SHAWORDS
Deepak Vikal

Deepak Vikal

Deepak Vikal

Deepak Vikal

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

اس نے بات نہیں کاٹی یوں میرے بات بنانے پر میں بھی ہاں میں ہاں کرتا تھا اس کے ہر افسانے پر جس رشتہ کو زندہ رکھنے کی خاطر میں مرتا تھا پھر اک دن میں جی اٹھا اس رشتے کے مر جانے پر صدموں پر صدمے ملتے ہیں لیکن میری جان جاں رونے تک کا وقت نہیں ہے تیرے اس دیوانے پر میرے بعد یہ دنیا تھوڑی اور ہری ہو جائے گی پیڑ پھلا پھولا کرتے ہیں کچھ شاخیں کٹ جانے پر بس کچھ پل کو آنکھ لڑی تھی ایک سفر کا قصہ تھا پھر سالوں گمراہ رہے ہم اس لڑکی کے جانے پر اس کے رنج و غم سے ساری دنیا کا وہ رشتہ تھا باغ پریشاں ہو جائے جیوں ایک کلی مرجھانے پر ہجر منانے اب کے مجنوں میخانے میں جا بیٹھا لیلیٰ جانے کیا بیتی ہو اس پاگل ویرانے پر

us ne baat nahin kaaTi yuun mere baat banaane par

غزل · Ghazal

اس کی شادی کا وہ منظر وہ تماشہ چھوڑ کر ہم چلے آئے ہیں اس کو رقص کرتا چھوڑ کر جل گئے ہوتے سحر کے خواب گر جگتا نہ میں دھوپ آ بیٹھی تھی بستر پر دریچہ چھوڑ کر ہم سے تو کچھ عادتیں بھی اب تلک چھوٹی نہیں تم چلے آئے ہو پیچھے ایک دنیا چھوڑ کر اس کی باتوں میں صداقت کی مہک روکو اسے سب چلے جائیں گے اس کو بھی اکیلا چھوڑ کر ہائے یہ خوشیوں کا موسم اور یہ کھٹکا ہمیں رت چلی جائے گی اک دن یہ بغیچہ چھوڑ کر اس کھلے آکاش میں بارش کے پھر امکان ہیں گھر چلے آؤ جہاں بھی ہو یہ جھگڑا چھوڑ کر

us ki shaadi kaa vo manzar vo tamaasha chhoD kar

غزل · Ghazal

تمہاری یاد گاہوں سے کنارا کر گئے ہوتے فقط ہوتا یہی ہم پھر کمی سے بھر گئے ہوتے میں وہ بے زار بندہ ہوں جو میرے ساتھ تم رہتے مجھی پر ہنس رہے ہوتے مجھی سے ڈر گئے ہوتے نہ یوں بیٹھے ہوئے ہوتے برے حالوں کی محفل میں ہمارا گھر اگر ہوتا تو کب کے گھر گئے ہوتے کہاں بچتے ہیں اکثر لوگ تنہائی کے عالم میں نہ ہوتے گر ہمارے دوست ہم بھی مر گئے ہوتے

tumhaari yaad-gaahon se kinaaraa kar gae hote

غزل · Ghazal

ایک پتھر پر ندی کے دیر تک بیٹھا ہوا رو رہا تھا میں وہ منظر دیکھ کر سوکھا ہوا ہاں وہی اک شخص میرے واسطے صحرا ہوا جس کی خاطر میں کبھی جھرنا ہوا دریا ہوا بول یہ کیسی محبت ہے کہ تیرے باغ میں ہر کلی نوچی ہوئی ہر پھول ہے روندا ہوا مجھ سے بدلا لینے کا اس کا طریقہ تھا کہ وہ رقص کرتا تھا چھتوں پر زلف لہراتا ہوا

ek patthar par nadi ke der tak baiThaa huaa

غزل · Ghazal

معاف کرنا کہ اور ہمت نہیں کریں گے نہ ہو تماشہ سو رقص وحشت نہیں کریں گے اداس لڑکوں کو کیوں سمجھتی نہیں یہ دنیا اداس لڑکے کبھی شکایت نہیں کریں گے کہاں تلک جوڑیں ٹوٹے دل کو سو طے کیا ہے مکاں گرے تو گرے مرمت نہیں کریں گے وہ لاکھ دشمن سہی ہمارا مگر اصولاً جو در پہ آیا تو ہم فضیحت نہیں کریں گے

mu'aaf karnaa ki aur himmat nahin kareinge

غزل · Ghazal

کچھ باہر کچھ بھیتر بھیتر روتے ہیں عشق میں پڑنے والے اکثر روتے ہیں میگھ گرجتے ہیں اور بارش ہوتی ہے دھرتی پر جب مست قلندر روتے ہیں تیرے ہجر میں ہنستے بھی ہیں گاتے بھی کیسا پاگل پن ہے مل کر روتے ہیں ہم کو تو کچھ مچھوارے بتلاتے ہیں جھیلیں دریا اور سمندر روتے ہیں کچھ لوگوں پر ہوتی ہے رب کی نعمت قسمت والے ہیں جو کھل کر روتے ہیں رونا فن ہے جب سے یہ معلوم پڑا رونے والے ہم سے بہتر روتے ہیں

kuchh baahar kuchh bhitar bhitar rote hain

Similar Poets