
Dashmesh Gill Firoze
Dashmesh Gill Firoze
Dashmesh Gill Firoze
Ghazalغزل
rahaa na jab koi hiila tujhe bhulaane kaa
رہا نہ جب کوئی حیلہ تجھے بھلانے کا پکڑ لیا گیا رستہ شراب خانے کا خموشیٔ شب تیرہ نے کر دیا پاگل وگرنہ شوق تھا کس کو مکاں جلانے کا خدا نئی کوئی دنیا بنا رہا ہوگا سو اس کو وقت نہیں اب زمیں پہ آنے کا مری فنا میں تو شامل تھا ساتھ غیروں کے سو کوئی نام نہیں میں زباں پہ لانے کا میں اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوں پاس مرے نہیں ہے وقت کسی اور کو منانے کا کہا ہے سب نے میں صحرا میں جا کے بس جاؤں وہی خیال ہے میرا جو ہے زمانے کا تصور غم ہجراں میں مبتلا ہو کر میں وصل کے حسیں لمحے نہیں گنوانے کا ہر ایک دور کا ہر زخم ہے عزیز ہمیں نہیں ہے فرق ہمیں اب نئے پرانے کا یہ شام اور یہ شرابیں یہ محفل یاراں یہی تو وقت ہے دن بھر کے غم بھلانے کا
sahraa hai ye hayaat yahaan ghar na DhunDhiye
صحرا ہے یہ حیات یہاں گھر نہ ڈھونڈیئے سو جائیے زمین پہ بستر نہ ڈھونڈیئے بنتے بکھرتے دائروں کے درمیاں کہیں پانی میں جو گرا تھا وہ کنکر نہ ڈھونڈیئے ان کو ستارے لے گئے ہوں گے سر فلک میداں میں جو قلم ہوئے وہ سر نہ ڈھونڈیئے تشنہ لبی کے جشن میں پیاسے ہی ناچیے جام و سبو و مینا و ساغر نہ ڈھونڈیئے ماضی کو اب نہ ڈھونڈیئے ان آئنوں میں آپ لگنے لگے گا آپ ہی سے ڈر نہ ڈھونڈیئے
shahr-e-ummid se kab koi sadaa aati hai
شہر امید سے کب کوئی صدا آتی ہے سمت صحرا سے فقط گرم ہوا آتی ہے اس ندی نے تو کئی عشق ڈبائے ہوں گے اس کی لہروں سے تبھی بوئے حنا آتی ہے جب تجھے بھولنے بیٹھیں تو نظر چپکے سے بادلوں میں تری تصویر بنا آتی ہے دل تو کہتا ہے بلا لوں میں قضا کو اپنی درمیاں روز مگر میری انا آتی ہے زہر سقراط کو ہم پھر سے پلا دیں لیکن زہر پی کر اسے جینے کی ادا آتی ہے قیس پر سنگ تو پھینکو یہ مگر یاد رہے جس جگہ عشق مرے واں پہ وبا آتی ہے اک دریچہ ہے جو کھلتا ہے تمہاری جانب حجرۂ قلب میں یک طرفہ ہوا آتی ہے
ai mire thakte hue saae na kar takraar tu
اے مرے تھکتے ہوئے سائے نہ کر تکرار تو اب سفر میں رہ گیا ہے اک مرا غم خوار تو اس قدر مصروف تھا وہ شخص اس نے ایک دن خود سے پوچھا آج کل رہتا کہاں ہے یار تو بیٹھے بیٹھے یوں سرہانے کب سے مجھ بیمار کے دیکھ میری موت خود لگنے لگی بیمار تو چھوڑ کر زنداں میں تجھ کو وہ تو کب کے جا چکے جن کی تصویریں بناتا ہے سر دیوار تو ہو رہا ہوں جو سر صحرا ذلیل و خوار میں اے کتاب عشق اس حالت کی ذمہ دار تو سر نہ خم کرنے کی عادت کے نتائج دیکھ لے مشتہر ہے اب سر کوئے صلیب و دار تو
saae ke liye apnaa shajar le ke chale hain
سائے کے لیے اپنا شجر لے کے چلے ہیں ہم گھر سے ہی سامان سفر لے کے چلے ہیں ہم لے کے چلے جو بھی جہاں میں تھا ہمارا ہم اپنے سبھی عیب و ہنر لے کے چلے ہیں دو لوگ ہمیں لائے تھے اک روز جہاں میں اور آج ہمیں چار بشر لے کے چلے ہیں مانا کہ نہیں مشعلیں ظلمت کے سفر میں آنکھوں میں مگر خواب سحر لے کے چلے ہیں کل جس سے گرے ٹوٹ کے وہ شاخ جدھر ہے جھونکے ہمیں پھر آج ادھر لے کے چلے ہیں آیا ہے عدو پھول لیے اور ادھر ہم سرحد کی طرف تیغ و سپر لے کے چلے ہیں دامن میں ہے صحرا سے کمائی ہوئی دولت ہم زخم نہیں لعل و گہر لے کے چلے ہیں یہ پھول یہ ریشم کا کفن قبر میں یارو ہم کو نہیں درکار مگر لے کے چلے ہیں
vaqt zaalim ne mulaaqaat nahin hone di
وقت ظالم نے ملاقات نہیں ہونے دی خود سے اک پل بھی مری بات نہیں ہونے دی اس کی سیلن مرے سینے میں جمی ہے اب تک میری آنکھوں نے جو برسات نہیں ہونے دی تیرے ہر زخم کو غزلوں میں پرو رکھا ہے میں نے ضائع تری سوغات نہیں ہونے دی نذر آتش کیا ہر شام نیا گھر کوئی ہم نے بستی میں کبھی رات نہیں ہونے دی میرے پتے بھی مرے ساتھ لڑے پت جھڑ سے میرے لشکر نے مری مات نہیں ہونے دی گھیر لی چند پرندوں نے زمین گلشن اس پہ تعمیر عمارات نہیں ہونے دی سر کو جھکنے نہ دیا ہر کسی در پر ہم نے سرکشی نذر رسومات نہیں ہونے دی تجھ سے وعدہ تھا سو سینے میں جلن ہوتے ہوئے شام غم غرق خرابات نہیں ہونے دی





