SHAWORDS
Davarka Das Shola

Davarka Das Shola

Davarka Das Shola

Davarka Das Shola

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

apnon ke sitam yaad na ghairon ki jafaa yaad

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد پی لی تو خدا ایک تماشا نظر آیا آیا بھی تو آیا ہمیں کس وقت خدا یاد اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

غزل · Ghazal

zaraa nigaah uThaao ki gham ki raat kaTe

ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے شب فراق ہے شمع امید لے آؤ کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے کہاں ہو میکدے والو ذرا ادھر آؤ ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہؔ کی کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے

غزل · Ghazal

nahin kahte kisi se haal-e-dil khaamosh rahte hain

نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیں کہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیں وہ جن پر فخر ہے فرزانگی کو نکتہ دانی کو تری محفل میں ایسے چند دیوانے بھی آتے ہیں ادب کرتا ہوں مسجد کا وہاں ہر روز جاتا ہوں کہ اس کی راہ میں دو چار میخانے بھی آتے ہیں ہمارے میکدے میں مے بھی ہے ایماں کی باتیں بھی یہیں تو ایک صاحب وعظ فرمانے بھی آتے ہیں نہ گھبرا چاہنے والوں سے یہ تو عین فطرت ہے کہ شمع نور افشاں ہو تو پروانے بھی آتے ہیں

غزل · Ghazal

dil-e-be-muddaaa kaa mudda'aa kyaa

دل بے مدعا کا مدعا کیا اسے یکساں روا کیا ناروا کیا جنہیں ہر سانس بھی اک مرحلہ ہے انہیں راس آئے دنیا کی ہوا کیا کوئی سنتا نہیں ہے مفلسوں کی غریبوں کا پیمبر کیا خدا کیا نگاہ دوست میں جچتا نہیں جب تو پھر میں کیا مرا ذہن رسا کیا بڑا اچھا کیا آج آ گئے تم چلو چھوڑو نہ آئے کل ہوا کیا جو خود دست طلب پھیلا رہا ہو سکھی بھی ہو تو اس کا آسرا کیا اگر مجبور ہے جینے پر انساں تو پھر کیسے کٹے یہ سوچنا کیا

غزل · Ghazal

ek rahzan ko amir-e-kaarvaan samjhaa thaa main

ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی جس جبیں کو بے نیاز آستاں سمجھا تھا میں قافلے کا قافلہ ہی راہ میں گم کر دیا تجھ کو تو ظالم دلیل رہرواں سمجھا تھا میں میرے دل میں آ کے بیٹھے اور یہیں کے ہو گئے آپ کو تو یوسف بے کارواں سمجھا تھا میں اک دروغ مصلحت آمیز تھا تیرا سلوک یہ حقیقت تھی مگر یہ بھی کہاں سمجھا تھا میں زندگی انعام قدرت ہی سہی لیکن اسے کیا غلط سمجھا اگر یار گراں سمجھا تھا میں پھیر تھا قسمت کا وہ چکر تھا میرے پاؤں کا جس کو شعلہؔ گردش ہفت آسماں سمجھا تھا میں

غزل · Ghazal

ziist be-vaaada-e-anvaar-e-sahar hai ki jo thi

زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھی ظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھی عشق برباد کن راحت دل ہے کہ جو تھا شوخیٔ دوست بہ انداز دگر ہے کہ جو تھی آج بھی کوئی نہیں پوچھتا اہل دل کو آج بھی ذلت ارباب نظر ہے کہ جو تھی خود پرستی کا رواج آج بھی ہے عام کہ تھا راستی آج بھی محتاج اثر ہے کہ جو تھی آج بھی جذبۂ اخلاص پریشاں ہے کہ تھا آج بھی دیدہ وری خاک بسر ہے کہ جو تھی آج بھی علم و ہنر کی نہیں کوئی وقعت اب بھی ناقدری اصحاب ہنر ہے کہ جو تھی آج بھی مہر و وفا کی نہیں قیمت کوئی آج بھی منزلت کیسۂ زر ہے کہ جو تھی کامرانی پہ ہے نازاں ہوس ہیچ مدار عاشقی آج بھی با دیدۂ تر ہے کہ جو تھی روح اخلاص تو دربند ہے بے پرسش حال مدحت حسن سر راہ گزر ہے کہ جو تھی صاف گوئی کو سمجھتے ہیں یہاں عیب اب بھی ذہنیت آج بھی آلودۂ شر ہے کہ جو تھی اسپ تازی کو میسر نہیں چارا شعلہؔ اور تن زیبی و آرائش خر ہے کہ جو تھی

Similar Poets