SHAWORDS
D

Dilshad Ahmad

Dilshad Ahmad

Dilshad Ahmad

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

شب فرقت میں ہم جب بھی خطوط یار پڑھتے ہیں مراسم صبر سے دل کے اسی لمحہ بگڑتے ہیں نہ ہم کو چھیڑ اے ساون نہیں تو یہ بھی ممکن ہے وہ بادل بھی برس اٹھیں جو سینے میں امڈتے ہیں نظر پڑتی ہے جب جب بھی تمہاری زلف برہم پر ستارے توڑ لانے کو ہمارے ہاتھ بڑھتے ہیں دغا بازی بدل دیتی ہے اکثر رنگ چہروں کا وہ پتے زرد ہوتے ہیں جو شاخوں سے بچھڑتے ہیں تم اپنے ہم زبانوں کی صدائیں سوچ کر سننا یہاں پر لوگ تیتر سے ہی تیتر کو پکڑتے ہیں ریاکاری کا جادو دیر تک چلتا نہیں دلشادؔ کلف والے کڑک کپڑے بھی دھلتے ہی سکڑتے ہیں

shab-e-furqat mein ham jab bhi khutut-e-yaar paDhte hain

4 views

غزل · Ghazal

آدمی بیدار ہونا چاہیے صاحب کردار ہونا چاہیے آسماں آ جائے گا زیر قدم حوصلہ بردار ہونا چاہیے ضبط ہونا چاہیے مثل زمیں عزم کو کوہسار ہونا چاہیے موت کو مد نظر رکھتے ہوئے زندگی سے پیار ہونا چاہیے آزمائش ہے جنون شوق کی راستہ پرخار ہونا چاہیے وصل کی چاہت بڑھاتا ہے یہی ہجر سے بھی پیار ہونا چاہیے

aadmi bedaar honaa chaahiye

4 views

غزل · Ghazal

دماغ عشق میں نا ہی پڑے تو بہتر ہے یہ کام دل کا ہے دل ہی کرے تو بہتر ہے رہیں گے یوں تو سبھی اپنے وقت تک زندہ ضمیر ساتھ میں زندہ رہے تو بہتر ہے یہ بات سچ ہے محبت ہے بے نیاز مگر وفا کے بدلے وفا ہی ملے تو بہتر ہے ہے کام عشق کا تکمیل آرزو لیکن رضائے حسن بھی شامل رہے تو بہتر ہے ہماری پیاس ہے مے سے بجھے بجھے نہ بجھے ہمارے جام میں ساقی ڈھلے تو بہتر ہے بہت ہے یوں تو چراغ امیر بھی دلشادؔ شب فراق مگر دل جلے تو بہتر ہے

dimaagh 'ishq mein naa hi paDe to behtar hai

3 views

غزل · Ghazal

ایسا منظر کوئی قسمت نے دکھایا ہوتا میرے شانوں پہ تری زلف کا سایہ ہوتا یوں چراغوں کو جلا کر نہ بجھایا ہوتا وعدہ جب کر ہی لیا تھا تو نبھایا ہوتا میری آنکھوں کے لیے اشک بنانے والے میرے ہونٹوں کا تبسم بھی بنایا ہوتا روٹھے رہنے کی قسم میں نے کہاں کھائی تھی مان جاتا میں اگر تم نے منایا ہوتا قتل کرنا تھا مجھے شوق سے کرتے لیکن اپنی آغوش کو مقتل تو بنایا ہوتا حسن کچھ اور بھی مغرور ہوا ہے دلشادؔ آئنہ اس کو نہ اے کاش دکھایا ہوتا

aisaa manzar koi qismat ne dikhaayaa hotaa

2 views

غزل · Ghazal

کبھی پیش خدا رکھ دی کبھی پیش بتاں رکھ دی منافق نے جبیں اپنی جہاں چاہی وہاں رکھ دی زبان تلخ بھی منت سماجت پر ہے آمادہ بدل کر وقت نے مغرور کی طرز بیاں رکھ دی بہاروں کو لہو دینے کا جب میں نے صلہ مانگا ہتھیلی پر مری گلچیں نے خاک گلستاں رکھ دی ہوا احساس جب مجھ کو ترے سینے میں پتھر ہے تری تصویر بھی میں نے بتوں کے درمیاں رکھ دی مزاج تشنگی ساقی نے پوچھا جب کہ برجستہ تو پھر بے ساختہ میں نے بھی ہونٹوں پر زباں رکھ دی شکایت کیا بھلا دلشادؔ غیروں سے شکایت کیا اٹھا کر ہم نے خود ہی اک طرف اردو زباں رکھ دی

kabhi pesh-e-khudaa rakh di kabhi pesh-e-butaan rakh di

2 views

غزل · Ghazal

زلف کے سائے میں ہو یا سایۂ شمشیر میں فرق آتا ہی نہیں ہے عشق کی تاثیر میں میری آنکھوں سے اگر تجھ کو مصور دیکھتا اور بھی زیادہ کشش ہوتی تری تصویر میں ان کے نازک ہاتھ سے تو کھنچ نہ پائے گی کماں ہم ہی اپنے دل کو لے جا کر پرو دیں تیر میں دیکھ لینا تم کہ ناجائز کمائی باپ کی ڈال دے گی فرق ماں کے دودھ کی تاثیر میں لوگ تدبیروں کے دم پر خواب پورے کر گئے اور ہم الجھے ہوئے ہیں خواب کی تعبیر میں مان لو دلشادؔ حاصل تھی انہیں معراج عشق بے سبب رانجھا نظر آتا نہیں تھا ہیر میں

zulf ke saae mein ho yaa saaya-e-shamshir mein

1 views

Similar Poets