"samne aap jab bhi aate hain bhuul jaati huun lazmi baten"

Dilshad Naseem
Dilshad Naseem
Dilshad Naseem
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"raat us ko bhi kuchh faraghat thi raat ham ne bhi kiin baDi baten"
raat us ko bhi kuchh faraaghat thi
raat ham ne bhi kiin baDi baatein
saamne aap jab bhi aate hain
bhuul jaati huun laazmi baatein
Ghazalغزل
meri khizaan to sabz hui is khumaar mein
میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں آنے کا اس نے وعدہ کیا ہے بہار میں رکھی ہوئی ہے لاج مری میرے عشق نے ورنہ تو کیا رکھا ہوا ہے انتظار میں گھر بھی مجھے تو دشت سا لگتا ہے تیرے بن لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں اب جو سلوک تو کرے یہ ظرف ہے ترا میں آ گئی ہوں آج ترے اختیار میں روشن نہ ہو سکی کبھی یہ شام غم مری میں نے جلائے دیپ کئی اعتبار میں میری وفا کے ذکر پہ اس کی وہ خامشی سارے جواب مل گئے اس اختصار میں دیکھی تو ہوگی راہ مری اس نے بھی کبھی آیا بھی ہوگا اشک مرے چشم یار میں دیکھا ہے میں نے معجزہ دلشادؔ ایسا بھی ہنسنے سے اس کے گل کھلے ہیں کنج خار میں
vo teraa mujh se kahaa harf harf sach niklaa
وہ تیرا مجھ سے کہا حرف حرف سچ نکلا بھلا میں کون ترا حرف حرف سچ نکلا کہا تھا اس نے محبت فریب ہے دل کا وہ جب بھی دور گیا حرف حرف سچ نکلا انا پرستی میں اپنی مثال آپ تھا وہ جو اس نے چاہا کیا حرف حرف سچ نکلا نہیں ہے کوئی شکایت مجھے زمانے سے مجھے تھا جو بھی گلہ حرف حرف سچ نکلا لکھی تھی اس نے محبت کی بے قراری اور وہ جو بھی لکھ نہ سکا حرف حرف سچ نکلا نہیں ہو تم تو اذیت ہے کاروبار حیات یہ جھوٹ تیرا پیا حرف حرف سچ نکلا
ham aayat-e-quraani us vaqt hi paDhte hain
ہم آیت قرآنی اس وقت ہی پڑھتے ہیں ہو جان ہتھیلی پر طوفاں سے گزرتے ہیں کب تاب نظارہ ہے بس دید کی حسرت ہے مل جاؤ کسی دن تم دن رات تڑپتے ہیں رہتا ہے محبت کو ہر وقت ہی دھڑکا سا موسم کی طرح کہتے ہیں دوست بدلتے ہیں یہ رات کی رانی تو اب میری سہیلی ہے ہم ہنستے ہیں دونوں ہی دونوں ہی مہکتے ہیں دیتے ہیں مجھے ہر دن تاریخ وہ آنے کی وعدوں سے مکرتے ہیں کب عشق وہ کرتے ہیں سوچا ہے تمہیں اتنا پر یاد نہیں کتنا شب یوں ہی گزرتی ہے ہم آہیں ہی بھرتے ہیں ان ریشمی یادوں نے الجھا کے رکھا مجھ کو دن میرے تو اکثر اب راتوں سے الجھتے ہیں جن پیار کے لمحوں سے دل شاد سا رہتا تھا دلشادؔ وہی لمحے رنجور سا کرتے ہیں
ishq kaa bhi qabil hotaa hai
عشق کا بھی قبیل ہوتا ہے درد دل کا کفیل ہوتا ہے یاد آیا نہ کر نمازوں میں میرا سجدہ طویل ہوتا ہے بے وفاؤں کے ذکر میں تیرا تذکرہ بر سبیل ہوتا ہے عرصۂ زیست تم ذرا سوچو ہائے کتنا طویل ہوتا ہے اے شب غم ہر ایک پل تیرا مجھ کو صدیاں مثیل ہوتا ہے اشک جو عشق نے بہایا وہ عاشقوں کا وکیل ہوتا ہے تنہا بے چارہ سا یہ میرا دل تیرے بن اب علیل ہوتا ہے
in aandhiyon ke saath kai ghonsle gae
ان آندھیوں کے ساتھ کئی گھونسلے گئے تم کیا گئے کہ میرے تو سب حوصلے گئے اک خواب میں نے دیکھا تھا پچھلے پہر کوئی اگلے پہر کی نیند کے لو سلسلے گئے اک چاند آسمان پہ اک میرے سامنے ان قربتوں میں دل کے سبھی فاصلے گئے ہیں ہچکیاں بھی غم کی اور آہیں ہیں آنسو بھی دیکھو غریب شہر کہ سب قافلے گئے
yaad karnaa muhaal lagtaa hai
یاد کرنا محال لگتا ہے حافظے کا کمال لگتا ہے گرم ہاتھوں سے آنچ آتی ہے سردیوں کی وہ شال لگتا ہے وقت ہو دوست یا کوئی پل ہو جو بھی گزرا کمال لگتا ہے حبس اتنا ہے میری مٹی میں سانس لینا محال لگتا ہے ہجر برسا ہے آنکھ سے جب بھی مجھ کو بھادوں کا حال لگتا ہے کون دیکھے گا ہاتھ پر قسمت بس لکیروں کا جال لگتا ہے موسم عشق آ گیا ہے کیا دستکوں کا دھمال لگتا ہے بد گمانی ہے اس کی آنکھوں میں دل کے شیشے میں بال لگتا ہے





