
Deepak Ghazipuri
Deepak Ghazipuri
Deepak Ghazipuri
Ghazalغزل
بادلوں سے عشق کی سب حسرتوں کو چھوڑ کر بوندیں آتی ہیں زمیں پر خواہشوں کو چھوڑ کر گاؤں کی مٹی کی سوندھی خوشبوؤں کو چھوڑ کر ہم کمانے آ گئے اپنی جڑوں کو چھوڑ کر زندگی میں ہم کو اتنے زخم پھولوں سے ملے دل لگایا کانٹوں سے ہم نے گلوں کو چھوڑ کر دور حاضر میں عدالت کا یہی انصاف ہے سارے کاراگار میں ہیں مجرموں کو چھوڑ کر آسماں چھو لیں مگر بنیاد سے لپٹے رہیں پیڑ زندہ رہ نہ پایا ہے جڑوں کو چھوڑ کر ہے فقط دنیا میں اب تو جھوٹ کا ہی کاروبار کون سچ کہتا یہاں ہے آئنوں کو چھوڑ کر
baadalon se 'ishq ki sab hasraton ko chhoD kar
یہی ہے ان کی تمنا تو کر کے دیکھتے ہیں فضا میں خوشبو کے جیسے بکھر کے دیکھتے ہیں محاذ جنگ میں اک دن اتر کے دیکھتے ہیں نہیں وصال میسر تو مر کے دیکھتے ہیں یہ دیکھتے ہیں ہمیں جو ٹھہر کے دیکھتے ہیں ہمارے واسطے کیا کر گزر کے دیکھتے ہیں کہ ان کے دل میں ہے دھوکا نظر فریبی ہے یہ جھوٹ ہے کہ ہمیں آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں چراغ پھر سے جلاتے ہیں یار الفت کے کہ نفرتوں کے چلو پر کتر کے دیکھتے ہیں کہ تتلیوں سے ہی کچھ رنگ ادھار لیتے ہیں چلو نہ خواب میں کچھ رنگ بھر کے دیکھتے ہیں
yahi hai un ki tamanna to kar ke dekhte hain
ہیں سچ یا جھوٹ کے رشتے کبھی نہ دیکھ سکے نقاب میں چھپے چہرے کبھی نہ دیکھ سکے یہ ناخوشی سے وصیت کو دیکھنے والے پتا کے ہاتھ کے چھالے کبھی نہ دیکھ سکے تمہارے عشق کے سپنے ہزار دیکھے پر تمہارا ہاتھ پکڑ کر کبھی نہ دیکھ سکے یوں دیکھنے کو تو نفرت کے شہر دیکھے ہیں جہاں میں پیار کے قصبے کبھی نہ دیکھ سکے کسی فقیر سے صبر و سکوں خرید سکیں ہم اتنے آج بھی پیسے کبھی نہ دیکھ سکے قفس میں قید پرندے اداس بیٹھے ہیں کہ آسمان میں اڑ کر کبھی نہ دیکھ سکے
hain sach yaa jhuuT ke rishte kabhi na dekh sake
یوں غم بیٹھے ہیں سرہانے ہمارے کہ جیسے دوست ہیں سچے ہمارے ہماری راہ ہم سے پوچھتی ہے ہوئے کیوں گمشدہ سپنے ہمارے ملے گی منزل مقصود اک دن ہیں کہتے پاؤں کے چھالے ہمارے ابھی خاموش رہنا لازمی ہے ابھی گردش میں ہیں تارے ہمارے تمہاری یاد میں روئیں گی آنکھیں تمہیں ڈھونڈھیں گے آئینے ہمارے ہمیں تب غیر بھی اپنا کہیں گے کہ دن آئیں گے جب اچھے ہمارے وراثت میں ملی دولت سبھی کو ہیں ذمہ داریاں حصے ہمارے ہمیں ہی آنکھ اب دکھلا رہے ہیں کہ یہ شطرنج کے پیادے ہمارے
yuun gham baiThe hain sirhaane hamaare
رفتہ رفتہ پگھل رہا ہوں میں ایک عرصے سے جل رہا ہوں میں سو گئی نیند ہار کر مجھ سے اب بھی کروٹ بدل رہا ہوں میں ہائے قسمت سے ٹھوکریں کھا کر گر رہا ہوں سنبھل رہا ہوں میں خود کی ارتھی اٹھا کے کاندھے پر خیر تنہا ہی چل رہا ہوں میں آج بکھرا ہوا ہوں لفظوں میں کل مسلسل غزل رہا ہوں میں
rafta-rafta pighal rahaa huun main
شام ڈھلے جب پاپا گھر میں آتے تھے ڈر کے مارے ہم پڑھنے لگ جاتے تھے ہم دو بھائی ایسے پیار جتاتے تھے اک روٹی میں آدھا آدھا کھاتے تھے یاد ہمیں ہیں ہم بچپن میں اماں کے چپل جوتے ڈنڈے سب سہہ جاتے تھے بچپن میں نانی دادی کے قصوں میں پریوں کی نگری میں گھوم کے آتے تھے انتردیسی ایک لفافہ ہوتا تھا جس میں ہم دل کے ارماں لکھ جاتے تھے اس بھائی سے آج مقدمہ لڑتے ہیں جس کی خاطر دنیا سے لڑ جاتے تھے
shaam Dhale jab paapaa ghar mein aate the





