
Deedar Bastawi
Deedar Bastawi
Deedar Bastawi
Ghazalغزل
رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کر میرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کر کھانے پینے کی سب چیزیں مہنگائی کی نذر ہوئیں مہمانوں کے آگے دستر خوان بچا ہے لے دے کر ردی کاغذ کی قیمت میں بچے اس کو بیچ نہ دیں گھر میں جو غالبؔ کا اک دیوان بچا ہے لے دے کر باپ کی ساری جاگیریں تو بانٹ لیں مل کر بیٹوں نے ماں کے حصے میں گھر کا دالان بچا ہے لے دے کر دولت عورت اور شہرت کی دیوانی اس دنیا میں مشکل سے کچھ لوگوں کا ایمان بچا ہے لے دے کر کیا جانے برسات کٹے گی کیسے میرے بچوں کی گھر کی ڈھیری میں تھوڑا سا دھان بچا ہے لے دے کر چل کر اب دیدارؔ وہیں پر گھر اپنا آباد کرو گاؤں میں جو پرکھوں کا اک کھلیان بچا لے دے کر
rang-birangi yaadon kaa gul-daan bachaa hai le de kar
مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئے ہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئے پڑھ کر درود گھر سے سفر کو میں چل پڑا نام نبی نے راہ کے خدشات لے لئے میں اک ہنر کے شہر کا فرزند خاص تھا غربت نے میرے سارے کمالات لے لئے شرم و حیا گھروں سے مٹانے کے ساتھ ساتھ ٹی وی نے مسجدوں کے بھی اوقات لے لئے دولت کی میں ہوس میں ہوا پر سوار تھا شہرت نے میرے ارض و سماوات لے لئے قوموں کو با شعور بنانے کے ساتھ ہی تعلیم نے قدیم رسومات لے لئے پھر دوستوں کی صف میں کوئی زلزلہ نہ ہو غیبت کدوں نے میرے بیانات لے لئے دیدارؔ چار مصرعوں پہ تھا اکتفا مرا غزلوں کے شوق نے مرے قطعات لے لئے
miTTi se jo juDe the vo jazbaat le liye
ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہے اب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہے لہو ہمارا بہت بہ چکا ہے دھرتی پر اب انقلاب کا آنا بہت ضروری ہے بدن پہ خوب ہے پردے کا اہتمام مگر نظر میں شرم کا پردہ بہت ضروری ہے بہت زیادہ خوشی بھی مزہ نہیں دیتی دلوں سے درد کا رشتہ بہت ضروری ہے جو چاہتے ہو محبت میں پختگی آئے کسی سے مل کے بچھڑنا بہت ضروری ہے مرے بغیر ترا ذکر نامکمل ہے دئے کی لو پہ پتنگا بہت ضروری ہے جلا رہا ہے گھروں کو جو بے سبب دیدارؔ اب اس چراغ کا بجھنا بہت ضروری ہے
hamaare zakhm kaa bharnaa bahut zaruri hai
شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیں اس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیں رخ سے نہ ہٹاؤ پردے کو یہ چاند چھپا ہی رہنے دو جل جائے نہ سارا حسن کہیں سورج کی تمازت ٹھیک نہیں اے حسن کی ملکہ ہوش میں آ یہ پیار وفا سب رہنے دے ہم خانہ بدوشوں کی خاطر محلوں سے بغاوت ٹھیک نہیں ہو جائیں نہ ٹکڑے ٹکڑے سب آنکھوں کے سنہرے خواب ترے پتھر کی حویلی کے آگے شیشے کی عمارت ٹھیک نہیں اب مان بھی جا اے دل میرے اس پھول کی خواہش چھوڑ بھی دے جو پھول چمن کی زینت ہو اس پھول کی حسرت ٹھیک نہیں جب جلتے پتنگوں کو دیکھا دیدارؔ تو یہ معلوم ہوا آغاز محبت ٹھیک تو ہے انجام محبت ٹھیک نہیں
shaanon pe na zulfein bikhraao dekho ye sharaarat Thiik nahin
دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیں اب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیں سب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے ایسا لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں کل تو پانے کو تھا بہت لیکن آج کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں ولدیت پوچھتا ہے وہ سب کی جس کے ماں باپ کا پتہ ہی نہیں لاکھ چاہا یزید نے لیکن ایک سر تھا کہ جو جھکا ہی نہیں یوں لگا ہے مجھے مٹانے پر جیسے میرا کوئی خدا ہی نہیں ورنہ دیدارؔ کیا نہیں ہوتا کوئی تجھ سا تجھے ملا ہی نہیں
doston se koi gila hi nahin
اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سے روشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سے خواہشوں کی ارتھیاں اب تو اٹھیں گی شان سے دل لگا بیٹھی ہے میری مفلسی دھنوان سے چھو گیا جو بھول سے ان کے دوپٹے کا سرا خوشبوئیں آنے لگیں سوکھے ہوئے گلدان سے ذہن پر دنیا کی لالچ پھر سے حاوی ہو گئی دے کے مٹی میں ابھی لوٹا تھا قبرستان سے گر وفاداری کی خواہش ہے تو کتے پال لے مت وفا کی آس رکھ اس دور کے انسان سے شرط یہ ہے کچھ زمیں بونے کی خاطر تو ملے جیت لوں گا میں جہاں کو ایک مٹھی دھان سے چھیڑتی ہے یاد تیری جب مجھے پچھلے پہر رونے لگتا ہوں میں لگ کے میرؔ کے دیوان سے جن کو ہو جام شہادت کی طلب دیدارؔ پھر وہ نہیں آتے پلٹ کر جنگ کے میدان سے
ab shikaayat kyaa karein guzre hue tufaan se





