SHAWORDS
Dipishikha Sagar

Dipishikha Sagar

Dipishikha Sagar

Dipishikha Sagar

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

saanson ke paasbaan bahut thak chuki huun main

سانسوں کے پاسبان بہت تھک چکی ہوں میں خود کہہ رہی ہے جان بہت تھک چکی ہوں میں امید کے اے دھندھلے ستارے نہ جگمگا اب مت ہو مہربان بہت تھک چکی ہوں میں سانسوں کے دونوں ہاتھوں سے خود اپنے جسم کا تھامے ہوئے مکان بہت تھک چکی ہوں میں پل پل جنون عشق کی منزل کا آپ کو دے دے کے اطمینان بہت تھک چکی ہوں میں مجھ کو بلندیوں سے پکارا گیا تو پھر کہہ دوں گی آسمان بہت تھک چکی ہوں میں دفنا دو مجھ کو میرے ہی ماضی کی قبر میں جی جی کے ورتمان بہت تھک چکی ہوں میں بجھتے ہوئے چراغ سی کہتی ہے اب شکھاؔ اے رب دو جہان بہت تھک چکی ہوں میں

غزل · Ghazal

tum ne puchhaa to bataa deti huun kyon thaa yuun thaa

تم نے پوچھا تو بتا دیتی ہوں کیوں تھا یوں تھا سبب ترک محبت بھی جنوں تھا یوں تھا تم نے آنسو جنہیں سمجھا تھا نہیں تھے آنسو میری آنکھوں سے جو نکلا تھا وہ خوں تھا یوں تھا اس لئے تم نے بھی شاید مری توقیر نہ کی مجھ میں جو شخص دروں تھا وہ بروں تھا یوں تھا یار اب تم ہی مرے حق میں گواہی دے دو ورنہ کس کس کو بتاؤں گی میں یوں تھا یوں تھا اور بھڑک جاتی تھی سینہ میں تیری یاد کی آگ سبب بادہ کشی تیرا فسوں تھا یوں تھا اور کچھ وجہ نہیں تھی مری خاموشی کی دل کو تنہائی کے عالم میں سکوں تھا یوں تھا میں لگاتار کیا کرتی تھی الفت کے سوال اس کی جانب سے شکھاؔ ہاں تھا نہ ہوں تھا یوں تھا

غزل · Ghazal

kise pukaare madad ko kise bulaae badan

کسے پکارے مدد کو کسے بلائے بدن اکیلے عشق کو کیسے سنبھال پائے بدن میں اپنی روح سے ملوا دوں اس کو خوش ہو کر وہ درمیان سے اپنے اگر ہٹائے بدن نہ جانے پھونک دیا کیا شکاری نے پڑھ کر چھری کے نیچے پرندوں نے خود بچھائے بدن کبھی جو دیکھو تو بازار حسن میں جا کر یہاں وہاں رکھے ہوں گے سجے سجائے بدن اندھیرے خوف کے تبدیل ہوں اجالوں میں ہماری قبر میں اے کاش تیرا آئے بدن ارے شعور نہیں ہے اسے تو اتنا بھی چھپائے بھی تو وہ کس طرح سے چھپائے بدن یہ جی میں آتا ہے اب تو اتار کر رکھ دیں کہاں کہاں پھریں آخر ؔشکھا اٹھائے بدن

غزل · Ghazal

phuul khushbu yaa havaa hai fikr ki dahliz par

پھول خوشبو یا ہوا ہے فکر کی دہلیز پر کون دستک دے رہا ہے فکر کی دہلیز پر کشتیاں موجوں سے لڑ کر پار کب کی ہو گئیں ناخدا اب تک کھڑا ہے فکر کی دہلیز پر آج پھر ماضی کی دھن پر رقص ہوگا بزم میں آج پھر سے رتجگا ہے فکر کی دہلیز پر تم نے مجھ کو عشق میں اک دن مسیحا کیا کہا درد کا جمگھٹ لگا ہے فکر کی دہلیز پر لفظ و معنی کے پرندو شور اتنا مت کرو ایک آنسو سو رہا ہے فکر کی دہلیز پر ہو رہی ہے روح تک اک روشنی تحلیل سی کیا کسی کا دل جلا ہے فکر کی دہلیز پر شرط تھی ہر ایک لب پر مہر خاموشی تو پھر حشر سا کیوں کر بپا ہے فکر کی دہلیز پر چاند تارے کہکشاں روشن فلک جگنو چراغ شمس بھی آکر پڑا ہے فکر کی دہلیز پر عشق میں ایسا بھی میں نے وقت دیکھا ہے شکھاؔ زخم خود مرہم ہوا ہے فکر کی دہلیز پر

غزل · Ghazal

kahkashaan ko toD kar saare ke saare aa gae

کہکشاں کو توڑ کر سارے کے سارے آ گئے چاند کو میں نے پکارا تھا ستارے آ گئے سر پھرے سورج کے مرنے کا تماشہ دیکھنے شام کے منظر بھی بالوں کو سنوارے آ گئے یاد جب میں نے کیا ان کو بھرے منجدھار میں خود بہ خود کشتی میں چل کر یہ کنارے آ گئے ہاں یہی سچ ہے بچھڑتے وقت اپنی آنکھ میں ان کی گلیوں کے لیے رنگیں نظارے آ گئے پریم دھن کی بانسری ایسی بجائی شیام نے نفرتوں کے دیوتا بھی منہ اتارے آ گئے میکشوں کی بزم میں تھا رنج و غم پر تبصرہ میں نے دی آواز سب الفت کے مارے آ گئے حمد لکھنے کو قلم جب بھی اٹھائی ہے شکھاؔ لفظ سارے با ادب بانہیں پسارے آ گئے

غزل · Ghazal

ghamon ko apne dabaa ke rakhnaa kamaal hai yaa nahin hai bolo

غموں کو اپنے دبا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو یہ دل کی دولت چھپا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو ہر اک تمنا کی رہ گزر پر مخالفت کی ہوا کے سر پر چراغ الفت جلا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو سمندروں کا مزاج ہو کر زمین چاہت پہ اشک بو کر لبوں پہ خشکی سجا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو رفاقتوں کے اصول جیسے مہکتے خوش رنگ پھول جیسے جگر کو پتھر بنا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو وہ گزرے لمحے وہ سال سارے دئے جو رومال تم نے سارے وہ اپنے دل میں سجا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو وہ روشنی کا سراغ بن کر کھلی چھتوں کا چراغ بن کر خلاف خود کو ہوا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو نئے زمانہ کے قاصدوں سے ہے بچنا کس طرح حاسدوں سے شکھاؔ کو سب کچھ سکھا کے رکھنا کمال ہے یا نہیں ہے بولو

Similar Poets