SHAWORDS
Deepti Mishra

Deepti Mishra

Deepti Mishra

Deepti Mishra

poet
1Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھر بھی بالکل سچا لگتا ہے جان بوجھ کر دھوکہ کھانا کتنا اچھا لگتا ہے اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں میں پکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر کچا لگتا ہے آپ بناتا ہے پہلے پھر اپنے آپ مٹاتا ہے دنیا کا خالق ہم کو اک ضدی بچہ لگتا ہے اس نے ساری قسمیں توڑیں سارے وعدے جھوٹے تھے پھر بھی ہم کو اس کا ہونا اب بھی اچھا لگتا ہے اسے یقیں ہے بے ایمانی بن وہ بازی جیتے گا اچھا انساں ہے پر ابھی کھلاڑی کچا لگتا ہے

sab kuchh jhuuT hai lekin phir bhi bilkul sachchaa lagtaa hai

غزل · Ghazal

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے تو ہے کب کہا میں نے کہ وہ مل جائے مجھ کو میں اسے غیر نا ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے جل گیا پروانہ گر تو کیا خطا ہے شمع کی رات بھر جلنا جلانا اس کی قسمت ہے تو ہے دوست بن کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے پھر بھی اس ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے دور تھے اور دور ہیں ہر دم زمین و آسماں دوریوں کے بعد بھی دونوں میں قربت ہے تو ہے

vo nahin meraa magar us se mohabbat hai to hai

غزل · Ghazal

دونوں میں کتنا فرق مگر دونوں کا حاصل تنہائی اپنوں میں دوری لاتی ہے وہ شہرت ہو یا رسوائی جیون کے کورے کاغذ پر جینا ہوگا تحریروں میں اجلے پنوں پر سیاہی سے کرنی ہوگی حرف آرائی ہم ہیں اس کا ہی عکس مگر ہے بیچ میں جیون کا درپن جب ٹوٹے گا جیون درپن تب ظاہر ہوگی سچائی پہلے تو خود سے دور کیا پھر سزا سنائی جینے کی جی چکے تو یہ فرمان ملا اب پھر سے ہوگی سنوائی وہ خود میں مکمل ہے تو پھر کیونکر وہ خود میں رہ نہ سکا کیوں بکھر گیا ذرہ ذرہ کیوں سہہ نہ سکا وہ تنہائی

donon mein kitnaa farq magar donon kaa haasil tanhaai

غزل · Ghazal

بے حد بے چینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں پانا کھونا ہنسنا رونا کیا ہے آخر کچھ بھی نہیں اپنی اپنی قسمت سب کی اپنا اپنا حصہ ہے جسم کی خاطر لاکھوں ساماں روح کی خاطر کچھ بھی نہیں اس کی بازی اس کے مہرے اس کی چالیں اس کی جیت اس کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں اس کا ہونا یا نا ہونا خود میں اجاگر ہوتا ہے گر وہ ہے تو بھیتر ہی ہے ورنہ بظاہر کچھ بھی نہیں دنیا سے جو پایا اس نے دنیا ہی کو سونپ دیا غزلیں نظمیں دنیا کی ہیں کیا ہے شاعر کچھ بھی نہیں

be-had bechaini hai lekin maqsad zaahir kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

عجب کشمکش ہے عجب ہے کشاکش یہ کیا بیچ میں ہے ہمارے تمہارے ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت ضرورت کی خاطر مراسم ہیں سارے ہیں چاروں طرف ہی بہت لوگ لیکن حقیقت میں کوئی بھی اپنا نہیں ہے دکھاوا دکھاوا سبھی کچھ دکھاوا دکھاوے میں جیتے ہیں سارے کے سارے بلندی پہ جن کو بھی دیکھا یہ پایا سبھی آسرا ڈھونڈتے پھر رہے ہیں کسے سر پرستی کے قابل سمجھئے جیے جا رہے ہیں خود اپنے سہارے سبھی اپنی اپنی کہے جا رہے ہیں ہمیں ہم سے چھینے لئے جا رہے ہیں ہمیں اپنی خاطر بھی رہنے دو تھوڑا نہیں کوئی اپنا سوا اب ہمارے ہمیں اپنی زد میں ہی رہنا پڑے گا خودی کو خودی میں ڈبونا پڑے گا نہ آپے سے باہر تو آنا سمندر سمندر کو سمجھا رہے ہیں کنارے فقط دوریوں میں ہی ساری کشش ہے کہ نزدیکیوں سے بھرم ٹوٹتے ہیں فلک پہ چمکنا ہے قسمت ہماری زمیں سے یہ کہتے ہیں ٹوٹے ستارے یہ جھوٹے سے رشتے یہ فرضی سے ناتے کہاں تک نبھائیں کہاں تک نبھائیں بہت ہو چکا بس بہت ہو چکا اب کوئی تو بڑھے یہ مکھوٹے اتارے

ajab kashmakash hai ajab hai kashaakash ye kyaa biich mein hai hamaare tumhaare

غزل · Ghazal

میں نے اپنا حق مانگا تھا وہ ناحق ہی روٹھ گیا بس اتنی سی بات ہوئی تھی ساتھ ہمارا چھوٹ گیا وہ میرا ہے آخر اک دن مجھ کو مل ہی جائے گا میرے من کا ایک بھرم تھا کب تک رہتا ٹوٹ گیا دنیا بھر کی شان و شوکت جیوں کی تیوں ہی دھری رہی میرے بیراگی من میں جب سچ آیا تو جھوٹ گیا کیا جانے یہ آنکھ کھلی یا پھر سے کوئی بھرم ہوا اب کے ایسے اچٹا دل کچھ چھوڑا اور کچھ چھوٹ گیا لڑتے لڑتے آخر اک دن پنچھی کی ہی جیت ہوئی پران پکھیرو نے تن چھوڑا خالی پنجرہ چھوٹ گیا

main ne apnaa haq maangaa thaa vo naahaq hi ruuTh gayaa

Similar Poets