازے کا وا ہونا ہونا تو ضروری ہے ہر روز عبادت کا اچھا بھی نہیں لگتا ہر روز گلہ ہونا کیا ان کو سکھائے گا کیا ان کو بنائے گا تلواروں کے سائے میں بچوں کا بڑا ہونا یاروں کی محبت ہے تیرا بھی کرم یا رب پروازؔ سے انساں کو ہر شے کا ملا ہونا

duniyaa ke masaail se har vaqt ghiraa honaa

غزل · Ghazal

غیر سے ہی کیوں گلہ شکوہ رہے مشکلوں میں اپنا کب اپنا رہے روٹھنے کے وقت یہ رکھو خیال لوٹ کر آنے کا کچھ رستہ رہے چاہے کچھ بھی ہو تعلق عرش سے فرش سے انسان کا رشتہ رہے ہر کسی کے دل میں ہو یہ آرزو دوستوں سے قد مرا اونچا رہے جھوٹا وعدہ کرنے کو سمجھو گناہ چاہے حالت کتنی بھی خستہ رہے پیری میں کرنے لگے ہیں حجتیں عمر بھر پروازؔ بے پروا رہے

ghair se hi kyon gila-shikva rahe

غزل · Ghazal

سونا چاندی ہی نہ لائے ہو نہ گوہر لائے جا کے تم چاند سے لائے بھی تو پتھر لائے کون سا کام ہے دشوار تصور کے لئے یہ اگر چاہے تو چلو میں سمندر لائے وقت کیا شے ہے خدایا تری رحمت کیا شے لوگ کہتے ہیں کہ ہر چیز مقدر لائے اور کچھ بھی تو نہیں پاس دعاؤں کے سوا ہم ترے واسطے جو بھی تھا میسر لائے عشق میں جان کا دینا بھی عبث باتیں ہیں عشق میں توڑ کے کوئی بھی نہ اختر لائے فائدے ہم ہی اٹھا پائے نہ رب تو ورنہ اپنے بندوں کے لئے سینکڑوں اوسر لائے پیار کچھ اور ہی ہے چیز اطاعت کچھ اور جو محبت سے ملے وہ نہ تکبر لائے یوں تو گن گان ترے ہوتے ہیں گھر گھر لیکن کوئی اب گھر میں نہ باپو ترے بندر لائے گو تمہاری بھی غزل عمدہ ہے پروازؔ مگر آج کچھ شعرا غزل تم سے بھی بہتر لائے

sonaa chaandi hi na laae ho na gauhar laae

غزل · Ghazal

جان کو خطرہ کبھی ایمان کو کوئی سمجھائے دل نادان کو کیوں کرے جنت کی کوئی آرزو زندگی پیاری ہے ہر انسان کو بھول جاؤ دوستوں کی بے رخی یاد رکھو غیر کے احسان کو ہم کسی قابل نہیں اس عمر میں اب کوئی خطرہ نہیں ایمان کو اتنی تو پروازؔ میں توفیق ہے مات دے سکتا ہے یہ شیطان کو

jaan ko khatra kabhi imaan ko

Similar Poets